روٹی اور جان کی جنگ: کیا خلیج میں کام کرنا اب موت کا سودا ہے؟
یہ وہ سوال ہے جو آج خلیجی ممالک میں کام کرنے والے لاکھوں ایشیائی مزدوروں کے ذہن میں بار بار گونج رہا ہے۔ خلیجی ممالک میں پاکستانی مہاجر مزدوروں کی مشکلات ایک تلخ حقیقت بن چکی ہیں جہاں ایران اور امریکہ/اسرائیل کے درمیان جاری جنگ نے ان کے سنہرے خوابوں کو خاک میں ملا دیا ہے۔ دسمبر ۲۰۲۵ میں شروع ہونے والی اس جنگ کے نتیجے میں اب تک کئی معصوم مزدور اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔
خلیجی ممالک میں کتنے پاکستانی مزدور کام کر رہے ہیں؟
اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ خلیج تعاون کونسل (GCC) کے ممالک یعنی سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، کویت، بحرین اور عمان میں مقیم کل آبادی کا بڑا حصہ مہاجر مزدوروں پر مشتمل ہے۔ کل ۶۲ ملین آبادی میں سے تقریباً ۳۵ ملین غیر ملکی ہیں۔ پاکستان تنہا تقریباً ۴.۹ ملین مزدور ان ممالک میں بھیج چکا ہے جو ملک کے لیے زرمبادلہ کی سب سے بڑی کڑی ہیں۔ یہ تعداد صرف اعداد و شمار نہیں بلکہ ان گھرانوں کی کہانیاں ہیں جو ان کی ماہانہ ترسیلات پر منحصر ہیں۔
ایران اور امریکہ کی جنگ کا خلیجی مزدوروں پر کیا اثر ہے؟
یہ جنگ ان مزدوروں کے لیے ایک بھیانک صورت حال بن کر سامنے آئی ہے۔ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران متحدہ عرب امارات اور قطر جیسے ممالک میں ایران کی طرف سے کیے جانے والے میزائل اور ڈرون حملوں میں کم از کم ۱۲ جنوبی ایشیائی مزدور ہلاک ہو چکے ہیں۔ ۲۸ فروری ۲۰۲۶ کو ابوظہبی میں ایک پاکستانی مزدور مريب زمان نیزار اس وقت جاں بحق ہوئے جب ایک روکے گئے ڈرون کا ملبہ ان کی گاڑی پر جا گرا۔ ۵۵ سالہ بنگلہ دیشی مزدور احمد علی پانی کے ٹینکر پر کام کرتے ہوئے اسی طرح کی واردات میں مارے گئے۔ یہ واقعات بتاتے ہیں کہ عام شہری، جو اس جنگ کا حصہ نہیں، کس طرح سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔
کفالہ نظام: مزدوروں کے لیے ایک اور مسئلہ
صرف جنگی خطرہ ہی واحد مسئلہ نہیں ہے۔ خلیجی ممالک میں رائج ’کفالہ‘ یا اسپانسرشپ کا نظام مزدوروں کو مزید مشکلات میں ڈال دیتا ہے۔ اس نظام کے تحت مزدور کا تعلق صرف ایک کفیل سے ہوتا ہے، اور وہ ملازمت چھوڑ کر واپس نہیں جا سکتا یا کوئی اور نوکری نہیں کر سکتا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ نظام مزدوروں کو تنازعات کے دوران پھنسا کر رکھ دیتا ہے، کیونکہ ان کے پاس نقل و حرکت کی آزادی نہیں ہوتی۔ اس کے علاوہ، ان مزدوروں کو اکثر ایمرجنسی انخلاء کے منصوبوں میں شامل نہیں کیا جاتا اور نہ ہی انہیں پناہ گاہیں میسر ہوتی ہیں۔
پاکستانی حکومت جنگ زدہ علاقوں سے اپنے شہریوں کو کیسے واپس لا رہی ہے؟
اب تک پاکستان سمیت متعدد ایشیائی ممالک نے اپنے شہریوں کو واپس لانے کے لیے خصوصی فلائٹس کا اہتمام کیا ہے۔ فلپائن کی حکومت نے ۲۳ مارچ تک تقریباً ۲۰۰۰ فلپائنی مزدوروں اور ان کے انحصار افراد کو واپس بلا لیا تھا۔ بنگلہ دیش نے بھی بحرین سے اپنے ۵۰۰ سے زائد شہریوں کو وطن واپس بھیجا۔ تاہم پاکستانی وزارت خارجہ کے مطابق ابھی تک واپس آنے والوں کی تعداد بہت کم ہے، اور بڑی تعداد ابھی بھی وہیں موجود ہے۔ یہ صورتحال بتاتی ہے کہ زیادہ تر مزدور معاشی مجبوریوں کی وجہ سے واپسی کا خطرہ مول نہیں لے رہے۔
