Posts

Showing posts from October, 2025

پاکستان کے انسٹی ٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس (آئی سی اے پی) کی جانب سے دبئی میں 5ویں سی ایف او کانفرنس مشرق وسطیٰ 2025 کا انعقاد

Image
*عالمی مالیاتی رہنماؤں کا اجتماع* آئی سی اے پی نے دبئی میں 5ویں سی ایف او کانفرنس مشرق وسطیٰ 2025 کا انعقاد کیا، جس میں عالمی مالیاتی رہنماؤں، پالیسی سازوں اور صنعت کے ماہرین نے شرکت کی۔ اس کانفرنس کا موضوع "کوانٹم لیپ: ایجی لیٹی اور مسابقتی برتری" تھا۔ *اہم مقررین* - *شیخ محمد بن احمد الزیودی، وزیر خارجہ تجارت، متحدہ عرب امارات*: اپنے کلیدی خطاب میں، انہوں نے متحدہ عرب امارات کی اقتصادی تنوع کی حکمت عملی اور جی سی سی کے مستقبل کے لیے ایک ماحولیاتی نظام کی تشکیل پر روشنی ڈالی۔ - *سعید اللہ، صدر آئی سی اے پی*: انہوں نے آئی سی اے پی کی پیشہ ورانہ فضیلت کو فروغ دینے اور عالمی مالیاتی برادری میں روابط کو مضبوط بنانے کے عزم پر زور دیا۔ - *خرم شہزاد، مشیر وزیر خزانہ، حکومت پاکستان*: انہوں نے پاکستان کی اقتصادی استحکام اور عالمی مسابقت کو مضبوط بنانے کے لیے حکمت عملی مالیاتی ایجی لیٹی اور ڈیٹا پر مبنی پالیسی سازی کی ضرورت پر زور دیا۔ *اہم موضوعات* - *مالیاتی رہنمائی کی تبدیلی*: آئی سی اے پی کے نائب صدر، سمیع اللہ صدیقی نے کہا کہ مالیاتی رہنماؤں کو عالمی تبدیلیوں کو نیویگیٹ کرنے، اخت...

پاکستان نیوی کی منشیات ضبطی: سمندری سلامتی اور بین الاقوامی تعاون کی علامت

Image
پاکستان نیوی کے جہاز یارموک نے حال ہی میں بحیرۂ عرب میں ایک بڑی کارروائی کے دوران 972 ملین ڈالر سے زائد مالیت کی منشیات ضبط کیں، جو کہ بین الاقوامی سمندری فورسز کی تاریخ کی نمایاں کامیابیوں میں شمار کی جا رہی ہے۔ یہ کارروائی سعودی قیادت میں قائم کمبائنڈ ٹاسک فورس 150 کے تحت کی گئی، جس کا مقصد غیر قانونی منشیات اور ہتھیاروں کی اسمگلنگ کو روکنا ہے۔ دو الگ الگ کشتیوں سے میتھ ایمفیٹامین اور کوکین کی بھاری مقدار برآمد ہونا نہ صرف خطے کی سمندری حدود میں مجرمانہ سرگرمیوں کی موجودگی کو ظاہر کرتا ہے بلکہ اس بات کی بھی یاد دہانی ہے کہ بین الاقوامی تعاون کے بغیر ان خطرات سے مؤثر طور پر نمٹنا ممکن نہیں۔ یہ واقعہ پاکستان نیوی کے بڑھتے ہوئے کردار اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو اجاگر کرتا ہے، جو نہ صرف ملکی مفادات کے تحفظ بلکہ علاقائی اور عالمی سمندری سلامتی کے فروغ میں بھی کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف کے مطابق، یہ کامیابی اس عزم کی عکاسی کرتی ہے کہ پاکستان نیوی عالمی امن و استحکام کے لیے بین الاقوامی پارٹنرز کے ساتھ مسلسل تعاون جاری رکھے گی۔ اس سے سعودی عرب اور پاکستان کے مابین عسکری...

