Posts

Showing posts from September, 2025

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں وزیرِاعظم پاکستان کا خطاب

Image
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80ویں اجلاس میں وزیرِاعظم پاکستان شہباز شریف نے اپنے خطاب میں فلسطین کے مسئلے پر فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا اور اسرائیلی اقدامات کو "بے قابو رویہ" قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ غزہ میں جاری فوجی کارروائیاں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں ہیں اور عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر جنگ بندی کو یقینی بنائے۔ وزیرِاعظم نے اس بات کو بھی دہرایا کہ پاکستان فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت اور ایک آزاد ریاست کے قیام کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔ وزیرِاعظم شہباز شریف نے اپنے خطاب میں نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ جنوبی ایشیا میں امن کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ بھارت کے ساتھ حالیہ چار روزہ عسکری جھڑپ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اپنی سلامتی کے دفاع میں جواب دیا اور اس کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی سے جنگ بندی ممکن ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان، طاقت کے باوجود، مذاکرات کی راہ اختیار کرنے پر تیار ہے تاکہ خطے میں دیرپا امن قائم ہو سکے۔ یہ خطاب پاکستان کے موقف کو عالمی برادری کے سامنے واضح کرنے کی ایک کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔ ایک طرف فلسطین کے حق میں آو...

متحدہ عرب امارات میں نئے ویزا تقاضے: پاسپورٹ کے کور پیج کی شرط.

Image
متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے حال ہی میں ویزا درخواست دہندگان کے لیے نئے تقاضوں کا اعلان کیا ہے۔ اب ہر انٹری پرمٹ کے ساتھ پاسپورٹ کے بیرونی کور پیج کی کاپی جمع کروانا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ یہ بات امیر مراکز کے نمائندے اور خلیج ٹائمز کی رپورٹ میں بھی واضح کی گئی ہے، جس کے مطابق یہ شرط فوری طور پر نافذالعمل ہے۔ اس تبدیلی کے ساتھ اب درخواست کے لیے پاسپورٹ کی کاپی، واضح پاسپورٹ سائز تصویر، ہوٹل بکنگ کی تصدیق، واپسی کا ٹکٹ اور پاسپورٹ کا بیرونی کور پیج درکار ہوگا۔ ماہرین کے مطابق یہ نیا تقاضا کئی سوالات کو جنم دیتا ہے کیونکہ عام طور پر ویزا درخواست میں پاسپورٹ کا اندرونی حصہ ہی کافی سمجھا جاتا ہے۔ تاہم یو اے ای حکام کی جانب سے ابھی تک اس فیصلے کی وضاحت سامنے نہیں آئی کہ کور پیج کی شرط کیوں شامل کی گئی ہے۔ کچھ حلقے اسے دستاویزات کی مکمل جانچ اور شفافیت کے لیے ایک اضافی قدم قرار دے رہے ہیں، جب کہ بعض افراد اس اقدام کو محض انتظامی سختی سمجھتے ہیں۔ بہرحال، یو اے ای میں داخلے کے خواہش مند افراد کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی دستاویزات کو نئی پالیسی کے مطابق تیار کریں تاکہ کسی قسم کی تاخیر یا پریشا...

ورلڈ بینک کے صدر اور وزیر اعظم شہباز شریف کی ملاقات: اصلاحات اور تعاون پر تبادلہ خیال

Image
وزیر اعظم شہباز شریف نے نیویارک میں ورلڈ بینک گروپ کے صدر اجے بانگا سے ملاقات کی جس میں پاکستان اور عالمی بینک کے تعلقات پر اطمینان کا اظہار کیا گیا۔ وزیر اعظم نے اس موقع پر عالمی بینک کے طویل عرصے سے جاری تعاون کو سراہا، بالخصوص کووڈ-19 وبا اور 2022 کے تباہ کن سیلاب کے دوران فراہم کی گئی امداد کو پاکستان کے لیے ایک بڑی سہارا قرار دیا۔ ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے مستقبل میں شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔ وزیر اعظم نے اجے بانگا کو حکومت کے جامع اصلاحاتی ایجنڈے سے آگاہ کیا جس میں وسائل کے مؤثر استعمال، توانائی کے شعبے کی اصلاحات، نجکاری کے اقدامات اور ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے لائحہ عمل شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اصلاحات پاکستان کی معیشت کو پائیدار بنیادوں پر استوار کرنے اور ادارہ جاتی ڈھانچے کو مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہو رہی ہیں۔ اس موقع پر ماحولیاتی خطرات سے نمٹنے اور بین الاقوامی تعاون کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔ اجلاس میں وزیر اعظم نے دعویٰ کیا کہ اصلاحات کے نتیجے میں پاکستان کی معیشت میں بتدریج استحکام آیا ہے، سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا ہے ...

