چین کا ایران سے مطالبہ: آبنائے ہرمز فوری کھولیں، عالمی امن کے لیے جامع جنگ بندی ناگزیر
بیجنگ میں چین اور ایران کے اعلیٰ سفارت کاروں کے درمیان ہونے والی اہم ملاقاتوں میں چین کا آبنائے ہرمز فوری کھولنے کا مطالبہ سامنے آیا ہے۔ چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی کو واضح کیا کہ مشرق وسطیٰ میں تشدد کا خاتمہ اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی بحالی عالمی برادری کی اولین ترجیح ہے۔ یہ پیشرفت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورۂ چین سے قبل انتہائی اہمیت کی حامل ہے، جہاں ایران جنگ کے خاتمے کے لیے ایک جامع منصوبے پر بات چیت متوقع ہے۔
چین نے ایران سے آبنائے ہرمز کھولنے کا مطالبہ کیوں کیا؟
وانگ یی نے عراقچی سے گفتگو میں کہا کہ "ہم سمجھتے ہیں کہ جامع جنگ بندی فوری ضروری ہے، دشمنیوں کا دوبارہ شروع ہونا ناقابل قبول ہے، اور مذاکرات کو جاری رکھنا خاص طور پر اہم ہے"۔ چین نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز میں معمول کی بحری آمدورفت کی بحالی بین الاقوامی برادری کا مشترکہ مطالبہ ہے۔ چین اس جنگ سے "گہرا پریشان" ہے جس نے نہ صرف ایرانی عوام کو بلکہ علاقائی اور عالمی امن کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق اس جنگ سے قبل آبنائے ہرمز سے روزانہ اوسطاً ۱۳۸ جہاز گزرتے تھے، لیکن اب یہ تعداد کم ہو کر واحد ہندسوں میں رہ گئی ہے۔ یہ آبنائے عالمی تیل کی ترسیل کا ۲۰ فیصد راستہ ہے، اور اس کی بندش سے چین جیسے تیل درآمد کرنے والے ملک کی توانائی سلامتی شدید خطرے میں ہے۔
چین اور ایران کے درمیان اسٹریٹجک پارٹنرشپ کی کیا حیثیت ہے؟
وانگ یی نے ایران کے ساتھ "جامع اسٹریٹجک شراکت داری" کو گہرا کرنے پر زور دیا اور کہا کہ چین ہمیشہ ایران کا "قابل بھروسہ اسٹریٹجک پارٹنر" رہے گا۔ عراقچی نے چین پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ چین سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ امن کے فروغ اور جنگ کے خاتمے میں مثبت کردار ادا کرے گا۔
چین نے ایران کے پرامن جوہری توانائی کے حق کا دفاع کیا اور ایران کی اس عزم کو سراہا کہ وہ جوہری ہتھیار تیار نہیں کرے گا۔ یہ موقف خاص طور پر اس وقت اہم ہے جب امریکہ ایران سے جوہری پروگرام کو محدود کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے۔
🇨🇳🇮🇷🇺🇸 China is calling for an immediate ceasefire and wants the Strait of Hormuz reopened.
