پنجاب میں کم عمری کی شادی پر پابندی: ٦٤ سال کا خواب شرمندۂ تعبیر
پنجاب اسمبلی نے ہفتہ ٢٧ اپریل ٢٠٢٦ کو پنجاب میں کم عمری کی شادی پر پابندی کا بل ٢٠٢٦ بھاری اکثریت سے منظور کر لیا ۔ اس ایکٹ کے تحت صوبہ پنجاب میں شادی کے لیے کم از کم عمر ١٨ سال مقرر کر دی گئی ہے، اور اس سے کم عمر میں کیا جانے والا نکاح جرم تصور کیا جائے گا۔ یہ فیصلہ ١٩٢٩ کے قدامت پسند ایکٹ کی منسوخی کی طرف ایک بڑا قدم ہے، اور اس کے بعد اب صوبہ پنجاب بھی سندھ اور بلوچستان کی صف میں شامل ہو گیا ہے ۔ پنجاب میں کم عمری کی شادی کی روک تھام کا بل کیسے پاس ہوا؟ یہ بل پنجاب اسمبلی میں مباحثوں اور گرم جوشی کے طویل مرحلے سے گزرا۔ اس دوران خواتین ارکان نے خاص طور پر اس بل کی حمایت میں بھرپور آواز بلند کی۔ انفارمیشن منسٹر عظمیٰ بخاری نے اپنے ایک وائرل خطاب میں کہا کہ ”مخالفت کرنے والوں کو چاہیے کہ وہ اپنی چھہ (٦) سالہ بیٹی کی شادی پہلے کریں، پھر یہ بل کی مخالفت کریں“ ۔ ایوان میں اسپیکر ملک محمد احمد خان نے بھی اس بل کی منظوری میں کلیدی کردار ادا کیا ۔ کم عمری کی شادی پر کیا سزائیں ہوں گی؟ نئے قانون کے تحت سزاؤں میں سختی سے اضافہ کیا گیا ہے۔ بل کے متن کے مطابق، کم عمری کی شادی قابلِ سزا جرم ہوگی...