برسلز میں پاکستانی سفارتخانے کی جانب سے ثقافتی ورثے کا جشن

Image
برسلز میں پاکستانی سفارتخانے نے Annual Brussels Heritage Day 2025 کے موقع پر پاکستان کے رنگا رنگ اور متنوع ثقافتی ورثے کو بھرپور انداز میں اجاگر کیا۔ یہ تقریب شہر کے نمایاں ثقافتی پروگراموں میں شمار کی جاتی ہے، جس میں بیلجیئم اور دنیا بھر سے آئے ہوئے مہمانوں نے شرکت کی۔ تقریب کا باقاعدہ افتتاح پاکستان کے سفیر برائے بیلجیئم، لکسمبرگ اور یورپی یونین، رحیم حیات قریشی نے کیا اور ثقافتی سفارتکاری کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ اس موقع پر سفارتخانے کی عمارت کو پاکستانی ثقافت کے آئینے میں ڈھالا گیا، جہاں روایتی دستکاریاں، رنگ برنگے ملبوسات، قدرتی مناظر کی عکاسی کرنے والی تصاویر اور پاکستانی برآمدات کے اسٹالز نمایاں کشش کا باعث بنے۔ مہمانوں کے لیے خصوصی طور پر مہندی کا گوشہ، بچوں کی تفریحی سرگرمیاں اور ہنر مندوں کی تیار کردہ اشیاء دستیاب تھیں۔ اس طرح نہ صرف یورپی عوام نے پاکستان کی تہذیبی جھلک دیکھی بلکہ براہِ راست تبادلے کے ذریعے عوامی سطح پر روابط کو بھی تقویت ملی۔ تقریب کا سب سے زیادہ پسندیدہ پہلو پاکستانی اور کشمیری کھانوں پر مشتمل پکوانی گوشہ تھا، جس نے مہمانوں کو ذائقے کے سفر پر لے گیا۔ دستاویز...

عمر کی یادیں اور فنکاروں کا غم: ایک خاموش سبق

Image
عمر کی اچانک موت کی خبر نے شوبز دنیا اور عام مداحوں کو گہرے صدمے میں مبتلا کر دیا۔ اجاز اسلم نے عمر کو "ننھا فرشتہ" اور "روشن دل رکھنے والا شخص" قرار دیا جو سب کے چہروں پر مسکراہٹیں لے آتا تھا۔ ان الفاظ سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ عمر اپنی مختصر زندگی میں بھی دوسروں کے لیے خوشی کا باعث بنا۔ شاٴستہ لودھی اور حنا الطاف نے بھی اس سانحے پر اپنے جذبات کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ خبر سن کر وہ حیران اور دکھی ہیں۔ ان کے بیانات اس حقیقت کو اجاگر کرتے ہیں کہ کسی کی اچانک جدائی صرف خاندان ہی نہیں بلکہ جاننے والوں کے لیے بھی ناقابلِ یقین ہوتی ہے۔ یہ غم ایک ایسا احساس ہے جو انسان کو بے بس اور سوچ میں ڈال دیتا ہے۔ یہ المیہ اس بات کا خاموش سبق دیتا ہے کہ زندگی غیر یقینی ہے اور ہر دن کو قدر اور محبت کے ساتھ گزارنا چاہیے۔ ایسے لمحات ہمیں یہ یاد دلاتے ہیں کہ نرمی، مسکراہٹ اور انسانیت وہ وراثت ہے جو انسان کے جانے کے بعد بھی دوسروں کے دلوں میں زندہ رہتی ہے۔ عمر کی یادیں اسی حوالے سے دیرپا اثر چھوڑ جائیں گی۔