پاکستانی فِن ٹیک کمپنی "ابھی" اور الاماراتی الفردان ایکسچینج کا اشتراک: تارکینِ وطن کے لیے مالی آسانی کی نئی راہ

Image
کراچی: پاکستان سے تعلق رکھنے والی فِن ٹیک کمپنی "ابھی" نے متحدہ عرب امارات کی معروف کمپنی "الفردان ایکسچینج" کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے ایک نئی سروس متعارف کرائی ہے جو تارکینِ وطن کو تنخواہ سے پہلے اپنی کمائی کا نصف حصہ حاصل کرنے کی سہولت فراہم کرتی ہے۔ یہ اقدام نہ صرف مالی لچک میں اضافہ کرے گا بلکہ لاکھوں غیر ملکی مزدوروں کو فوری نقد رسائی کی سہولت بھی دے گا۔ اس سروس کے ذریعے الفا پے ایپ اور الفردان ایکسچینج کی 90 سے زائد شاخوں کے ذریعے صارفین کو اپنی کمائی تک ڈیجیٹل رسائی حاصل ہوگی۔ یہ اشتراک خلیجی خطے میں مالی شمولیت کے فروغ کی جانب ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے۔ "ابھی" کی ٹیکنالوجی کو "الفردان" کے وسیع تر ترسیلاتی نیٹ ورک کے ساتھ جوڑنے سے کم آمدنی والے طبقے کے لیے قرض یا غیر رسمی ذرائع پر انحصار کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ کمپنی کے مطابق، اس اقدام سے تارکینِ وطن کو اپنی تنخواہ وقت سے پہلے حاصل کرنے کا اختیار دے کر انہیں اپنے خاندانوں کی بہتر مالی معاونت کرنے کا موقع فراہم کیا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، اس شراکت داری کے مثبت اثرات نہ صرف ...

یو اے ای پاکستان معاشی تعلقات میں نیا باب: فرسٹ ویمن بینک کی نجکاری ایک مثبت قدم

Image
ابو ظہبی کی انٹرنیشنل ہولڈنگ کمپنی (IHC) کی جانب سے پاکستان کے سرکاری فرسٹ ویمن بینک لمیٹڈ میں اکثریتی حصص کا حصول نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے معاشی تعلقات کی عکاسی کرتا ہے بلکہ پاکستان کی نجکاری پالیسی میں بھی ایک نئی سمت کی نشاندہی کرتا ہے۔ حکومتِ پاکستان کی جانب سے یہ پہلا بینکنگ ادارہ ہے جو بین الحکومتی تجارتی قانون 2022 کے تحت نجی شعبے کے حوالے کیا گیا ہے، جس سے سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہونے کی امید کی جا سکتی ہے۔ یہ معاہدہ اس وقت سامنے آیا ہے جب پاکستان کی معیشت کو بیرونی سرمایہ کاری کی شدید ضرورت ہے۔ آئی ایچ سی کی جانب سے فرسٹ ویمن بینک میں جدید ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت (AI)، اور ڈیجیٹل بینکنگ کے فروغ کے منصوبے نہ صرف مالیاتی نظام میں شفافیت بڑھائیں گے بلکہ خواتین کے مالیاتی شمولیت کے عمل کو بھی تقویت دیں گے۔ اس سرمایہ کاری سے روزگار کے نئے مواقع، بینکاری کے جدید رجحانات، اور علاقائی مالیاتی استحکام کی راہیں کھل سکتی ہیں۔ اگرچہ کسی بھی غیر ملکی سرمایہ کاری کے ساتھ کچھ خدشات وابستہ ہوتے ہیں، جیسے کہ قومی اداروں پر بیرونی کنٹرول کا تاثر، تاہم پاکستان کے تناظر میں یہ ...

Expand North Star 2025 میں پاکستان کا پویلین ڈیجیٹل ترقی کی نئی سمت

Image
Expand North Star 2025 میں پاکستان کے قومی پویلین کا افتتاح ملک کی ڈیجیٹل معیشت میں ابھرتی ہوئی خوداعتمادی کا مظہر ہے۔ دبئی ہاربر میں منعقد ہونے والا یہ عالمی ٹیکنالوجی ایونٹ دنیا بھر کے اسٹارٹ اپس، سرمایہ کاروں اور اختراع کاروں کو ایک پلیٹ فارم پر لاتا ہے، اور پاکستان کی شمولیت سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک خطے میں ڈیجیٹل انقلاب کا ایک متحرک حصہ بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ Ignite — نیشنل ٹیکنالوجی فنڈ کی سربراہی میں شرکت نے پاکستان کے ٹیک سیکٹر کو بین الاقوامی سطح پر نمایاں کیا ہے۔ پاکستانی نمائندوں کے مطابق، ملک کی آئی ٹی برآمدات میں حالیہ برسوں کے دوران قابلِ ذکر اضافہ ہوا ہے، جو 3.76 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہیں۔ یہ اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستان اب صرف صارف نہیں بلکہ ٹیکنالوجی کی فراہمی میں فعال کردار ادا کر رہا ہے۔ Expand North Star میں شامل دس نمایاں اسٹارٹ اپس اس بات کی علامت ہیں کہ پاکستان میں نوجوان تخلیق کار اور کاروباری افراد عالمی معیار کے منصوبے تخلیق کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ تاہم، مبصرین کے نزدیک یہ کامیابی صرف آغاز ہے۔ اس پیش رفت کو پائیدار بنانے کے لیے ضروری...

