مہنگائی کی نئی چوٹ: پیٹرول چار سو روپے کے پار، عوام کا وسائل سے بڑھتا فاصلہ
حکومت کی جانب سے ایندھن کی قیمتوں میں تازہ ترین اضافے کے بعد پیٹرول چار سو روپے فی لیٹر کے قریب پہنچ گیا ہے۔ یہ اضافہ اس وقت کیا گیا ہے جب عام آدمی پہلے ہی مہنگائی کی بھٹی میں جھلس رہا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ عالمی منڈی میں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے پیش نظر کیا گیا ہے، لیکن اعداد و شمار کھل کر بتاتے ہیں کہ اس بڑھتی ہوئی قیمت کا ایک بڑا حصہ ٹیکسوں اور مختلف لیوی پر مشتمل ہے۔
کیا واقعی عالمی مارکیٹ کی قیمتوں نے پیٹرول مہنگا کیا؟
یہ سوال اٹھانا منطقی ہے کہ کیا صرف عالمی قیمتوں میں اضافہ اس بڑھوتری کی وجہ ہے؟ ماہرینِ معیشت کے مطابق پاکستان اپنی پٹرولیم مصنوعات کا اسی فیصد تک درآمد کرتا ہے، جس کی وجہ سے مقامی قیمتیں عالمی مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ کے لیے حساس ہیں۔ تاہم، اس بار صورتحال کچھ مختلف ہے۔ گزشتہ برسوں کے دوران حکومت نے پٹرولیم لیوی میں مسلسل اضافہ کیا ہے اور عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ بڑھایا ہے۔ موجودہ صورتحال میں جہاں عالمی سطح پر مشرق وسطیٰ میں حالات کشیدہ ہیں، وہیں حکومت نے اسے عوام پر مزید بوجھ ڈالنے کا بہانہ بنا لیا ہے۔
This govt campaigned against Imran Khan for 3 years, saying petrol at Rs 139 was too expensive, that electricity at Rs 15-20 per unit was too expensive. Today, Petrol and Diesel are at Rs 400 / litre; the govt is importing the most expensive LNG at spot rates that has ever come… pic.twitter.com/Dlwt1N4jtP
— PTI (@PTIofficial) May 2, 2026
پٹرولیم لیوی اور ٹیکس — کون سا ٹیکس کتنا ہے؟
ایندھن کی قیمت کے اجزاء پر نظر ڈالیں تو حقیقت سامنے آجاتی ہے۔ فی الحال پیٹرول پر عائد مختلف ٹیکسوں اور لیوی کی تفصیل کچھ یوں ہے:
کسٹمز ڈیوٹی: ۲۳.۷۲ روپے فی لیٹر
پیٹرولیم لیوی: ۱۰۳.۵۰ روپے فی لیٹر
کلائمیٹ سپورٹ لیوی: ۲.۵۰ روپے فی لیٹر
ان لینڈ فریٹ مارجن: ۷.۳۲ روپے فی لیٹر
مارکیٹنگ کمپنی مارجن: ۷.۸۷ روپے فی لیٹر
ڈیلر کمیشن: ۸.۶۴ روپے فی لیٹر
یعنی پیٹرول کی موجودہ قیمت ۳۹۹.۸۶ روپے میں سے تقریباً ۱۵۳.۵۵ روپے صرف ٹیکسز اور لیوی پر مشتمل ہیں۔ یہ وہ رقم ہے جو حکومت عوام سے لوٹ رہی ہے۔
آئی ایم ایف کی شرائط اور حکومت کا عوام پر بھروسہ
حکومت کے مطابق وہ آئی ایم ایف کے پروگرام کے تحت پٹرولیم لیوی کو اسی روپے فی لیٹر تک لے جانے کی پابند ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا عوام کی قربانی پر حاصل کی گئی یہ "معاشی استحکام" حقیقت میں استحکام ہے یا ایک دھوکہ؟ پی ٹی آئی سمیت متعدد سیاسی جماعتوں نے اس اضافے کو "عوام کے ساتھ زیادتی" قرار دیا ہے۔ وفاقی حکومت کا پیٹرولیم لیوی سے ۱.۴۶۸ کھرب روپے جمع کرنے کا ہدف ہے، جسے پورا کرنے کے لیے عوام کی جیبیں کھنگالی جا رہی ہیں۔
مہنگائی کا گھیراؤ — بس کا کرایہ، روٹی اور دوائیں مہنگی
یہ اضافہ صرف گاڑی کے ایندھن تک محدود نہیں رہے گا۔ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کا مطلب ہے کہ ٹرانسپورٹ کے کرایے بڑھیں گے، اشیائے خور و نوش کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا اور مہنگائی کا یہ طوفان ہر گھر میں داخل ہو جائے گا۔ اے این پی کے رہنماوٴں نے اس صورتحال کو "عوام پر سیلاب" قرار دیا ہے۔ ڈاکٹرز کے مطابق مریض دوائیوں کے بڑھتے دام برداشت نہیں کر پائیں گے، اور متوسط طبقہ اپنے بجٹ کو سنبھالنے میں مشکلات کا شکار ہو جائے گا۔
کیا حکومت نے کوئی ریلیف دیا؟
تکنیکی طور پر، وزیر اعظم نے مہنگائی کے اس طوفان میں موٹر سائیکل سواروں اور ٹرانسپورٹ سیکٹر کو ایک ماہ کی "سبسڈی" دینے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن یہ ریلیف ان عوام کے لیے کچھ خاص معنی نہیں رکھتا جو پہلے ہی اپنی معمولی آمدنی میں گزارا کرنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ سندھ حکومت نے بھی کچھ امدادی اسکیموں کا اعلان کیا ہے، لیکن یہ اقدامات اتنے وسیع پیمانے پر بحران کے لیے قطرے کے برابر ہیں۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
سوال: کیا پیٹرول کی موجودہ قیمت ۴۰۰ روپے فی لیٹر سے تجاوز کر گئی ہے؟
جی ہاں، تازہ ترین اضافے کے بعد پیٹرول کی قیمت ۳۹۹.۸۶ روپے فی لیٹر ہو گئی ہے، جو کہ ۴۰۰ روپے کے لگ بھگ ہے۔
سوال: پیٹرول مہنگا ہونے کی اصل وجہ کیا ہے؟
حکومت کے مطابق مشرق وسطیٰ میں جنگ کی وجہ سے عالمی قیمتوں میں اضافہ بنیادی وجہ ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ بتیس فیصد اضافہ مختلف ٹیکسوں اور لیوی کی مد میں کیا گیا ہے۔
سوال: آئی ایم ایف نے پٹرولیم لیوی میں اضافے کی اجازت کیوں دی؟
پاکستان نے آئی ایم ایف سے ۱.۲ ارب ڈالر کی قسط حاصل کرنے کے لیے ٹیکسوں میں اضافے پر اتفاق کیا تھا اور عوام پر بوجھ ڈال کر معاشی استحکام کا مصنوعی تصور پیش کیا جا رہا ہے۔
سوال: کیا حکومت کی طرف سے دی جانے والی سبسڈی کافی ہے؟
ماہرین کے مطابق یہ سبسڈی صرف ایک علامتی اقدام ہے اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے پیش نظر ناکافی ہے۔ یہ چار سو روپے کے بحران میں صرف ایک عارضی مرہم ہے۔

Comments
Post a Comment