جرمن چانسلر فریڈرک مرز کا خطرناک اعلان: "۸۰ فیصد شامی باشندے تین سال میں ڈیپورٹ
جرمنی کی سیاسی فضا میں ایک نیا طوفان اٹھ کھڑا ہوا ہے۔ جرمن چانسلر فریڈریش فریڈرک مرز نے اپنے ایک حالیہ بیان سے نہ صرف اپنی حکومت میں شامل جماعتوں کو ناراض کیا ہے بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی ایک نیا تنازعہ کھڑا کر دیا ہے۔ برلن میں شام کے عارضی صدر احمد الشرع سے ملاقات کے بعد فریڈرک مرز نے کہا کہ اگلے تین سالوں میں جرمنی میں مقیم ۸۰ فیصد شامی مہاجرین کو اپنے وطن واپس لوٹ جانا چاہیے۔
یہ بیان اتنا اہم ہے کہ اس پر خود فریڈرک مرز کی جماعت کرسچن ڈیموکریٹک یونین کے اندر بھی تحفظات پائے جا رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ آخر اس بیان میں اتنا کیا تھا کہ پورے جرمنی کی سیاسی جماعتیں اس پر متحد ہو کر تنقید کر رہی ہیں؟ اور کیا واقعی ۸۰ فیصد شامی مہاجرین جرمنی چھوڑنے پر مجبور ہوں گے؟ آئیے اس پورے معاملے کو تفصیل سے سمجھتے ہیں۔
پس منظر: فریڈرک مرز نے ایسا کیا کہا؟
برلن میں شامی صدر احمد الشرع سے ملاقات کے بعد ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جرمن چانسلر فریڈریش فریڈرک مرز نے کہا:
"اگلے تین سالوں کے طویل مدتی تناظر میں، اور یہ صدر الشرع کی خواہش بھی تھی، کہ جرمنی میں مقیم تقریباً ۸۰ فیصد شامی باشندوں کو اپنے وطن واپس لوٹ جانا چاہیے" ۔
فریڈرک مرز نے اس بات پر زور دیا کہ شام میں خانہ جنگی ختم ہو چکی ہے اور واپسی کے لیے بنیادی طور پر ایک امکان موجود ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ شام کی تعمیر نو میں مدد کرنا چاہتے ہیں اور اس سلسلے میں ڈماسکس کے ساتھ مل کر کام کریں گے ۔ تاہم، انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ ڈاکٹرز اور نرسز جیسے ہنرمند شامی باشندے جو جرمنی کی معیشت میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، انہیں جرمنی میں رہنے کی اجازت دی جانی چاہیے۔
شامی صدر کی تردید: کس نے کس کی بات کہی؟
معاملہ اس وقت مزید گرم ہو گیا جب شامی صدر احمد الشرع نے خود اس بیان کی تردید کر دی۔ لندن میں چیتھم ہاؤس تھنک ٹینک کے ایک سیشن میں گفتگو کرتے ہوئے الشرع نے کہا:
میں نے ایسی کوئی بات نہیں کہی۔ یہ بیان چانسلر کی طرف سے تھا ۔
انہوں نے فریڈرک مرز کے اس بیان کو "مبالغہ آرائی" قرار دیا اور واضح کیا کہ مہاجرین کی واپسی کا دارومدار شام میں تعمیر نو اور سیکیورٹی کی صورتحال پر ہے۔ الشرع نے کہا کہ محض لوگوں کو ہوائی جہاز میں بٹھا کر واپس بھیج دینا ممکن نہیں ہے جب تک کہ ان کے لیے وطن میں رہنے کے قابل حالات فراہم نہ کیے جائیں۔
حکومت کے اندر ہی تنقید: کس نے کیا کہا؟
فریڈرک مرز کا یہ بیان اتنا متنازعہ ہے کہ ان کی اپنی اتحادی حکومت میں شامل جماعتوں نے بھی اس پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے۔
