Posts

Showing posts from July, 2026

صومالیہ کا نیا دفاعی رخ — سعودی عرب اور ترکیہ کی شراکت داری

Image
صومالیہ نہ صرف زمینی فوج کی تربیت پر توجہ دے رہا ہے بلکہ وہ اپنی فضائی صلاحیتوں کو بھی جدید بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق صومالیہ پاکستان سے جے ایف-۱۷ تھنڈر بلاک تھری جیٹ طیارے حاصل کرنے کے لیے مذاکرات کر رہا ہے، جنہیں سعودی عرب اور ترکیہ کی حمایت حاصل ہے ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ صومالیہ کی قومی دفاعی ضرورت ہے یا پھر قرن افریقہ میں سعودی-ترک محور کے قیام کا ایک حصہ؟ پس منظر: جے ایف-۱۷ تھنڈر طیاروں کا معاہدہ صومالیہ جے ایف-۱۷ تھنڈر جیٹ طیارے کیوں خرید رہا ہے؟ صومالیہ پاکستان کے ساتھ جے ایف-۱۷ تھنڈر بلاک تھری طیاروں کی خریداری کے لیے مذاکرات کر رہا ہے۔ یہ معاہدہ پائلٹ کی تربیت، دیکھ بھال کی معاونت، اور آپریشنل تیاری کے پروگراموں پر مشتمل ہے ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس معاہدے کا مقصد صومالی فضائیہ کی صلاحیتوں کو بڑھانا اور علاقائی سلامتی کے تعاون کو مضبوط کرنا ہے ۔ یہ معاہدہ پاکستان کے بڑھتے ہوئے دفاعی برآمدی منصوبے کو بھی ظاہر کرتا ہے اور اتحادی ممالک کے ساتھ فوجی تعلقات کو مضبوط کرتا ہے ۔ تجزیہ: سعودی-ترک محور کا ظہور ماہرین کے مطابق ۲۰۲۶ میں قرن افریقہ کی سلامتی کی صو...

