Posts

Showing posts from April, 2026

پنجاب میں کم عمری کی شادی پر پابندی: ٦٤ سال کا خواب شرمندۂ تعبیر

Image
پنجاب اسمبلی نے ہفتہ ٢٧ اپریل ٢٠٢٦ کو پنجاب میں کم عمری کی شادی پر پابندی کا بل ٢٠٢٦ بھاری اکثریت سے منظور کر لیا ۔ اس ایکٹ کے تحت صوبہ پنجاب میں شادی کے لیے کم از کم عمر ١٨ سال مقرر کر دی گئی ہے، اور اس سے کم عمر میں کیا جانے والا نکاح جرم تصور کیا جائے گا۔ یہ فیصلہ ١٩٢٩ کے قدامت پسند ایکٹ کی منسوخی کی طرف ایک بڑا قدم ہے، اور اس کے بعد اب صوبہ پنجاب بھی سندھ اور بلوچستان کی صف میں شامل ہو گیا ہے ۔ پنجاب میں کم عمری کی شادی کی روک تھام کا بل کیسے پاس ہوا؟ یہ بل پنجاب اسمبلی میں مباحثوں اور گرم جوشی کے طویل مرحلے سے گزرا۔ اس دوران خواتین ارکان نے خاص طور پر اس بل کی حمایت میں بھرپور آواز بلند کی۔ انفارمیشن منسٹر عظمیٰ بخاری نے اپنے ایک وائرل خطاب میں کہا کہ ”مخالفت کرنے والوں کو چاہیے کہ وہ اپنی چھہ (٦) سالہ بیٹی کی شادی پہلے کریں، پھر یہ بل کی مخالفت کریں“ ۔ ایوان میں اسپیکر ملک محمد احمد خان نے بھی اس بل کی منظوری میں کلیدی کردار ادا کیا ۔ کم عمری کی شادی پر کیا سزائیں ہوں گی؟ نئے قانون کے تحت سزاؤں میں سختی سے اضافہ کیا گیا ہے۔ بل کے متن کے مطابق، کم عمری کی شادی قابلِ سزا جرم ہوگی...

ایران امریکہ تنازع: روس نے تہران کی پشت پناہی کرتے ہوئے واشنگٹن کو بڑا پیغام دے دیا

Image
اقوام متحدہ میں روس کے مستقل مندوب واسیلی نیبینزیا نے روداو نیوز کو بتایا کہ ماسکو "ہرمز کو دوبارہ کھولنا چاہتا ہے، لیکن پہلے جنگ کا خاتمہ ہونا چاہیے" . انہوں نے ان ممالک پر تنقید کی جو جنگ جاری رہتے ہوئے آبنائے ہرمز کو کھولنے کا مطالبہ کر رہے ہیں، اسے "گھوڑے کے آگے گاڑی رکھنے" سے تشبیہ دی . یہ موقف اس لیے اہم ہے کہ روس نے واضح کر دیا کہ وہ ایران پر یکطرفہ دباؤ کی بجائے جامع حل کے حق میں ہے۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے پہلے ہی خبردار کیا تھا کہ ایران کے جوہری مراکز پر حملے "انتہائی تباہ کن" ثابت ہو سکتے ہیں اور اس مسئلے کو "سیاسی اور تزویراتی طریقے سے حل کیا جانا چاہیے" . ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کیوں تعطل کا شکار ہیں؟ پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات کی پہلی روداد اپریل ۱۱، ۲۰۲۶ء کو ختم ہوئی تھی، لیکن کوئی حتمی معاہدہ طے نہیں پایا تھا . اس کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے خصوصی ایلچیوں جیرڈ کشنر اور اسٹیو وٹکوف کا اسلام آباد کا دورہ منسوخ کر دیا . ٹرمپ نے کہا کہ ایران نے "بہت کچھ پیش کیا، لیکن اتنا نہیں جتنا ہم چ...