ایس پی ڈی کی نائب چیئرپرسن انکے ریلنگر نے کہا کہ چانسلر کا مخصوص مدت کے اندر مخصوص تعداد کا ہدف دینا کوئی دانشمندانہ اقدام نہیں ہے کیونکہ اس سے عوام میں ایسی توقعات پیدا ہوتی ہیں جنہیں پورا کرنا ممکن نہ ہو سکے ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بہت سے شامی باشندے اب جرمنی میں ضم ہو چکے ہیں، وہ ہنرمند کارکن ہیں، بوڑھوں کی دیکھ بھال کرتے ہیں، بس چلاتے ہیں اور ان میں سے بہت سے تو جرمن شہری بھی بن چکے ہیں۔
سی ڈی یو کے ماہر خارجہ پالیسی روڈرک کیزویٹر نے خبردار کیا کہ اس طرح کے اعداد و شمار پیش کرنا سیاسی طور پر دانشمندانہ نہیں ہے کیونکہ اگر یہ وعدے پورے نہ ہو سکے تو اس سے دائیں بازو کی پاپولسٹ جماعتوں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔
گرین پارٹی کی رکن لوئیس امٹسبرگ نے فریڈرک مرز کے اس بیان کو "شرمناک" قرار دیا اور کہا کہ اس سے ہزاروں جرمن-شامی خاندانوں میں بے چینی پھیل گئی ہے جنہیں یہ ڈر لگ گیا ہے کہ انہیں اگلے برسوں میں جرمنی چھوڑنا پڑے گا۔
معاشی اثرات: شامی ڈاکٹرز اور نرسز کا کردار
جرمنی کی معیشت، خاص طور پر صحت کا شعبہ، شامی مہاجرین پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔ جرمن ہسپتال فیڈریشن کے مطابق جرمنی میں غیر ملکی ڈاکٹروں میں سب سے بڑی تعداد شامی ڈاکٹروں کی ہے۔ تقریباً ۵,۷۴۵ شامی ڈاکٹر جرمن کلینکوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں، جبکہ تقریباً ۲,۰۰۰ شامی شہری بطور نرس کام کر رہے ہیں۔
ہسپتال فیڈریشن کی نائب چیئر ہنریٹ نیومائر نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ ہنرمند کارکن جرمنی چھوڑ کر چلے گئے تو صحت کے شعبے پر سنگین اثرات مرتب ہوں گے ۔ یہی وجہ ہے کہ فریڈرک مرز نے خود بھی تسلیم کیا کہ ڈاکٹرز اور نرسز جیسے پیشوں سے وابستہ شامی باشندوں کو جرمنی میں رہنے کی اجازت دی جانی چاہیے۔
سیاسی تناظر: انتخابات اور دائیں بازو کی جماعتیں
یہ پورا معاملہ اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ جرمنی میں اگلے عام انتخابات بالکل تین سال بعد ہونے ہیں۔ سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ فریڈرک مرز نے یہ بیان دیں کے ذریعے دائیں بازو کی جماعت اے ایف ڈی کے ووٹ بینک کو نشانہ بنایا ہے جو کہ امیگریشن کے خلاف سخت موقف رکھتی ہے۔
تاہم، اے ایف ڈی کی شریک قائد ایلس وائیڈل نے فریڈرک مرز پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ "سی ڈی یو کے اقتدار میں رہتے ہوئے ایک بھی شامی باشندے کو ڈیپورٹ نہیں کیا جائے گا"۔
حقیقت کیا ہے؟ کیا ۸۰ فیصد ہدف ممکن ہے؟
ماہرین کے مطابق تین سالوں میں ۸۰ فیصد شامی باشندوں کی واپسی کا ہدف عملی طور پر ناممکن ہے۔ قانونی رکاوٹیں اس راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ جرمنی میں ہر شامی مہاجر کے تحفظ کی ضرورت کا انفرادی طور پر جائزہ لینا پڑتا ہے۔ اس وقت عدالتوں میں پہلے سے ہی ۱۸۰,۰۰۰ سیاسی پناہ کے مقدمات زیر التوا ہیں ۔
جرمنی میں شامی مہاجرین کی کل تعداد تقریباً ۱۲ لاکھ (۱.۲ ملین) ہے ۔ ان میں سے تقریباً ۲۴۴,۰۰۰ شامی شہری جرمن شہریت حاصل کر چکے ہیں ۔ یہ افراد جرمن شہری ہیں اور انہیں کسی صورت میں ڈیپورٹ نہیں کیا جا سکتا۔
