صومالیہ کا نیا دفاعی رخ — سعودی عرب اور ترکیہ کی شراکت داری
صومالیہ نہ صرف زمینی فوج کی تربیت پر توجہ دے رہا ہے بلکہ وہ اپنی فضائی صلاحیتوں کو بھی جدید بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق صومالیہ پاکستان سے جے ایف-۱۷ تھنڈر بلاک تھری جیٹ طیارے حاصل کرنے کے لیے مذاکرات کر رہا ہے، جنہیں سعودی عرب اور ترکیہ کی حمایت حاصل ہے ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ صومالیہ کی قومی دفاعی ضرورت ہے یا پھر قرن افریقہ میں سعودی-ترک محور کے قیام کا ایک حصہ؟
پس منظر: جے ایف-۱۷ تھنڈر طیاروں کا معاہدہ
صومالیہ جے ایف-۱۷ تھنڈر جیٹ طیارے کیوں خرید رہا ہے؟ صومالیہ پاکستان کے ساتھ جے ایف-۱۷ تھنڈر بلاک تھری طیاروں کی خریداری کے لیے مذاکرات کر رہا ہے۔ یہ معاہدہ پائلٹ کی تربیت، دیکھ بھال کی معاونت، اور آپریشنل تیاری کے پروگراموں پر مشتمل ہے ۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس معاہدے کا مقصد صومالی فضائیہ کی صلاحیتوں کو بڑھانا اور علاقائی سلامتی کے تعاون کو مضبوط کرنا ہے ۔ یہ معاہدہ پاکستان کے بڑھتے ہوئے دفاعی برآمدی منصوبے کو بھی ظاہر کرتا ہے اور اتحادی ممالک کے ساتھ فوجی تعلقات کو مضبوط کرتا ہے ۔
تجزیہ: سعودی-ترک محور کا ظہور
ماہرین کے مطابق ۲۰۲۶ میں قرن افریقہ کی سلامتی کی صورتحال دو بڑے محوروں کے درمیان مسابقت سے تشکیل پائے گی: سعودی عرب-ترکیہ-پاکستان محور اور اسرائیل-متحدہ عرب امارات-بھارت محور ۔
سعودی عرب اور ترکیہ صومالیہ کے لیے اپنی حمایت بڑھا رہے ہیں، جس سے مقدیشو اور صومالی لینڈ کے درمیان کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے ۔ اسرائیل نے دسمبر ۲۰۲۵ میں صومالی لینڈ کو تسلیم کر لیا، جس کے جواب میں سعودی عرب اور ترکیہ نے صومالی وفاقی حکومت کی حمایت کو تیز کر دیا ۔
قرن افریقہ میں ترکیہ کا کردار کیا ہے؟ ترکیہ نے صومالیہ میں ایک فوجی اڈہ قائم کر رکھا ہے اور صومالی حکومت کو ایف-۱۶ طیارے بھی فراہم کیے ہیں ۔ ترکیہ کی یہ موجودگی سعودی عرب کے ساتھ مل کر قرن افریقہ میں ایک متبادل محور کی بنیاد فراہم کر رہی ہے ۔
خطے میں ایک نئی محوری جنگ
یہ محوری جنگ محض فوجی موجودگی تک محدود نہیں ہے بلکہ اس میں معاشی سرمایہ کاری، بندرگاہوں کا کنٹرول، اور بحری راستوں پر غلبہ شامل ہے ۔
صومالیہ نے سعودی عرب کے ساتھ نئے سلامتی معاہدے کرنے کا اعلان کیا ۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ متحدہ عرب امارات صومالی لینڈ کے ساتھ تعلقات کو ترجیح دے رہا تھا، جبکہ صومالی لینڈ کو صومالیہ کا حصہ سمجھا جاتا ہے ۔
نئے معاہدوں کے تحت سعودی عرب اور صومالیہ فوجی اہلکاروں کی تربیت، فوج کی جدید کاری، انٹیلیجنس کے تبادلے، اور بحیرہ احمر اور آبنائے باب المندب کی مشترکہ حفاظت پر تعاون کریں گے ۔
سوڈان کا عنصر اور محوری مسابقت
سوڈان کی خانہ جنگی بھی اس محوری مسابقت کا ایک اہم حصہ ہے۔ سعودی عرب سوڈانی مسلح افواج کی حمایت کر رہا ہے جبکہ متحدہ عرب امارات کو ریپڈ سپورٹ فورسز کی حمایت کا الزام ہے ۔
اسرائیل پر الزام ہے کہ اس نے ۲۰۲۱ میں ریپڈ سپورٹ فورسز اور سوڈانی فوج کی مشترکہ بغاوت کی حمایت کی تھی، جو بالآخر موجودہ خانہ جنگی کا باعث بنی ۔
نتیجہ: قرن افریقہ — ایک نیا محاذ
یہی وجہ ہے کہ صومالیہ میں سعودی عرب کی فوجی موجودگی اور جے ایف-۱۷ طیاروں کا معاہدہ محض ایک فوجی تعاون نہیں بلکہ قرن افریقہ میں سعودی-ترک محور اور اسرائیل-اماراتی محور کے درمیان ایک نئی جنگ کا آغاز ہے۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو صومالیہ مستقبل میں ایک ایسے ملک میں تبدیل ہو سکتا ہے جہاں مختلف طاقتیں اپنے مفادات کے لیے ایک دوسرے کے خلاف کھڑی ہوں گی۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
صومالیہ جے ایف-۱۷ تھنڈر جیٹ طیارے کیوں خرید رہا ہے؟
صومالیہ پاکستان سے جے ایف-۱۷ تھنڈر بلاک تھری طیارے حاصل کرنے کے لیے مذاکرات کر رہا ہے تاکہ اپنی فضائیہ کو جدید بنایا جا سکے۔ اس معاہدے میں پائلٹ کی تربیت اور دیکھ بھال کی معاونت شامل ہے ۔
قرن افریقہ میں ترکیہ کا کردار کیا ہے؟
ترکیہ نے صومالیہ میں ایک فوجی اڈہ قائم کر رکھا ہے اور صومالی حکومت کو ایف-۱۶ طیارے فراہم کیے ہیں۔ ترکیہ سعودی عرب کے ساتھ مل کر قرن افریقہ میں ایک متبادل محور کی بنیاد فراہم کر رہا ہے ۔
قرن افریقہ میں محوری مسابقت کا سوڈان پر کیا اثر ہے؟
سعودی عرب سوڈانی فوج کی حمایت کر رہا ہے جبکہ متحدہ عرب امارات کو ریپڈ سپورٹ فورسز کی حمایت کا الزام ہے، جس سے سوڈان کی خانہ جنگی مزید پیچیدہ ہو گئی ہے ۔

Comments
Post a Comment