صومالیہ کا نیا دفاعی رخ — سعودی عرب اور ترکیہ کی شراکت داری
صومالیہ نہ صرف زمینی فوج کی تربیت پر توجہ دے رہا ہے بلکہ وہ اپنی فضائی صلاحیتوں کو بھی جدید بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق صومالیہ پاکستان سے جے ایف-۱۷ تھنڈر بلاک تھری جیٹ طیارے حاصل کرنے کے لیے مذاکرات کر رہا ہے، جنہیں سعودی عرب اور ترکیہ کی حمایت حاصل ہے ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ صومالیہ کی قومی دفاعی ضرورت ہے یا پھر قرن افریقہ میں سعودی-ترک محور کے قیام کا ایک حصہ؟ پس منظر: جے ایف-۱۷ تھنڈر طیاروں کا معاہدہ صومالیہ جے ایف-۱۷ تھنڈر جیٹ طیارے کیوں خرید رہا ہے؟ صومالیہ پاکستان کے ساتھ جے ایف-۱۷ تھنڈر بلاک تھری طیاروں کی خریداری کے لیے مذاکرات کر رہا ہے۔ یہ معاہدہ پائلٹ کی تربیت، دیکھ بھال کی معاونت، اور آپریشنل تیاری کے پروگراموں پر مشتمل ہے ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس معاہدے کا مقصد صومالی فضائیہ کی صلاحیتوں کو بڑھانا اور علاقائی سلامتی کے تعاون کو مضبوط کرنا ہے ۔ یہ معاہدہ پاکستان کے بڑھتے ہوئے دفاعی برآمدی منصوبے کو بھی ظاہر کرتا ہے اور اتحادی ممالک کے ساتھ فوجی تعلقات کو مضبوط کرتا ہے ۔ تجزیہ: سعودی-ترک محور کا ظہور ماہرین کے مطابق ۲۰۲۶ میں قرن افریقہ کی سلامتی کی صو...