دبئی: ترقی اور مواقع کا مینار

Image
دبئی، جو کبھی ایک سادہ سا ریگستانی تجارتی بندرگاہ تھا، آج ایک جدید عالمی شہر بن چکا ہے جو روایت اور جدت کا بہترین امتزاج پیش کرتا ہے۔ سیاحت، ہوا بازی، اور لاجسٹکس میں اس کی حکمتِ عملی پر مبنی سرمایہ کاری نے دبئی کو عرب دنیا میں ترقی کی علامت بنا دیا ہے۔ لیکن دبئی کی کامیابی کا راز کیا ہے؟ اور یہ اپنے ثقافتی ورثے کو تیز رفتار جدیدیت کے ساتھ کس طرح ہم آہنگ رکھتا ہے؟ --- عالمی ہنر کا مرکز دبئی کا کھلا کاروباری ماحول اور قابلیت پر مبنی نظام اسے دنیا بھر کے پیشہ ور افراد اور کاروباریوں کے لیے ایک پرکشش مقام بناتا ہے، جن میں پاکستان اور بنگلہ دیش کے لوگ بھی شامل ہیں۔ تجارت، سیاحت، اور مالیات پر مبنی دبئی کی متنوع معیشت ترقی اور اختراع کے بے شمار مواقع فراہم کرتی ہے۔ خاص طور پر پاکستانیوں اور بنگلہ دیشیوں کے لیے دبئی کیرئیر میں ترقی اور کاروباری امکانات کے لحاظ سے ایک بہترین منزل ثابت ہوا ہے۔ --- دبئی کی کامیابی کا راز تو دبئی کی کامیابی کا راز کیا ہے؟ اس کے پیچھے کئی عوامل کارفرما ہیں، جن میں شامل ہیں: طویل المدتی وژن اور منصوبہ بندی: دبئی کی قیادت نے ہمیشہ طویل المدتی منصوبہ بندی اور حکمتِ ...

خواتین بینک کی نجکاری: ترقی یا توازن کا امتحان؟"

Image
پاکستان میں فرسٹ ویمن بینک کی نجکاری کا فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک کو معاشی استحکام کے لیے مشکل فیصلے کرنا پڑ رہے ہیں۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ غیر ملکی سرمایہ کاری کے ذریعے نہ صرف ملکی معیشت میں بہتری آئے گی بلکہ نجکاری کے عمل سے ریاستی اداروں کی کارکردگی میں بھی شفافیت بڑھے گی۔ یہ قدم مالی نظم و ضبط کے عالمی تقاضوں، بالخصوص آئی ایم ایف کے اصلاحاتی ایجنڈے، کے تناظر میں ایک متوقع پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔ تاہم اس فیصلے کے سماجی اور مالی اثرات پر مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں۔ ایک جانب یہ امید کی جا رہی ہے کہ بینک کے نئے انتظامی ماڈل سے خواتین کے لیے بہتر مالی سہولتیں دستیاب ہوں گی، دوسری جانب خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ نجکاری کے بعد خواتین کے لیے مخصوص مالیاتی ترجیحات کمزور پڑ سکتی ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ حکومت بینک کے سماجی کردار کو برقرار رکھنے کے لیے واضح پالیسی اقدامات کرے۔ نجکاری بذاتِ خود کسی معیشت کے لیے مثبت پیش رفت ہو سکتی ہے، بشرطیکہ اس کے نفاذ میں توازن، شفافیت اور عوامی مفاد کو ترجیح دی جائے۔ اگر یہ عمل درست طریقے سے مکمل ہوتا ہے تو یہ نہ صرف پاکستان کے سرمایہ کاری م...