ایران اور یورپ کے درمیان سفارتی کشیدگی: اقتصادی نتائج اور سلامتی کے چیلنجز

Image
مارچ ۲۰۲۶ میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں نے نہ صرف مشرق وسطیٰ کو ہلا کر رکھ دیا بلکہ ایران اور یورپ کے درمیان سفارتی کشیدگی کو بھی خطرناک حد تک بڑھا دیا۔ یورپی پارلیمنٹ کی صدر رابرٹا میٹسولا نے ایران کے تمام سفارتی عملے کو یورپی پارلیمنٹ کی عمارتوں میں داخلے سے روکنے کا حکم دے دیا ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ سفارتی پابندیاں یورپ کی معیشت کو ایران کے ساتھ کشیدگی کے معاشی اثرات سے بچا سکیں گی؟ پس منظر: یورپی پارلیمنٹ کا تاریخی فیصلہ یورپی پارلیمنٹ نے ایران کے سفارت کاروں پر پابندی کیوں عائد کی؟ جنوری ۲۰۲۶ میں یورپی پارلیمنٹ کی صدر نے ایران کے تمام سفارتی عملے کو یورپی پارلیمنٹ کے احاطے میں داخلے سے روکنے کا حکم دیا ۔ یہ فیصلہ ایران میں حالیہ مظاہروں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے تناظر میں کیا گیا تھا ۔ جواب میں ایران نے تمام یورپی ممالک کے سفیروں کو طلب کیا اور تحریری طور پر احتجاج ریکارڈ کرایا۔ ایران کے ترجمان کا کہنا تھا کہ یہ اقدام "غیر قانونی، غیر معقول اور انتہائی غلط" ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ سفارتی تعلقات میں شدید کشیدگی پیدا ہو گئی ...
Image
  ۷ جولائی ۲۰۲۶ کی شب ایک بوئنگ ۷۳۷-۴۰۰ کارگو طیارہ ، جو شارجہ سے کراچی آ رہا تھا، بحیرہ عرب میں لاپتہ ہو گیا۔ پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کے مطابق طیارے کے پائلٹ نے رات ۹:۱۸ بجے کراچی ایریا کنٹرول سینٹر کو نیویگیشن سسٹم میں خرابی کی اطلاع دی۔ صرف تین منٹ بعد، ۹:۲۱ بجے، طیارہ ریڈار پر تیزی سے نیچے گرتا ہوا دکھائی دیا اور پھر اس کا ریڈار اور مواصلاتی رابطہ مکمل طور پر ختم ہو گیا۔ طیارہ کراچی کے مغرب میں تقریباً ۲۸۷ کلومیٹر (۱۵۵ سمندری میل) کے فاصلے پر لاپتہ ہوا۔ لاپتہ طیارے میں عملے کے کتنے افراد تھے؟ ذرائع کے مطابق اس کارگو طیارے میں ۵ عملے کے افراد سوار تھے۔ کے ٹو ایئرویز نے ان کی شناخت کیپٹن محمد رضوان ادریس، فرسٹ آفیسر فیصل محمود، لوڈ ماسٹر محمد توفیق، انجینئر عارف صدیقی اور محمد حامد کے طور پر کی ہے۔ یہ طیارہ ایک کارگو پرواز تھی جس میں کوئی مسافر سوار نہیں تھا۔ پاکستان نیوی کا تلاش آپریشن کہاں جاری ہے؟ طیارے کے لاپتہ ہونے کے فوری بعد پاکستان نیوی اور ایئر فورس نے مشترکہ تلاش آپریشن شروع کر دیا ۔ پاکستان نیوی نے اپنی جنگی جہاز پی این ایس ذوالفقار کو علاقے میں بھیجا ہے، جبکہ پاکست...

دس سال بعد بھی ایدھی زندہ ہیں — عبدالستار ایدھی کی برسی پر خصوصی تحریر

Image
آج ۸ جولائی ۲۰۲۶ کو پاکستان کے عظیم ترین انسان دوست عبدالستار ایدھی کی دسویں برسی منائی جا رہی ہے۔ عبدالستار ایدھی ۱۹۲۸ میں گجرات، برطانوی ہندوستان کے ایک چھوٹے سے گاؤں بانتوا میں پیدا ہوئے تھے۔ ۱۹۴۷ میں تقسیمِ ہند کے بعد وہ کراچی آئے اور ۱۹۵۱ میں اپنی فلاحی خدمات کا آغاز کیا۔ انہوں نے ایک ایسی فلاحی تنظیم قائم کی جسے آج پوری دنیا میں ایدھی فاؤنڈیشن کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ایدھی فاؤنڈیشن کیسے وجود میں آئی؟ ایدھی فاؤنڈیشن کا سفر ۱۹۵۱ میں ایک چھوٹے سے میڈیکل ڈسپنسری سے شروع ہوا۔ انہوں نے اپنی بچت سے کراچی کے علاقے میٹھادر میں ایک چھوٹی سی دکان خریدی اور ایک ڈسپنسری قائم کی جس میں ہر آنے والے کو مفت علاج کی سہولت دی جاتی تھی۔ چندہ دہندگان کو رسید دی جاتی اور یہ یقین دہانی کرائی جاتی کہ اگر وہ اپنا فیصلہ بدلیں تو ان کی رقم واپس کر دی جائے گی۔ ۱۹۵۷ کے انفلوئنزا کی وبا اور ۱۹۶۵ کی پاک بھارت جنگ کے دوران ان کی امدادی سرگرمیوں کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا گیا۔ عبدالستار ایدھی کا طرزِ زندگی کیسا تھا؟ ایدھی کا طرزِ زندگی انتہائی سادہ تھا۔ ان کے پاس جب انتقال ہوا تو صرف دو جوڑے کپڑے تھے۔ وہ کبھی ...