ٹرمپ نے ایران مذاکرات کے لیے اسلام آباد کا سفر منسوخ کر دیا: ’کوئی نہیں جانتا کہ ایران کا انچارج کون ہے‘

Image
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز ایک اہم سفارتی فیصلے میں ایران کے ساتھ ممکنہ مذاکرات کے لیے اپنے نمائندوں اسٹیو ویتکوف اور جیرڈ کشنر کا اسلام آباد کا سفر منسوخ کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پاکستانی حکام سے ملاقاتوں کے بعد اسلام آباد چھوڑ دیا۔ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر اپنی پوسٹ میں اس فیصلے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی قیادت میں شدید ’داخلی لڑائی‘ اور ’الجھن‘ ہے، جس کی وجہ سے یہ واضح نہیں کہ وہاں انچارج کون ہے ۔ ٹرمپ نے ایران مذاکرات کے لیے اسلام آباد کا سفر کیوں منسوخ کر دیا؟ ٹرمپ نے اپنے فیصلے کی بنیادی وجہ وقت کا ضیاع اور ایران کی غیر یقینی صورتحال کو قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے نمائندوں کو ۱۸ گھنٹے کی پرواز کر کے اسلام آباد نہیں بھیجیں گے تاکہ وہ ’کچھ بھی نہ ہونے والی باتوں پر بیٹھے رہیں‘ ۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کی جانب سے کوئی ٹھوس پیشرفت نظر نہیں آ رہی، بلکہ وہاں قیادت کے درمیان ’بھیانک لڑائی‘ چل رہی ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ تمام پتے امریکہ کے پاس ہیں، اور اگر ایران مذاکرات کرنا چاہتا ہے تو اسے خود فون کرنا ہوگا۔ B...

پنجاب کی سڑکوں پر نظر رکھیں: موبائل کیمرے اب چالان ڈیفالٹرز کا پیچھا کریں گے

Image
پنجاب کے شہریوں کے لیے ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی اب زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ پنجاب پولیس نے ایک جدید موبائل کیمرہ سسٹم متعارف کرانے کا منصوبہ بنایا ہے، جس کے تحت خصوصی گاڑیاں سڑکوں پر چلتی ہوئیں ای چالان ڈیفالٹرز، جعلی نمبر پلیٹوں اور مطلوبہ مجرموں کو فوری طور پر شناخت کر لیں گی ۔ یہ اقدام پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کے نیٹ ورک کو مزید موثر بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ پنجاب پولیس کا موبائل کیمرہ سسٹم کیا ہے؟ یہ نیا نظام، جسے "پولیس آئی سمارٹ وین" کا نام دیا گیا ہے، درحقیقت ایک ہائی ٹیک الیکٹرک گاڑی ہے جس میں ۳۶۰ ڈگری والے کیمرے نصب ہیں۔ یہ کیمرے گاڑی کے چلتے ہوئے بھی ۱۰۰ میٹر کے فاصلے تک کی نگرانی کر سکتے ہیں ۔ یہ ٹیکنالوجی نہ صرف ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو پکڑے گی بلکہ سیف سٹیز کے ڈیٹا بیس سے منسلک ہو کر مطلوبہ افراد کی بھی نشاندہی کرے گی۔ The Punjab Safe Cities Authority (PSCA) has launched effective surveillance across the province through drone technology. The PSCA further expanded the scope of surveillance across the province through drone technology, und...

پاکستان کی معاشی کشتی کو سعودی امداد کا سہارا — کیا بحران ٹل گیا؟

Image
  پاکستان کو سعودی عرب سے ایک ارب ڈالر کی دوسری قسط موصول ہوگئی ہے، جس کے بعد ۳ ارب ڈالر کے نئے ڈپازٹ معاہدے کی کل رقم مکمل ہوگئی۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے تصدیق کی ہے کہ یہ رقم ۲۰ اپریل ۲۰۲۶ کو سعودی وزارت خزانہ کی جانب سے موصول ہوئی۔ یہ معاشی امداد ایسے نازک وقت میں ملی ہے جب پاکستان متحدہ عرب امارات کو ۳.۵ ارب ڈالر کی واپسی کے لیے تیاری کر رہا ہے۔ کیا یہ سعودی تعاون ملک کے زرمبادلہ ذخائر کو مستحکم کرنے کے لیے کافی ہوگا؟ آئیے اس اہم معاملے کہ تجزیہ کرتے ہیں۔ پاکستان کو سعودی عرب سے تین ارب ڈالر کی ڈپازٹ کب ملی؟ سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان ۳ ارب ڈالر کے نئے ڈپازٹ معاہدے پر ۱۷ اپریل ۲۰۲۶ کو واشنگٹن ڈی سی میں عالمی بینک اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے موسم بہار کے اجلاسوں کے موقع پر دستخط ہوئے ۔ اس معاہدے کے تحت پہلی قسط ۲ ارب ڈالر ۱۵ اپریل کو اسٹیٹ بینک میں جمع کرادی گئی، جبکہ دوسری اور آخری قسط ۱ ارب ڈالر ۲۰ اپریل کو موصول ہوئی ۔ یوں محض چند دنوں کے دوران سعودی عرب نے اپنے ۳ ارب ڈالر کے وعدے کو مکمل طور پر پورا کردیا۔ اس سے قبل وزیر اعظم شہباز شریف کے دورہ سعودی عرب نے ان مذ...

