دس سال بعد بھی ایدھی زندہ ہیں — عبدالستار ایدھی کی برسی پر خصوصی تحریر

آج ۸ جولائی ۲۰۲۶ کو پاکستان کے عظیم ترین انسان دوست عبدالستار ایدھی کی دسویں برسی منائی جا رہی ہے۔ عبدالستار ایدھی ۱۹۲۸ میں گجرات، برطانوی ہندوستان کے ایک چھوٹے سے گاؤں بانتوا میں پیدا ہوئے تھے۔ ۱۹۴۷ میں تقسیمِ ہند کے بعد وہ کراچی آئے اور ۱۹۵۱ میں اپنی فلاحی خدمات کا آغاز کیا۔ انہوں نے ایک ایسی فلاحی تنظیم قائم کی جسے آج پوری دنیا میں ایدھی فاؤنڈیشن کے نام سے جانا جاتا ہے۔


ایدھی فاؤنڈیشن کیسے وجود میں آئی؟

ایدھی فاؤنڈیشن کا سفر ۱۹۵۱ میں ایک چھوٹے سے میڈیکل ڈسپنسری سے شروع ہوا۔ انہوں نے اپنی بچت سے کراچی کے علاقے میٹھادر میں ایک چھوٹی سی دکان خریدی اور ایک ڈسپنسری قائم کی جس میں ہر آنے والے کو مفت علاج کی سہولت دی جاتی تھی۔ چندہ دہندگان کو رسید دی جاتی اور یہ یقین دہانی کرائی جاتی کہ اگر وہ اپنا فیصلہ بدلیں تو ان کی رقم واپس کر دی جائے گی۔ ۱۹۵۷ کے انفلوئنزا کی وبا اور ۱۹۶۵ کی پاک بھارت جنگ کے دوران ان کی امدادی سرگرمیوں کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا گیا۔


عبدالستار ایدھی کا طرزِ زندگی کیسا تھا؟

ایدھی کا طرزِ زندگی انتہائی سادہ تھا۔ ان کے پاس جب انتقال ہوا تو صرف دو جوڑے کپڑے تھے۔ وہ کبھی کوئی تنخواہ نہیں لیتے تھے اور نہ ہی انہوں نے کبھی اپنا ذاتی گھر بنایا۔ وہ ایدھی فاؤنڈیشن کے ہیڈکوارٹر میں ایک چھوٹے سے کمرے میں رہتے تھے جس میں ایک بستر، ایک سنک اور ایک چولہا تھا۔ ان کی بیوی نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ "انہوں نے کبھی اپنے بچوں کے لیے گھر نہیں بنایا"۔ یہ سادگی اور خود انکاری ہی وہ وجہ تھی جس نے انہیں عوام کے دلوں میں ایک خاص مقام عطا کیا۔

ایدھی نے سیاست سے کیوں کنارہ کشی اختیار کی؟

ایک دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ ۱۹۹۰ کی دہائی میں جنرل حمید گل اور عمران خان نے ایدھی کو بینظیر بھٹو کی حکومت کے خلاف ایک سیاسی تحریک میں شامل ہونے کی پیشکش کی۔ لیکن ایدھی نے اس پیشکش کو مسترد کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ "وہ میری شان سے بندوق چلانا چاہتے تھے مگر میں نے انہیں ایسا نہیں کرنے دیا"۔ انہوں نے زندگی بھر سیاست سے دور رہنے کو ترجیح دی اور عوامی خدمات کو اپنا مشن بنایا۔


ایدھی کی سب سے بڑی خدمت کیا ہے؟

ایدھی نے دنیا کی سب سے بڑی رضاکارانہ ایمبولینس سروس قائم کی۔ ان کے پاس ۱,۵۰۰ سے زائد ایمبولینسز تھیں اور گنیز ورلڈ ریکارڈ کے مطابق یہ دنیا کی سب سے بڑی رضاکارانہ ایمبولینس سروس ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے بے گھر افراد، یتیموں اور جانوروں کے لیے پناہ گاہیں قائم کیں۔ ان کی فاؤنڈیشن کے تحت ۱۷ پناہ گاہوں میں تقریباً ۵,۷۰۰ افراد رہائش پذیر ہیں۔ بے نام بچوں کے لیے انہوں نے جھولے لگوائے جن پر لکھا تھا: "معصوم بچوں کو قتل نہ کرو، انہیں ہمارے جھولے میں چھوڑ دو"۔


ایدھی کو نوبل انعام کیوں نہیں ملا؟

ایدھی کو متعدد بار نوبل امن انعام کے لیے نامزد کیا گیا تھا اور ملالہ یوسفزئی نے بھی انہیں نامزد کیا تھا۔ تاہم وہ کبھی یہ انعام حاصل نہ کر سکے۔ اس کے باوجود انہیں فلپائن کا مقصیسے ایوارڈ، سوویت یونین کا لینن امن انعام، ۲۰۰۰ میں بالزان انعام برائے انسانیت اور پاکستان کا سب سے بڑا اعلیٰ شہری اعزاز نشانِ امتیاز ملا۔ لیکن ان ایوارڈز سے زیادہ اہم وہ مقام ہے جو انہوں نے عوام کے دلوں میں حاصل کیا۔


ایچ دو: اکثر پوچھے جانے والے سوالات

سوال: عبدالستار ایدھی کب اور کہاں پیدا ہوئے؟

جواب: وہ ۱۹۲۸ میں گجرات، برطانوی ہندوستان کے گاؤں بانتوا میں پیدا ہوئے تھے۔

سوال: ایدھی فاؤنڈیشن کی ایمبولینس سروس کتنی بڑی ہے؟

جواب: ایدھی فاؤنڈیشن کے پاس ۱,۵۰۰ سے زائد ایمبولینسز ہیں اور گنیز ورلڈ ریکارڈ کے مطابق یہ دنیا کی سب سے بڑی رضاکارانہ ایمبولینس سروس ہے۔

سوال: کیا عبدالستار ایدھی نے کبھی کوئی تنخواہ لی؟

جواب: نہیں، انہوں نے کبھی کوئی تنخواہ نہیں لی اور نہ ہی انہوں نے اپنا ذاتی گھر بنایا۔

سوال: ایدھی کو کون سے بڑے ایوارڈز ملے؟

جواب: انہیں مقصیسے ایوارڈ، لینن امن انعام، بالزان انعام برائے انسانیت اور پاکستان کا نشانِ امتیاز ملا۔

سوال: کیا ایدھی نے سیاست میں حصہ لیا؟

جواب: نہیں، انہوں نے زندگی بھر سیاست سے دور رہنے کو ترجیح دی اور ۱۹۹۰ کی دہائی میں سیاسی پیشکش کو بھی مسترد کر دیا۔

Comments

Popular posts from this blog

شدید بارشیں اور طوفان: موسمیاتی تبدیلیوں کا خطرناک اثر

روٹی اور جان کی جنگ: کیا خلیج میں کام کرنا اب موت کا سودا ہے؟

جرمن چانسلر فریڈرک مرز کا خطرناک اعلان: "۸۰ فیصد شامی باشندے تین سال میں ڈیپورٹ