لاہور کے ٹیوشن سینٹر میں چھت گرنے سے ۱۴ معصوم بچے جاں بحق

Image
  ۳۰ جون ۲۰۲۶ کو لاہور کے مضافاتی علاقہ کہنہ میں واقع ایک نجی ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے سے کم از کم ۱۴ معصوم بچے جاں بحق ہو گئے ۔ اس ہولناک حادثے میں ۸ بچے زخمی بھی ہوئے جنہیں فوری طور پر ہسپتال منتقل کر دیا گیا ۔ ہلاک ہونے والوں میں ۹ سال سے کم عمر بچے اور ایک ۳۰ سالہ خاتون ٹیچر بھی شامل تھی ۔ ٹیوشن سینٹر کی چھت کیوں گری؟ ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ ٹیوشن سینٹر ایک پرانی رہائشی عمارت میں چل رہا تھا جس کی چھت ناقص اور خستہ حال تھی ۔ اس عمارت کی دوسری منزل تعمیرات کے مراحل میں تھی اور تعمیراتی سامان کا وزن بوجھ برداشت کرنے کی حد سے زیادہ تھا جس کی وجہ سے چھت نیچے کلاس روم پر گر گئی ۔ پولیس افسر فیصل کامران کے مطابق یہ واقعہ ناقص تعمیراتی معیار کی وجہ سے پیش آیا ۔ لاہور: کاہنہ میں ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے کا واقعہ #ARYNews pic.twitter.com/epKgy1Ltqk — ARY NEWS (@ARYNEWSOFFICIAL) July 1, 2026 کیا ٹیوشن سینٹر رجسٹرڈ تھا؟ پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ یہ ٹیوشن سینٹر غیر رجسٹرڈ تھا اور ایک نجی رہائشی مکان میں چل رہا تھا جس کی چھت ناقص تھی ...

انڈس واٹر ٹریٹی کو بچانے کے لیے پاکستان کی تنہا سفارتی جنگ

Image
ا نڈس واٹر ٹریٹی ۱۹۶۰ میں پاکستان اور بھارت کے درمیان عالمی بینک کی ثالثی سے طے پانے والا ایک تاریخی معاہدہ ہے جسے دنیا کے کامیاب ترین بین الاقوامی آبی معاہدوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس معاہدے کے تحت دریائے سندھ، جہلم اور چناب کے پانی پاکستان جبکہ راوی، بیاس اور ستلج کے پانی بھارت کو مختص کیے گئے تھے۔ تاہم اپریل ۲۰۲۵ میں پہلگام حملے کے بعد بھارت نے یکطرفہ طور پر اس معاہدے کو معطل کرنے کا اعلان کر دیا۔ بھارت نے انڈس معاہدہ کیوں معطل کیا؟ بھارت نے پہلگام حملے کے جواب میں یہ معاہدہ معطل کیا تھا، تاہم پاکستان نے اس الزام کو مسترد کر دیا۔ اس کے بعد بھارتی وزیر نے کہا کہ پاکستان کو ایک قطرہ پانی بھی نہیں ملے گا۔ ماہرین کے مطابق یہ اقدام بین الاقوامی قانون کے خلاف ہے کیونکہ معاہدے میں کہیں بھی یکطرفہ معطلی کا کوئی باب موجود نہیں۔ ڈان اخبار کے مطابق اس معاہدے کو ۶۶ سال تک جنگی صورت حال میں بھی برقرار رکھا گیا تھا۔ کیا بھارت یکطرفہ طور پر معاہدہ ختم کر سکتا ہے؟ پاکستان کے انڈس واٹر کمشنر سید مہر علی شاہ کے مطابق یہ معاہدہ ایک قانونی طور پر پابند معاہدہ ہے اور کوئی بھی فریق یکطرفہ طور پر اسے معط...