دبئی میں INTA کا علاقائی دفتر دانشورانہ املاک کے تحفظ کی نئی جہت"

Image
چارلس شبّان، ریجنل پریزیڈنٹ برائے مشرقِ وسطیٰ و شمالی افریقہ (INTA)، نے دبئی میں تنظیم کے نئے دفتر کے قیام کو ایک تاریخی سنگِ میل قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق یہ دفتر خطے میں دانشورانہ املاک کے تحفظ کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ عالمی تجارت میں علاقائی شمولیت کو مضبوط بنائے گا۔ دبئی انٹرنیشنل فنانشل سینٹر میں قائم یہ دفتر INTA کے 837 ارکان اور 263 اداروں کے ساتھ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کا ذریعہ بنے گا۔ INTA کے دبئی دفتر کا قیام ایک ایسے وقت میں عمل میں آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے ممالک اقتصادی تنوع، ڈیجیٹل گورننس، اور تخلیقی معیشت کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ دبئی کا جدید انفراسٹرکچر، مربوط قانون سازی، اور جغرافیائی محلِ وقوع اسے عالمی تجارتی مراکز سے جوڑنے میں منفرد بناتا ہے۔ چارلس شبّان کے مطابق، یہ دفتر جعل سازی کے خلاف اقدامات کو تیز کرنے اور رکن ممالک کو قومی IP پالیسیوں کے قیام میں مدد فراہم کرے گا۔ ماہرین کے نزدیک، اس اقدام کے اثرات طویل مدتی ہوں گے، کیونکہ خطے کی مجموعی GDP تقریباً 5.2 ٹریلین ڈالر ہے اور صارفین کی منڈی 2032 تک 1.4 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔ ایسے میں دان...

خیبر پختونخوا کی قیادت میں تبدیلی: پی ٹی آئی کی نئی حکمتِ عملی یا اندرونی استحکام کی تلاش؟

Image
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے خیبر پختونخوا کے وزیرِاعلیٰ علی امین گنڈاپور کی جگہ سہیل آفریدی کو نیا وزیراعلیٰ نامزد کرنے کا فیصلہ سیاسی منظرنامے میں ایک اہم موڑ سمجھا جا رہا ہے۔ گنڈاپور کا کہنا ہے کہ انہوں نے عمران خان کے حکم پر استعفیٰ دیا، جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ پارٹی میں قیادت کی تبدیلی محض ایک انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ قیادت کے اندر نئی سمت اختیار کرنے کی کوشش ہے۔ خیبر پختونخوا کی صورتحال—خاص طور پر مالی بحران اور دہشت گردی کے بڑھتے خطرات—نے اس تبدیلی کو بظاہر ایک "ضرورت" کے طور پر پیش کیا ہے۔ سیاسی مبصرین اس فیصلے کو عمران خان کی جماعت میں "مرکزی نظم و ضبط" کی بحالی کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ گنڈاپور کے استعفے کے بعد سہیل آفریدی کو لانا، ایک ایسے موقع پر جب صوبہ دہشت گردی کے واقعات اور وفاقی پالیسیوں سے اختلافات کا سامنا کر رہا ہے، پی ٹی آئی کے لیے اپنی خودمختاری ظاہر کرنے کی ایک کوشش بھی ہو سکتی ہے۔ تاہم، اس تبدیلی نے یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ آیا یہ فیصلہ پارٹی کی اندرونی چپقلشوں—خصوصاً عمران خان کی بہن علیمہ خان اور گنڈاپور کے درمیان اختلافات—سے با...

"ایک سفارتکار کا دل: فیصل نیاز ترمذی کی خدمات اور رخصتی کا احساس"

Image
سفارتکاری کا فن ہمیشہ سے تعلقات، احساسات اور عملیت کے درمیان توازن کا نام رہا ہے۔ پاکستان کے سفیر فیصل نیاز ترمذی کی متحدہ عرب امارات میں مدتِ تعیناتی اس توازن کی بہترین مثال ثابت ہوئی۔ انہوں نے نہ صرف تجارتی اور سیاسی تعلقات کو مضبوط کیا بلکہ دو قوموں کے درمیان انسانی رشتوں کو بھی نئی زندگی دی۔ ان کا کہنا کہ "یو اے ای میرے لیے محض تعیناتی نہیں بلکہ میری روح کا حصہ ہے" ان کے جذبے کی سچائی کا آئینہ دار ہے۔ فیصل ترمذی کے دور میں پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تعلقات میں قابلِ ذکر پیش رفت ہوئی۔ تجارتی شراکت میں تیس فیصد اضافہ، ترسیلاتِ زر میں نمایاں بہتری، اور ثقافتی تبادلوں میں وسعت — یہ سب ان کے وژن اور محنت کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے پاکستانی کمیونٹی کو متحد کرنے کے لیے جو اقدامات کیے، وہ اب ایک مضبوط مثال کے طور پر باقی رہیں گے۔ ان کی قیادت میں پاکستان بزنس کونسلز اور تعلیمی اداروں نے نئی راہیں تلاش کیں، جس سے دوطرفہ تعاون میں عملی بنیادیں مضبوط ہوئیں۔ تاہم، ان کی رخصتی کے لمحات جذباتی بھی تھے۔ یہ واضح تھا کہ ان کے لیے متحدہ عرب امارات صرف ایک میزبان ملک نہیں بلکہ دوسرا گ...