— Mario Nawfal (@MarioNawfal) May 6, 2026
- Beijing says it has been actively promoting peace talks and opposes any restart of the war
- China supports Iran's national security and sovereignty
- On the Strait, China is urging all… https://t.co/2LJzlYFI8g pic.twitter.com/Gg0jC8GiJ9
آبنائے ہرمز کی بندش سے عالمی تیل کی ترسیل پر کیا اثر پڑے گا؟
آبنائے ہرمز کی بندش نے عالمی توانائی بازاروں کو شدید متاثر کیا ہے۔ امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے چین پر الزام عائد کیا کہ وہ ایران کی توانائی خریدنے کے لیے ۹۰ فی حد تک رقم فراہم کر رہا ہے۔
اگرچہ امریکہ نے "پروجیکٹ فریڈم" کے تحت اس آبنائے کو کھولنے کے لیے فوجی آپریشن شروع کیا تھا، لیکن ٹرمپ نے پیش رفت کی امید میں اسے روک دیا۔ تاہم، فرانسیسی شپنگ کمپنی سی ایم اے سی جی ایم کے ایک جہاز پر حالیہ حملے نے صورتحال کی نزاکت کو مزید بڑھا دیا ہے۔
کیا امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی ممکن ہے؟
عراقچی نے بیجنگ میں بتایا کہ ایران "قومی خودمختاری اور وقار کا دفاع کرتے ہوئے پرامن مذاکرات کے ذریعے مکمل اور پائیدار حل" تلاش کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کو کھولنے کا مسئلہ "جلد حل کیا جا سکتا ہے"۔
پاکستان اس سلسلے میں ایک اہم ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے ٹرمپ کے اعلان پر امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ "ہم پر امید ہیں کہ موجودہ رفتار ایک پائیدار معاہدے کا باعث بنے گی جو خطے اور دنیا کے لیے دیرپا امن اور استحکام کو یقینی بنائے گی"۔
ٹرمپ کے دورۂ چین سے پہلے مشرق وسطیٰ میں صورتحال کیسی ہے؟
ٹرمپ ۱۴ سے ۱۵ مئی تک بیجنگ کا دورہ کریں گے، جہاں ایران کا معاملہ مذاکرات کی کلیدی ایجنڈے میں شامل ہوگا۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے پہلے ہی چین پر زور دیا ہے کہ وہ ایران کو بتائے کہ اس کے اقدامات کی وجہ سے وہ "عالمی سطح پر الگ تھلگ" ہو رہا ہے۔
چین خطے میں اپنے سفارتی کردار کو بڑھانا چاہتا ہے اور اس نے تجویز دی ہے کہ "خلیج اور مشرق وسطیٰ کے ممالک کو اپنا مستقبل خود اپنے ہاتھوں میں لینا چاہیے"۔ یہ بیان امریکہ پر علاقائی انحصار کم کرنے کی چینی حکمت عملی کا حصہ ہے۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQs)
سوال: چین نے ایران سے آبنائے ہرمز کھولنے کا مطالبہ کیوں کیا؟
جواب: چین نے یہ مطالبہ اس لیے کیا کیونکہ آبنائے ہرمز کی بندش سے چین کی توانائی کی سلامتی شدید خطرے میں ہے اور عالمی تیل کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔ چین ایران کا سب سے بڑا تیل خریدار ہے اور اسے اس آبنائے کے کھلنے سے براہِ راست فائدہ ہوگا۔
سوال: کیا چین اور ایران کے درمیان تعلقات میں کوئی تبدیلی آئی ہے؟
جواب: چین نے ایران کے ساتھ اپنی "جامع اسٹریٹجک شراکت داری" کو برقرار رکھنے کی یقین دہانی کرائی ہے اور ایران کے جوہری پروگرام کے پرامن پہلو کو سراہا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات مزید مستحکم ہو رہے ہیں۔
سوال: آبنائے ہرمز کی بندش سے کون سے ممالک سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں؟
جواب: آبنائے ہرمز کی بندش سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں چین، جاپان، بھارت اور جنوبی کوریا جیسے تیل درآمد کرنے والے ممالک شامل ہیں جن کا انحصار خلیجی تیل پر ہے۔ پاکستان اور انڈونیشیا جیسے ترقی پذیر ممالک کو بھی شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
سوال: کیا ایران آبنائے ہرمز کو کھولنے پر راضی ہو گیا ہے؟
جواب: ایرانی وزیر خارجہ نے اشارہ دیا ہے کہ آبنائے ہرمز کو کھولنے کا مسئلہ "جلد حل کیا جا سکتا ہے" اور وہ چین سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ اس سلسلے میں مثبت کردار ادا کرے گا۔
Comments
Post a Comment