الرٹ: ایران کی بندرگاہوں پر جہازوں میں پھنسے 16 پاکستانی شہریوں کو کامیابی کے ساتھ وطن واپس منتقل کر دیا گیا ہے اور وہ اس وقت پاکستان واپسی کے سفر پر ہیں، یہ آپریشن پاکستانی حکام، تہران میں ایرانی حکام اور شپنگ کمپنیوں کے درمیان باہمی رابطے اور مشترکہ کوششوں کے نتیجے میں مکمل کیا…
— Shehzad nawaz (@sknawaz478) March 29, 2026
واپسی پر مزدوروں کو کن معاشی مسائل کا سامنا ہے؟
ایک طرف میزائل کا خطرہ ہے تو دوسری طرف واپسی پر قرض اور بے روزگاری کا اندیشہ۔ زیادہ تر مزدوروں نے بھاری بھرکم رقم بھرتی ایجنٹس کو دے کر ویزے حاصل کیے تھے۔ یہ قرض اتارنے کا واحد ذریعہ خلیج میں ملنے والی تنخواہ ہی ہے۔ فلپائنی گھریلو ملازمہ نورما ٹیکٹیکون کی طرح بہت سے مزدوروں کے لیے خلیج میں تنخواہ (تقریباً ۵۰۰ ڈالر ماہانہ) اپنے ملک کی نسبت ۴ سے ۵ گنا زیادہ ہے۔ اگر وہ بغیر پیسے کے واپس آ گئے تو نہ صرف قرضے رہ جائیں گے بلکہ گھر والوں کا پیٹ بھی پالنا مشکل ہو جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے مزدور خطرات کے باوجود وہیں رہنے کا فیصلہ کر رہے ہیں۔
خلیج میں مزدوروں کے لیے نفسیاتی بحران
جسمانی خطرات کے علاوہ یہ جنگ مزدوروں کے لیے شدید نفسیاتی بحران بھی لے کر آئی ہے۔ دبئی میں کام کرنے والے ایک بھارتی انجینئر نے بتایا کہ بار بار سنائی دینے والے دھماکوں کی آوازیں اور سائرن بے چین کر دیتے ہیں۔ ایک فلپائنی نرس جین کہتی ہیں کہ وہ ’جذباتی طور پر خود کو بند‘ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں تاکہ وہ معمول کے مطابق کام کر سکیں۔ ان کے چھوٹے بچے ٹی وی پر خبریں دیکھ کر ڈر جاتے ہیں، اور وہ انہیں یقین دلاتی ہیں کہ سب کچھ ٹھیک ہے۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQs)
سوال: کیا خلیجی ممالک میں مزدوروں کے لیے واپس آنا محفوظ ہے؟
جواب: فی الحال خلیجی ممالک میں صورت حال کشیدہ ہے۔ جہاں حکومتیں واپسی کے لیے خصوصی فلائٹس چلا رہی ہیں، وہیں مزدوروں کے سامنے معاشی مجبوریاں بھی ہیں۔ زیادہ تر مزدور قرضوں اور خاندان کے کفیل ہونے کی وجہ سے واپسی سے گریز کر رہے ہیں۔
سوال: ایران جنگ میں پاکستانی مزدوروں کی ہلاکتوں کی تعداد کتنی ہے؟
جواب: دستیاب اطلاعات کے مطابق اب تک خلیجی ممالک میں کم از کم ۴ پاکستانی شہری اس جنگ کے نتیجے میں ہلاک ہو چکے ہیں۔ ایک پاکستانی ماہی گیر ایرانی پانیوں میں بھی مارا گیا۔
سوال: خلیجی ممالک میں مہاجر مزدوروں کی حفاظت کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟
جواب: متحدہ عرب امارات اور قطر جیسی حکومتوں نے آن لائن تعلیم اور دور سے کام کرنے کا نظام نافذ کیا ہے۔ تاہم تعمیرات اور ترسیلاتِ زر جیسے شعبوں میں کام کرنے والے مزدور اب بھی باہر نکلنے پر مجبور ہیں۔
سوال: کیا خلیجی ممالک میں بھیجے جانے والے زرمبادلہ پر جنگ کا اثر پڑے گا؟
جواب: ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ اگر جنگ طویل ہوئی تو خلیجی معیشتوں پر اثر پڑے گا، جس کا براہ راست اثر پاکستان کو بھیجی جانے والی ترسیلاتِ زر پر پڑ سکتا ہے۔ پاکستان کو فروری ۲۰۲۶ میں ۳.۳ بلین ڈالر کی ترسیلات موصول ہوئی تھیں۔

Comments
Post a Comment