شہباز حکومت کی عالمی چمک اور عوام کی جلتی قربانیاں

Image
  جنوبی ایشیا میں کشیدگی میں کمی اور آبنائے ہرمز کے بحری راستے کے بحال ہونے کے باوجود، جب عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں گر رہی ہیں، تو پاکستان میں پٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ کیا جا رہا ہے۔ یہی وہ سوال ہے جو ہر پاکستانی کے ذہن میں اٹھ رہا ہے۔ چند دنوں میں دوسری مرتبہ پٹرول کی قیمتوں میں [۲] روپے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا ہے ۔ وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ یہ اضافہ عالمی مارکیٹ کی صورتحال اور آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت کیا گیا ہے، لیکن عوام اس منطق کو قبول کرنے کو تیار نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کے باوجود مقامی مارکیٹ میں قیمتوں میں اضافہ عوام پر واضح ظلم ہے۔ ماضی میں جب تحریک انصاف کی حکومت تھی اور تیل کی قیمت [۱۵۰] روپے تھی، تو اپوزیشن میں بیٹھی مسلم لیگ (ن) نے ملک گیر احتجاج کیا تھا ۔ آج وہی لوگ حکومت میں ہیں اور پٹرول [۲۶۰] روپے سے تجاوز کر چکا ہے، لیکن اب کوئی احتجاج نظر نہیں آتا۔ یہ دوہرا معیار عوام کی نگاہوں سے پوشیدہ نہیں۔ سولر پینلز پر ٹیکس: شمسی توانائی کو فروغ یا خاتمہ؟ پاکستان نے گزشتہ چند سالوں میں شمسی توانائی کے شعبے میں قابلِ ذکر ترق...

ایران کی زد میں، جنگ اور امن کے درمیان پھنسی غزہ: کیا پاکستان ثالثی کر سکتا ہے؟

Image
جب دنیا کی نظریں ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی پر مرکوز ہیں، غزہ ایک عجیب سے سیاسی خلاء میں جنگ اور امن کے درمیان پھنسا ہوا ہے۔ جہاں ایک طرف عالمی طاقتیں تہران پر بمباری روکنے کے لیے سفارتی میزیں سجا رہی ہیں، وہیں غزہ کے ملبے تلے دبے معصوم بچے اپنی آخری سانسیں لے رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان، جو آج کل ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کے لیے پیش پیش ہے، غزہ کے لیے بھی یہی کردار ادا کر سکتا ہے؟ کیا پاکستان ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کر سکتا ہے؟ پاکستان نے حالیہ مہینوں میں خود کو مشرق وسطیٰ میں ایک کلیدی ثالث کے طور پر پیش کیا ہے۔ پاکستان نے ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کی پیشکش کی ہے اور اسلام آباد کو مذاکرات کے لیے ممکنہ مقام کے طور پر تجویز کیا ہے ۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی پاکستانی آرمی چیف آصف منیر کے ساتھ تعریف آمیز ملاقاتیں کی ہیں، جس سے پاکستان کی سفارتی اہمیت بڑھی ہے ۔ لیکن یہ ثالثی زیادہ تر ایران-امریکہ تنازعے تک محدود ہے ، جبکہ غزہ اس سے بڑی حد تک الگ تھلگ ہے۔ پاکستان کا غزہ کے بارے میں موقف کیا ہے؟ پاکستان نے کبھی بھی اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا اور...

