Posts

Showing posts from June, 2026

سوڈان میں فوجی بغاوت کی ناکام کوشش: اندرونی ٹوٹ پھوٹ کی کہانی

Image
سوڈان میں فوجی بغاوت کی کوشش کو حال ہی میں ناکام بنایا گیا ہے، جس نے پوری دنیا کی توجہ اس افریقی ملک کی طرف مبذول کر دی ہے۔ فوج کے اندر بڑھتی ہوئی بے چینی اور سیاسی کشمکش نے ایک بار پھر اس بات کے امکانات پیدا کر دیے ہیں کہ سوڈان خانہ جنگی کی طرف بڑھ رہا ہے۔ برہان نے فوج میں اسلامی تحریک کے خلاف مہم کیوں شروع کی؟ جنرل عبدالفتاح البرہان نے گزشتہ چند ماہ کے دوران فوج میں موجود اسلامی تحریک سے تعلق رکھنے والے افسران کے خلاف کارروائی تیز کر دی تھی۔ درحقیقت، مسلم برادران کو دہشت گرد تنظیم قرار دیے جانے کے بعد برہان پر قانونی اور سیاسی دباؤ تھا کہ وہ فوج کو 'اسلامی اثرات' سے پاک کرے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اعلیٰ عہدوں پر فائز متعدد افسران کو ہٹانا شروع کر دیا۔ مسلم برادران کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کے کیا اثرات ہوئے؟ مسلم برادران کی بلیک لسٹنگ نے سوڈان کی سیاست کو یکسر تبدیل کر دیا۔ اس فیصلے کے بعد برہان نے نہ صرف عام شہریوں بلکہ فوجی افسران تک کو گرفتار کرنا شروع کر دیا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ کارروائی قانونی تھی یا سیاسی؟ ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ بیرونی طاقتوں کے دباؤ کا...

جرمن چانسلر فریڈرک مرز کا خطرناک اعلان: "۸۰ فیصد شامی باشندے تین سال میں ڈیپورٹ

Image
جرمنی کی سیاسی فضا میں ایک نیا طوفان اٹھ کھڑا ہوا ہے۔ جرمن چانسلر فریڈریش فریڈرک مرز نے اپنے ایک حالیہ بیان سے نہ صرف اپنی حکومت میں شامل جماعتوں کو ناراض کیا ہے بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی ایک نیا تنازعہ کھڑا کر دیا ہے۔ برلن میں شام کے عارضی صدر احمد الشرع سے ملاقات کے بعد فریڈرک مرز نے کہا کہ اگلے تین سالوں میں جرمنی میں مقیم ۸۰ فیصد شامی مہاجرین کو اپنے وطن واپس لوٹ جانا چاہیے ۔ یہ بیان اتنا اہم ہے کہ اس پر خود فریڈرک مرز کی جماعت کرسچن ڈیموکریٹک یونین کے اندر بھی تحفظات پائے جا رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ آخر اس بیان میں اتنا کیا تھا کہ پورے جرمنی کی سیاسی جماعتیں اس پر متحد ہو کر تنقید کر رہی ہیں؟ اور کیا واقعی ۸۰ فیصد شامی مہاجرین جرمنی چھوڑنے پر مجبور ہوں گے؟ آئیے اس پورے معاملے کو تفصیل سے سمجھتے ہیں۔ پس منظر: فریڈرک مرز نے ایسا کیا کہا؟ برلن میں شامی صدر احمد الشرع سے ملاقات کے بعد ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جرمن چانسلر فریڈریش فریڈرک مرز نے کہا: "اگلے تین سالوں کے طویل مدتی تناظر میں، اور یہ صدر الشرع کی خواہش بھی تھی، کہ جرمنی میں مقیم تقریباً ۸۰ فیصد شامی باشندوں ک...

