صدارتی آرڈر سے ریاستی کارروائی تک: اوکلاہوما میں اخوان المسلمون کے خلاف تحقیقات
۲۴ نومبر ۲۰۲۵ کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایگزیکٹو آرڈر نے ایک نیا باب کھولا — اس کے بعد ٹیکساس، فلوریڈا اور اب اوکلاہوما نے اخوان المسلمون کے خلاف تحقیقات شروع کر دی ہیں ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ ریاستیں صرف وفاقی پالیسی کی پیروی کر رہی ہیں یا ان کا اپنا کوئی ایجنڈا ہے؟ پس منظر: صدارتی ایگزیکٹو آرڈر ۱۴۳۶۲ ٹرمپ کے ایگزیکٹو آرڈر نے اخوان المسلمون کی بعض شاخوں — خاص طور پر مصر، اردن اور لبنان میں — کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں کے طور پر نامزد کرنے کا عمل شروع کیا ۔ اس آرڈر کے تحت محکمہ خارجہ اور محکمہ خزانہ کو ۳۰ دنوں کے اندر رپورٹ اور ۴۵ دنوں کے اندر مناسب کارروائی کرنے کا حکم دیا گیا ۔ 📰 امریکی صدر کا ایگزیکٹو آرڈر ۱۴۳۶۲ تجزیہ: اوکلاہوما کا ایگزیکٹو آرڈر گورنر اسٹیٹ کے ایگزیکٹو آرڈر نمبر ۲۰۲۶-۲۹ میں تین اہم ہدایات ہیں : پہلی ہدایت: اوکلاہوما آفس آف ہوم لینڈ سیکیورٹی کو اخوان المسلمون، کیر، اور ان سے منسلک افراد اور اداروں کی سرگرمیوں کا "انٹیلیجنس پر مبنی جائزہ" لینے کا حکم دیا گیا ہے ۔ دوسری ہدایت: ریاستی عوامی تحفظ کے رہنماؤں کو وفاقی حکومت سے اخوان اور کیر کو غیر ملکی د...