ایران کا جوہری بحران: پاکستان کی تجارت، سی پیک اور توانائی پر گہرے اثرات

Image
  ایران کا جوہری پروگرام صرف مغربی ممالک کے لیے ہی تشویش کا باعث نہیں بلکہ پاکستان کی معیشت، تجارت اور توانائی کی سلامتی کے لیے بھی سنگین خطرہ ہے۔ ایران کے عدم استحکام نے پاکستان کے علاقائی تجارتی منصوبوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور لاکھوں پاکستانیوں کے روزگار کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ ایران کے جوہری پروگرام کے علاقائی سلامتی پر کیا اثرات ہیں؟ ایران کا جوہری پروگرام پورے خطے کے استحکام کے لیے خطرہ ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ چھڑ گئی تو اس کے اثرات پورے مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں محسوس کیے جائیں گے۔ پاکستان کے لیے خاص طور پر: سرحد پار سے دہشت گردی میں اضافہ ہو جائے گا بلوچستان میں علیحدگی پسند گروہ مزید سرگرم ہو جائیں گے ایرانی سرحد پر عدم استحکام پاکستان کے لیے سیکیورٹی خطرہ بن جائے گا پاک ایران گیس پائپ لائن: ۱۹ ارب ڈالر کا جرمانہ اور بند راستے ۲۰۱۳ میں پاکستان اور ایران کے درمیان گیس پائپ لائن کا معاہدہ ہوا تھا جس کے تحت دسمبر ۲۰۱۴ تک پاکستان کو ایرانی گیس ملنا شروع ہو جانی تھی۔ لیکن امریکی پابندیوں کے خوف سے پاکستان نے اپنی طرف کا ۷۸۱ کلومیٹر طویل...

سوڈان میں فوجی بغاوت کی ناکام کوشش: اندرونی ٹوٹ پھوٹ کی کہانی

Image
سوڈان میں فوجی بغاوت کی کوشش کو حال ہی میں ناکام بنایا گیا ہے، جس نے پوری دنیا کی توجہ اس افریقی ملک کی طرف مبذول کر دی ہے۔ فوج کے اندر بڑھتی ہوئی بے چینی اور سیاسی کشمکش نے ایک بار پھر اس بات کے امکانات پیدا کر دیے ہیں کہ سوڈان خانہ جنگی کی طرف بڑھ رہا ہے۔ برہان نے فوج میں اسلامی تحریک کے خلاف مہم کیوں شروع کی؟ جنرل عبدالفتاح البرہان نے گزشتہ چند ماہ کے دوران فوج میں موجود اسلامی تحریک سے تعلق رکھنے والے افسران کے خلاف کارروائی تیز کر دی تھی۔ درحقیقت، مسلم برادران کو دہشت گرد تنظیم قرار دیے جانے کے بعد برہان پر قانونی اور سیاسی دباؤ تھا کہ وہ فوج کو 'اسلامی اثرات' سے پاک کرے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اعلیٰ عہدوں پر فائز متعدد افسران کو ہٹانا شروع کر دیا۔ مسلم برادران کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کے کیا اثرات ہوئے؟ مسلم برادران کی بلیک لسٹنگ نے سوڈان کی سیاست کو یکسر تبدیل کر دیا۔ اس فیصلے کے بعد برہان نے نہ صرف عام شہریوں بلکہ فوجی افسران تک کو گرفتار کرنا شروع کر دیا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ کارروائی قانونی تھی یا سیاسی؟ ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ بیرونی طاقتوں کے دباؤ کا...

پاکستان کی تاریخی سفارتی کامیابی: امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کیسے ہوئی؟

Image
مشرق وسطیٰ میں گزشتہ ۳۹ دنوں سے جاری خونریز جنگ نے جہاں ہزاروں بے گناہ جانوں کا نقصان کیا تھا، وہیں عالمی معیشت کو بھی شدید خطرات لاحق تھے۔ پاکستان کی امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی میں ثالثی نے بالآخر امید کی ایک کرن پیدا کر دی۔ ۸ اپریل ۲۰۲۶ کی صبح جب امریکی صدر ٹرمپ کی طرف سے مقرر کردہ ڈیڈ لائن ختم ہونے میں محض ڈیڑھ گھنٹے باقی تھے، پاکستان نے وہ کارنامہ انجام دے دیا جسے عالمی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ امریکہ ایران جنگ بندی میں پاکستان کا کیا کردار ہے؟ پاکستان نے اس پیچیدہ سفارتی عمل میں ایک قابل اعتماد ثالث کا کردار ادا کیا۔ بی بی سی کے مطابق، پاکستان نے گزشتہ چند ہفتوں کے دوران امریکہ اور ایران کے درمیان پیغامات کی ترسیل کا کام کیا۔ پاکستان کے ایک ذرائع نے بتایا کہ مذاکرات "بہت تیز رفتاری سے" جاری تھے اور ان مذاکرات کو "ایک بہت چھوٹے حلقے" نے انجام دیا۔ پاکستان کی یہ حیثیت منفرد تھی کیونکہ اس کے ایران کے ساتھ تاریخی، مذہبی اور سرحدی تعلقات ہیں، جبکہ امریکی انتظامیہ کے ساتھ بھی اس کے مضبوط تعلقات ہیں۔ صدر ٹرمپ خود آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کو اپن...

