پاکستان اور سعودی عرب پر ٹرمپ کی دباؤ کی سیاست اور فلسطینیوں کا مستقبل
مشرق وسطیٰ کا سیاسی نقشہ ایک بار پھر تیزی سے بدل رہا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری امن مذاکرات کو ایک ایسی غیر متوقع شرط سے منسلک کر دیا ہے جس نے پورے خطے میں ہلچل مچا دی ہے۔ ٹرمپ نے واضح کر دیا ہے کہ ایران کے ساتھ کوئی بھی معاہدہ اس وقت تک حتمی نہیں ہو گا جب تک سعودی عرب، پاکستان، قطر، ترکی، مصر اور اردن سمیت آٹھ ممالک ابراہیمی معاہدوں کا حصہ نہیں بن جاتے۔ یہ مطالبہ اتنا اچانک اور سخت تھا کہ ایک ٹیلی فونک کال کے دوران جب ٹرمپ نے یہ شرط رکھی تو لائن کے دوسری طرف مکمل خاموشی چھا گئی۔ یہ خاموشی دراصل ان ممالک کی پریشانی اور مزاحمت کی واضح علامت تھی۔ یہی وجہ ہے کہ یہ معاملہ محض سفارتی کارروائی نہیں بلکہ ایک طاقت کا کھیل ہے جس میں ٹرمپ نے جنگ کے خاتمے کی خوشخبری کو ڈرامائی انداز میں "بڑی اور زیادہ طاقتور جنگ" کی دھمکی سے بدل دیا ہے۔ ابراہیمی معاہدے کیا ہیں اور ٹرمپ نے انہیں کیوں چنا؟ ابراہیمی معاہدے وہ تاریخی معاہدے تھے جو ٹرمپ کی پہلی صدارت کے دوران سن ۲۰۲۰ء میں متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان نے اسرائیل کے ساتھ دستخط کیے تھے، جس کے تحت عرب ممالک نے ...