قطر میں ایمرجنسی عرب-اسلامک سربراہی اجلاس: امیدیں اور خدشات

Image
وزیراعظم شہباز شریف کی دوحہ آمد اور قطر میں منعقد ہونے والے ایمرجنسی عرب-اسلامک سربراہی اجلاس کو خطے کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں ایک اہم موقع سمجھا جا رہا ہے۔ اسرائیلی جارحیت کے بعد مسلم ممالک کا یکجا ہونا اس بات کا مظہر ہے کہ فلسطین اور قطر جیسے ممالک کے دفاع کے لیے اجتماعی ردِعمل ضروری ہے۔ تاہم اس سوال نے بھی جنم لیا ہے کہ آیا یہ اجلاس محض مذمتی بیانات تک محدود رہے گا یا کوئی عملی لائحہ عمل بھی طے کیا جائے گا۔ پاکستان نے قطر کے ساتھ اپنے تعلقات اور خطے میں امن کے لیے ہمیشہ تعاون کیا ہے، اس لیے وزیراعظم کی شرکت کو پاکستان کے فعال کردار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ساتھ ہی یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ اجلاس میں شریک ممالک کے اپنے اپنے سیاسی اور معاشی مفادات بھی ہیں، جو کسی بڑے فیصلے کی راہ میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔ اس حوالے سے عوام اور تجزیہ کاروں کی رائے مختلف ہے۔ آخرکار، یہ اجلاس مسلم دنیا کے لیے ایک امتحان کی حیثیت رکھتا ہے۔ ایک طرف فلسطین اور قطر پر حملے ہیں، تو دوسری طرف مسلم ممالک کی جانب سے عملی اتحاد کی کمی محسوس کی جا رہی ہے۔ اگر یہ اجلاس محض الفاظ تک محدود رہا، تو خطے کے عوام میں...

پاک-بھارت ایشیا کپ مقابلہ: کھیل یا کشیدگی کا عکس؟

Image
ایشیا کپ میں پاکستان اور بھارت کا مقابلہ ہمیشہ سے کرکٹ دنیا کی توجہ کا مرکز رہا ہے، مگر اس بار اس کی حساسیت اور بھی بڑھ گئی ہے کیونکہ چند ماہ قبل دونوں ممالک ایک فوجی تنازع سے بال بال بچے تھے۔ اس تناظر میں یہ میچ محض کھیل نہیں بلکہ دونوں عوام کے جذبات اور توقعات کا آئینہ دار بن گیا ہے۔ اگرچہ کھلاڑیوں اور کوچز نے واضح کیا ہے کہ ان کی توجہ صرف کرکٹ پر ہے، لیکن میدان سے باہر کے حالات اس مقابلے کو ایک علامتی رنگ دے رہے ہیں۔ بھارت اپنی حالیہ کامیابیوں اور مضبوط اسکواڈ کی وجہ سے فیورٹ قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ پاکستان اپنی حالیہ فتوحات سے حوصلہ پا کر میدان میں اترے گا۔ دونوں جانب کے حامیوں کی توقعات اس دباؤ کو مزید بڑھا رہی ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ آیا یہ میچ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو نرم کرنے کا ذریعہ بنے گا یا پھر سیاسی کشیدگی کو مزید اجاگر کرے گا۔ کرکٹ کو اکثر "سفارت کاری کا میدان" کہا جاتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس کے اثرات کھیل کے دائرے سے باہر جا کر عوامی جذبات پر بھی پڑتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ مقابلہ ایک کرکٹ میچ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔

علاقائی کشیدگی اور 'غیر ملکی ہاتھ': حقیقت، خدشات اور سفارتکاری کی راہ.

Image
وزیرِاعظم شہباز شریف نے شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس میں ایک بار پھر دہشت گردی میں "غیر ملکی ہاتھوں" کے مبینہ کردار کا ذکر کیا، جسے بھارت کے لیے اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے 90,000 جانوں اور 152 ارب ڈالر کے معاشی نقصانات کی بھاری قیمت ادا کی ہے۔ بلاشبہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں عظیم قربانیاں دی ہیں، لیکن ایسے الزامات عالمی فورمز پر اس وقت مؤثر ہوتے ہیں جب ان کے ساتھ ٹھوس، شفاف شواہد بھی پیش کیے جائیں تاکہ بین الاقوامی برادری انہیں سنجیدگی سے لے۔ اس موقع پر وزیرِاعظم کا امن کی خواہش اور مذاکرات کی حمایت کا پیغام ایک مثبت اشارہ ہے۔ موجودہ صورتِ حال میں جب بھارت اور پاکستان کے تعلقات نہایت نازک موڑ پر ہیں، ایسی بیانات خطے میں کشیدگی کو کم کرنے کا ذریعہ بن سکتے ہیں، بشرطیکہ دونوں اطراف خلوصِ نیت سے بات چیت کو ترجیح دیں۔ پانی جیسے بنیادی مسائل پر معاہدوں کی معطلی یا الزام تراشیوں کا سلسلہ، دیرپا امن کی راہ میں بڑی رکاوٹ بن سکتا ہے۔ جنوبی ایشیا میں پائیدار استحکام کے لیے ضروری ہے کہ تمام فریقین ماضی کے تنازعات کو سفارتکاری کے ذریعے حل کرنے ...