ایران اور پاکستان کے تاریخی، سیاسی و ثقافتی تعلقات: ایک پائیدار دوستی کی داستان.

Image
ایران ان ممالک میں سے ایک تھا جس نے اگست 1947 میں پاکستان کے قیام کے فوراً بعد اس کی خودمختاری کو تسلیم کیا۔ یہ قدم نہ صرف سفارتی سطح پر ایک مثبت اشارہ تھا بلکہ دونوں برادر اسلامی ممالک کے درمیان دیرپا تعلقات کی بنیاد بھی بنا۔ ابتدائی دہائیوں میں ایران اور پاکستان کے روابط زیادہ تر خوشگوار رہے، اور دونوں ممالک نے مختلف خطوں میں ایک دوسرے کے مفادات کا احترام کیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ تعلقات مزید گہرے ہوتے گئے، خصوصاً علاقائی اور عالمی حالات کے تناظر میں دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کے نئے دروازے کھولے۔ حالیہ برسوں میں ایران اور پاکستان کے درمیان سیاسی، دفاعی اور اقتصادی تعلقات میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اتوار کے روز شائع ہونے والے تہران ٹائمز کے خصوصی شمارے میں انہی تعلقات پر تفصیل سے روشنی ڈالی گئی ہے۔ اس اشاعت میں بتایا گیا ہے کہ دونوں ممالک نے نہ صرف سفارتی سطح پر باہمی رابطوں کو مضبوط کیا ہے بلکہ تجارت، توانائی، سرحدی سلامتی اور علاقائی ترقی جیسے شعبوں میں بھی باہمی تعاون کو فروغ دیا ہے۔ دفاعی تعاون کے علاوہ دونوں ممالک خطے میں امن و استحکام کے لیے مشترکہ حکمت عمل...

طوفان، بارشیں اور پاکستان کی موسمیاتی حقیقت

Image
پاکستان اس وقت ایک بار پھر شدید موسمی خطرات کی زد میں ہے، جہاں سمندری طوفان ’’شکتی‘‘ نے کراچی اور ساحلی علاقوں کو غیر یقینی صورتحال میں مبتلا کر دیا ہے۔ محکمۂ موسمیات کی تازہ ترین پیش گوئی کے مطابق سندھ اور بلوچستان کے مختلف اضلاع میں طوفانی ہوائیں اور بارشیں متوقع ہیں۔ یہ حالات ایک بار پھر شہریوں کے لیے مشکلات اور حکومت کے لیے بڑے امتحان کا باعث بن رہے ہیں کہ وہ کس حد تک عوام کو بروقت سہولیات اور مدد فراہم کر سکتی ہے۔ پنجاب میں بھی 5 سے 7 اکتوبر تک بارشوں کی پیش گوئی کی گئی ہے، جو پہلے سے متاثرہ دیہی آبادی کے مسائل کو مزید بڑھا سکتی ہیں۔ سیلاب سے متاثرہ کسان اور دیہات پہلے ہی نقصان سہہ چکے ہیں، ایسے میں مزید بارشیں زرعی پیداوار اور نقل و حمل دونوں کے لیے خطرہ ثابت ہو سکتی ہیں۔ یہاں یہ سوال اہم ہے کہ حکومت اور ادارے کس حد تک پہلے سے تیار ہیں اور کیا وہ اس بار ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھ کر بہتر اقدامات کر سکیں گے؟ یہ صورتحال ایک بڑے سوال کو جنم دیتی ہے کہ پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے اثرات سے بچنے کے لیے کیا حکمتِ عملی اپنانی چاہیے۔ ماہرین کئی برسوں سے خبردار کر رہے ہیں کہ بارشوں...