روٹی اور جان کی جنگ: کیا خلیج میں کام کرنا اب موت کا سودا ہے؟

Image
یہ وہ سوال ہے جو آج خلیجی ممالک میں کام کرنے والے لاکھوں ایشیائی مزدوروں کے ذہن میں بار بار گونج رہا ہے۔ خلیجی ممالک میں پاکستانی مہاجر مزدوروں کی مشکلات ایک تلخ حقیقت بن چکی ہیں جہاں ایران اور امریکہ/اسرائیل کے درمیان جاری جنگ نے ان کے سنہرے خوابوں کو خاک میں ملا دیا ہے۔  دسمبر ۲۰۲۵ میں شروع ہونے والی اس جنگ کے نتیجے میں اب تک کئی معصوم مزدور اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔  خلیجی ممالک میں کتنے پاکستانی مزدور کام کر رہے ہیں؟ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ خلیج تعاون کونسل (GCC) کے ممالک یعنی سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، کویت، بحرین اور عمان میں مقیم کل آبادی کا بڑا حصہ مہاجر مزدوروں پر مشتمل ہے۔ کل ۶۲ ملین آبادی میں سے تقریباً ۳۵ ملین غیر ملکی ہیں۔  پاکستان تنہا تقریباً ۴.۹ ملین مزدور ان ممالک میں بھیج چکا ہے جو ملک کے لیے زرمبادلہ کی سب سے بڑی کڑی ہیں۔  یہ تعداد صرف اعداد و شمار نہیں بلکہ ان گھرانوں کی کہانیاں ہیں جو ان کی ماہانہ ترسیلات پر منحصر ہیں۔  ایران اور امریکہ کی جنگ کا خلیجی مزدوروں پر کیا اثر ہے؟ یہ جنگ ان مزدوروں کے لیے ایک بھیانک صورت حال بن ک...

خلیجی ممالک کی دانشمندانہ حکمت عملی: ایرانی عوام اور حکومت میں فرق

Image
مشرق وسطیٰ کے موجودہ پیچیدہ منظر نامے میں خلیجی ممالک کی حکمت عملی کو سمجھنے کے لیے ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ یہ ریاستیں کبھی بھی ایرانی عوام کی مخالف نہیں رہیں۔ درحقیقت، خلیجی دارالحکومتوں میں لاکھوں ایرانی شہری کام اور رہائش پذیر ہیں۔ اصل چیلنج وہ پالیسیاں ہیں جو تہران کے موجودہ حکمران ڈھانچے نے اپنا رکھی ہیں۔   جے ایس ٹریبیون کے مطابق، خلیجی ریاستیں ایرانی انقلابی گارڈز کے علاقائی عزائم، بیلسٹک میزائل پروگرام، اور عراق، شام، لبنان اور یمن میں اس کے پراکسی نیٹ ورکس کو اپنی بقا کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھتی ہیں۔ خلیجی ممالک کو ایران سے کیا خطرات لاحق ہیں؟ یہ سوال کسی بھی خلیجی دفاعی تجزیے کی بنیاد ہے۔ خلیجی ممالک کو ایران سے تین سطحوں پر خطرات ہیں: پہلا، براہ راست فوجی خطرہ جس میں میزائل اور ڈرون حملے شامل ہیں۔ دوسرا، غیر روایتی خطرہ جس میں ہارمز، عراق اور شام میں ملیشیا شامل ہیں۔ تیسرا، اقتصادی خطرہ جس میں آبنائے ہرمز میں جہاز رانی میں رکاوٹیں پیدا کرنا شامل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خلیجی حکومتیں ہمیشہ ایرانی عوام کے ساتھ سفارتی اور تجارتی تعلقات کی حامی رہی ہیں، لیکن موجودہ حکومتی ڈھا...

پاک چین ۷۵ سال سفارتی تعلقات: ایک تاریخی سنگ میل اور مستقبل کی راہیں

Image
۲۱ مئی ۲۰۲۶ کو پاک چین ۷۵ سال سفارتی تعلقات مکمل ہو گئے۔ یہ دوستی ۲۱ مئی ۱۹۵۱ کو اس وقت وجود میں آئی جب دونوں ممالک نے باضابطہ طور پر سفارتی تعلقات قائم کیے۔ تب سے لے کر آج تک یہ رشتہ وقت کے ہر طوفان میں ثابت قدم رہا ہے۔ پاکستان اور چین کی دوستی کو دنیا میں دو ریاستوں کے درمیان سب سے مضبوط اور بے مثال تعلق قرار دیا جاتا ہے۔ پاک چین دوستی کی ۷۵ ویں سالگرہ کیسے منائی جا رہی ہے؟ اس تاریخی موقع پر پورے پاکستان میں تقریبات کا سلسلہ جاری ہے۔ کراچی میں قائداعظم ہاؤس میں ایک شاندار تقریب منعقد ہوئی جس میں دونوں ممالک کے سفارت کاروں، پیشہ ور افراد اور معززین نے شرکت کی۔ اسی تناظر میں سندھ کے محکمہ داخلہ اور چینی قونصل خانے کے درمیان اعلیٰ سطحی اجلاس بھی ہوا، جس میں دونوں طرف سے اس سنگ میل پر مبارکباد کا تبادلہ کیا گیا۔ چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے سندھ حکومت نے کیا اقدامات کیے ہیں؟ سندھ کے وزیر داخلہ و قانون ضیاء الحسن لنجار نے اجلاس میں واضح کیا کہ صوبے میں چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے ”صفر رواداری“ کی پالیسی مکمل طور پر فعال ہے۔ انہوں نے بتایا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور چینی قونصل خان...