جرمنی سے شام واپس جانے والوں کی تعداد بہت کم ہے۔ ۲۰۲۵ کے دوران صرف ۳,۶۷۸ شامی باشندوں نے رضاکارانہ واپسی کا پروگرام استعمال کیا۔
فریڈریش فریڈرک مرز کا یہ بیان ایک بار پھر ثابت کرتا ہے کہ یورپ میں مہاجرین کا معاملہ کتنا حساس ہے۔ ایک طرف جہاں فریڈرک مرز نے اپنی سخت امیگریشن پالیسی کے ذریعے دائیں بازو کی جماعتوں کو جواب دینے کی کوشش کی ہے، وہیں ان کے اس بیان نے ان کی اپنی حکومت میں شریک جماعتوں کو بھی ان کے خلاف کر دیا ہے۔
شامی صدر کی طرف سے اس بیان کی تردید اور اسے "مبالغہ آرائی" قرار دینے نے فریڈرک مرز کی سیاسی ساکھ کو مزید نقصان پہنچایا ہے ۔ ماہرین کے مطابق قانونی اور عملی رکاوٹوں کے پیش نظر تین سالوں میں ۸۰ فیصد شامی باشندوں کی واپسی کا ہدف حقیقت سے بہت دور ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا فریڈرک مرز یہ وعدہ پورا کر پائیں گے؟ اور اگر نہیں کر پائے تو کیا اس سے جرمنی کی سیاسی فضا میں جیسی جماعتوں کو مزید تقویت ملے گی؟ آنے والے سال اس سوال کا جواب دیں گے۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQs)
سوال: جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے شامی مہاجرین کے بارے میں کیا کہا؟
جواب: جرمن چانسلر فریڈریش فریڈرک مرز نے کہا کہ اگلے تین سالوں میں جرمنی میں مقیم ۸۰ فیصد شامی مہاجرین کو اپنے وطن واپس لوٹ جانا چاہیے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ شامی صدر احمد الشرع کی خواہش ہے۔
سوال: شامی صدر نے فریڈرک مرز کے دعوے کی تردید کیوں کی؟
جواب: شامی صدر احمد الشرع نے لندن میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کبھی ۸۰ فیصد واپسی کی بات نہیں کی۔ انہوں نے فریڈرک مرز کے بیان کو "مبالغہ آرائی" قرار دیا اور کہا کہ مہاجرین کی واپسی کا دارومدار شام میں تعمیر نو اور سیکیورٹی کی صورتحال پر ہے۔
سوال: جرمنی میں کتنے شامی مہاجرین ہیں؟
جواب: جرمنی میں تقریباً ۱۲ لاکھ (۱.۲ ملین) شامی النسل افراد مقیم ہیں۔ ان میں سے تقریباً ۲۴۴,۰۰۰ نے ۲۰۱۶ سے ۲۰۲۴ کے درمیان جرمن شہریت حاصل کر لی ہے۔ جرمنی میں یورپی یونین کی سب سے بڑی شامی ڈائسپورا آباد ہے۔
سوال: شامی ڈاکٹرز اور نرسز کا جرمنی کی صحت کی سہولیات پر کیا اثر ہے؟
جواب: جرمنی میں تقریباً ۵,۷۴۵ شامی ڈاکٹر کام کر رہے ہیں جو غیر ملکی ڈاکٹروں میں سب سے بڑی تعداد ہے۔ اس کے علاوہ تقریباً ۲,۰۰۰ شامی شہری بطور نرس خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ان کا جرمنی چھوڑنا صحت کے شعبے کے لیے سنگین چیلنج ہو گا۔
سوال: کیا فریڈرک مرز کا ۸۰ فیصد واپسی کا ہدف حقیقت پسندانہ ہے؟
جواب: ماہرین کے مطابق تین سالوں میں ۸۰ فیصد شامی باشندوں کی واپسی کا ہدف عملی طور پر ناممکن ہے۔ قانونی رکاوٹیں، عدالتوں میں زیر التوا ۱۸۰,۰۰۰ مقدمات، اور شام میں موجودہ عدم استحکام اس راستے میں سب سے بڑی رکاوٹیں ہیں۔

Comments
Post a Comment