انڈس واٹر ٹریٹی کو بچانے کے لیے پاکستان کی تنہا سفارتی جنگ
انڈس واٹر ٹریٹی ۱۹۶۰ میں پاکستان اور بھارت کے درمیان عالمی بینک کی ثالثی سے طے پانے والا ایک تاریخی معاہدہ ہے جسے دنیا کے کامیاب ترین بین الاقوامی آبی معاہدوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس معاہدے کے تحت دریائے سندھ، جہلم اور چناب کے پانی پاکستان جبکہ راوی، بیاس اور ستلج کے پانی بھارت کو مختص کیے گئے تھے۔ تاہم اپریل ۲۰۲۵ میں پہلگام حملے کے بعد بھارت نے یکطرفہ طور پر اس معاہدے کو معطل کرنے کا اعلان کر دیا۔
بھارت نے انڈس معاہدہ کیوں معطل کیا؟
بھارت نے پہلگام حملے کے جواب میں یہ معاہدہ معطل کیا تھا، تاہم پاکستان نے اس الزام کو مسترد کر دیا۔ اس کے بعد بھارتی وزیر نے کہا کہ پاکستان کو ایک قطرہ پانی بھی نہیں ملے گا۔ ماہرین کے مطابق یہ اقدام بین الاقوامی قانون کے خلاف ہے کیونکہ معاہدے میں کہیں بھی یکطرفہ معطلی کا کوئی باب موجود نہیں۔ ڈان اخبار کے مطابق اس معاہدے کو ۶۶ سال تک جنگی صورت حال میں بھی برقرار رکھا گیا تھا۔
کیا بھارت یکطرفہ طور پر معاہدہ ختم کر سکتا ہے؟
پاکستان کے انڈس واٹر کمشنر سید مہر علی شاہ کے مطابق یہ معاہدہ ایک قانونی طور پر پابند معاہدہ ہے اور کوئی بھی فریق یکطرفہ طور پر اسے معطل یا ختم نہیں کر سکتا۔ حال ہی میں ثالثی عدالت نے بھی یہ فیصلہ دیا ہے کہ اس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ "جب اعداد و شمار کا بہاؤ رک جاتا ہے تو نیچے والا ملک اندھے پن کا شکار ہو جاتا ہے"۔
پاکستان کا انڈس معاہدے میں کیا حق ہے؟
معاہدے کے تحت پاکستان کو مغربی دریاؤں کے ۸۰ فیصد پانی کا حق حاصل ہے جبکہ پاکستان کی ۸۰ فیصد سے زائد قابل کاشت زمین کا انحصار انہی دریاؤں پر ہے۔ سندھ طاس میں ۲۴۰ ملین سے زائد افراد کی معاش وابستہ ہے اور پاکستان کی زراعت قومی جی ڈی پی کا ۲۳ فیصد اور ملازمتوں کا ۳۸ فیصد فراہم کرتی ہے۔ بھارت کی جانب سے اعداد و شمار فراہم کرنے سے انکار اور چناب کے بہاؤ میں غیر معمولی تبدیلیوں نے پاکستان کے لیے سنگین خطرات پیدا کر دیے ہیں۔
🚨 Pakistan has hosted its first international seminar in Islamabad on the Indus Waters Treaty titled “Indus Water Treaty: An Instrument of Peace & Regional Stability.” Officials reaffirmed that the 1960 World Bank–brokered treaty cannot be unilaterally altered, suspended, or… pic.twitter.com/uuG4p6AKmY
— Khawaja Yaseen Usmani (@YaseenUSM_Offl) June 30, 2026
ثالثی عدالت کا انڈس معاہدے پر کیا فیصلہ ہے؟
جون ۲۰۲۶ میں ثالثی عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل نہیں کیا جا سکتا اور اس نے معاہدے کو مکمل طور پر فعال قرار دیا ہے۔ پاکستان کے کمشنر نے اسے "معاہدے کی بحالی" قرار دیا اور کہا کہ اس فیصلے نے بھارت کی جانب سے پیدا کی گئی تمام قانونی ابہام کو ختم کر دیا ہے۔
انڈس معاہدے کی خلاف ورزی کے کیا اثرات ہیں؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر پانی کا بہاؤ متاثر ہوا تو گندم، چاول، کپاس اور گنا جیسی اہم فصلوں کی پیداوار بری طرح متاثر ہوگی۔ ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار نے خبردار کیا کہ پانی کے حقوق سے محروم کرنے کی کوئی بھی کوشش خطے کے امن و سلامتی کے لیے سنگین نتائج کی حامل ہوگی۔ بلاول بھٹو زرداری نے اسے آبنائے ہرمز کی بندش سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ جس طرح آبنائے ہرمز کی بندش کے بغیر امن ممکن نہیں، اسی طرح انڈس معاہدے کی بحالی کے بغیر بھارت سے کوئی جنگ بندی قائم نہیں رہ سکتی۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
سوال: کیا بھارت نے انڈس واٹر ٹریٹی کو مکمل طور پر ختم کر دیا ہے؟
جواب: نہیں، بھارت نے اسے یکطرفہ طور پر "معطل" کرنے کا اعلان کیا ہے تاہم بین الاقوامی قانون کے تحت کوئی بھی فریق اس معاہدے کو یکطرفہ طور پر ختم نہیں کر سکتا۔
سوال: پاکستان نے اس معاہدے کو بچانے کے لیے کیا اقدامات کیے ہیں؟
جواب: پاکستان نے عالمی عدالتوں میں اپنا کیس مضبوط کیا ہے اور ثالثی عدالت کے فیصلے کے بعد معاہدے کو دوبارہ فعال قرار دے دیا گیا ہے۔
سوال: کیا پاکستان کو اپنے پانی کے حقوق مل سکیں گے؟
جواب: پاکستان نے اپنے موقف پر سختی سے کاربند رہتے ہوئے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ بھارت کو معاہدے پر عمل درآمد کرنے پر مجبور کیا جائے۔
سوال: اس معاہدے کی خلاف ورزی سے خطے کو کیا خطرات ہیں؟
جواب: ماہرین کے مطابق یہ کشیدگی خطے میں ایک بڑی اسٹریٹجک جنگ کا باعث بن سکتی ہے کیونکہ پانی کی کمی زراعت، خوراک اور معیشت کو بری طرح متاثر کرے گی۔

Comments
Post a Comment