جرمن چانسلر فریڈرک مرز کا خطرناک اعلان: "۸۰ فیصد شامی باشندے تین سال میں ڈیپورٹ

Image
جرمنی کی سیاسی فضا میں ایک نیا طوفان اٹھ کھڑا ہوا ہے۔ جرمن چانسلر فریڈریش فریڈرک مرز نے اپنے ایک حالیہ بیان سے نہ صرف اپنی حکومت میں شامل جماعتوں کو ناراض کیا ہے بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی ایک نیا تنازعہ کھڑا کر دیا ہے۔ برلن میں شام کے عارضی صدر احمد الشرع سے ملاقات کے بعد فریڈرک مرز نے کہا کہ اگلے تین سالوں میں جرمنی میں مقیم ۸۰ فیصد شامی مہاجرین کو اپنے وطن واپس لوٹ جانا چاہیے ۔ یہ بیان اتنا اہم ہے کہ اس پر خود فریڈرک مرز کی جماعت کرسچن ڈیموکریٹک یونین کے اندر بھی تحفظات پائے جا رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ آخر اس بیان میں اتنا کیا تھا کہ پورے جرمنی کی سیاسی جماعتیں اس پر متحد ہو کر تنقید کر رہی ہیں؟ اور کیا واقعی ۸۰ فیصد شامی مہاجرین جرمنی چھوڑنے پر مجبور ہوں گے؟ آئیے اس پورے معاملے کو تفصیل سے سمجھتے ہیں۔ پس منظر: فریڈرک مرز نے ایسا کیا کہا؟ برلن میں شامی صدر احمد الشرع سے ملاقات کے بعد ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جرمن چانسلر فریڈریش فریڈرک مرز نے کہا: "اگلے تین سالوں کے طویل مدتی تناظر میں، اور یہ صدر الشرع کی خواہش بھی تھی، کہ جرمنی میں مقیم تقریباً ۸۰ فیصد شامی باشندوں ک...

روٹی اور جان کی جنگ: کیا خلیج میں کام کرنا اب موت کا سودا ہے؟

Image
یہ وہ سوال ہے جو آج خلیجی ممالک میں کام کرنے والے لاکھوں ایشیائی مزدوروں کے ذہن میں بار بار گونج رہا ہے۔ خلیجی ممالک میں پاکستانی مہاجر مزدوروں کی مشکلات ایک تلخ حقیقت بن چکی ہیں جہاں ایران اور امریکہ/اسرائیل کے درمیان جاری جنگ نے ان کے سنہرے خوابوں کو خاک میں ملا دیا ہے۔  دسمبر ۲۰۲۵ میں شروع ہونے والی اس جنگ کے نتیجے میں اب تک کئی معصوم مزدور اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔  خلیجی ممالک میں کتنے پاکستانی مزدور کام کر رہے ہیں؟ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ خلیج تعاون کونسل (GCC) کے ممالک یعنی سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، کویت، بحرین اور عمان میں مقیم کل آبادی کا بڑا حصہ مہاجر مزدوروں پر مشتمل ہے۔ کل ۶۲ ملین آبادی میں سے تقریباً ۳۵ ملین غیر ملکی ہیں۔  پاکستان تنہا تقریباً ۴.۹ ملین مزدور ان ممالک میں بھیج چکا ہے جو ملک کے لیے زرمبادلہ کی سب سے بڑی کڑی ہیں۔  یہ تعداد صرف اعداد و شمار نہیں بلکہ ان گھرانوں کی کہانیاں ہیں جو ان کی ماہانہ ترسیلات پر منحصر ہیں۔  ایران اور امریکہ کی جنگ کا خلیجی مزدوروں پر کیا اثر ہے؟ یہ جنگ ان مزدوروں کے لیے ایک بھیانک صورت حال بن ک...