آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی: خاموشی سے پھیلتا قحط اور ۴.۵ کروڑ جانوں کا سوال


دنیا کی نظریں جہاں تیل کی قیمتوں اور مشرق وسطیٰ میں ممکنہ فوجی کارروائی پر جمی ہوئی ہیں، وہیں ایک خاموش طوفان آبنائے ہرمز کے اس پار اٹھ رہا ہے جو لاکھوں انسانوں کی خوراک کو نگل سکتا ہے۔ اقوام متحدہ کے ایک سینئر افسر نے خبردار کیا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز پر ایرانی پابندیوں کے نتیجے میں کھادوں کی ترسیل بحال نہ کی گئی تو ۴.۵ کروڑ مزید افراد شدید بھوک کا شکار ہو سکتے ہیں ۔ یہ صرف ایک انتباہ نہیں بلکہ ایک حقیقت ہے جو دنیا بھر کے کھیتوں میں زراعت کے بنیادی موسم کے ختم ہونے سے چند ہی ہفتے پہلے کھڑی ہوئی ہے۔


خلیجی جنگ اور آبنائے ہرمز کی اہمیت: ایک جائزہ

۲۸ فروری ۲۰۲۶ کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے شروع کی گئی جنگ کے بعد سے، ایران نے انتقامی کارروائی کے طور پر اس اسٹریٹجک آبی گزرگاہ کو اپنی گرفت میں لے رکھا ہے ۔ یہ صرف تیل کی ترسیل کے لیے نہیں بلکہ عالمی زراعت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ عام حالات میں، دنیا کی ایک تہائی (۳۳ فیصد) کھادوں کی ترسیل آبنائے ہرمز سے ہوتی تھی ۔

یورینیم کی قیمتوں میں آتش فشاں اضافہ: کھیتوں پر کیسے اثر پڑے گا؟

اس بحران کا سب سے بڑا اور فوری نقصان کسانوں کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق، مشرق وسطیٰ کی دانے دار یورینیم کی قیمتوں میں ایک ہی ہفتے میں تقریباً ۲۰ فیصد اضافہ ہو گیا ۔ برازیل جیسے بڑے زرعی ملک میں مارچ کے آخر تک قیمتوں میں ۶۰ فیصد جبکہ امریکہ میں ۵۲ فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ۔

یہ اضافہ بہت بڑا ہے کیونکہ یورینیم وہ بنیادی کھاد ہے جو گندم، چاول اور مکئی کی پیداوار بڑھانے کے لیے ضروری ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے ہر ماہ تقریباً ۱۵ لاکھ سے ۳۰ لاکھ ٹن کھادوں کی ترسیل رک گئی ہے ۔


پودے لگانے کا موسم: وقت کی شدید قلت

یہاں سب سے اہم نقطہ "وقت" ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت کے ڈائریکٹر جنرل نے واضح کیا ہے کہ کھادوں کا استعمال فصلوں کی بوائی کے عین مطابق وقت پر کرنا ہوتا ہے ۔ افریقہ کے کچھ ممالک میں بوائی کا موسم چند ہفتوں میں ختم ہو رہا ہے ۔

اگر کھادیں وقت پر نہ پہنچ سکیں تو کسان یا تو کم کھاد ڈالیں گے یا بالکل نہیں ڈالیں گے۔ اس کا براہ راست نتیجہ فی ایکڑ پیداوار میں ۱۰ سے ۲۰ فیصد تک کی کمی ہوگی ۔


کون سے ممالک تباہی کے سب سے قریب ہیں؟

یہ بحران سب سے زیادہ ان غریب ممالک کو متاثر کرے گا جو درآمدات پر انحصار کرتے ہیں۔

ایشیاء: بنگلہ دیش، جو اپنی ۵۳ فیصد کھادیں خلیج سے لاتا ہے، سب سے زیادہ خطرے میں ہے ۔ سری لنکا اور فلپائن کے کسان بھی شدید دباؤ میں ہیں۔

افریقہ: ایتھوپیا، سوڈان، کینیا، تنزانیہ اور موزمبیق جیسے ممالک، جو خوراک کی قلت سے پہلے ہی دوچار ہیں، اس بحران کی زد میں آئیں گے ۔

جنوبی امریکہ: برازیل، جو عالمی سطح پر خوراک فراہم کرتا ہے، اگر وہاں پیداوار گھٹی تو پوری دنیا کو اس کی قیمت چکانی پڑے گی۔


سیاسی مرضی کی غیر موجودگی: اقوام متحدہ مایوس

اقوام متحدہ نے ایک ٹاسک فورس تشکیل دی ہے اور "مور ڈا سلوا" اس میکانزم کے سربراہ ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر سیاسی مرضی ہو تو وہ محض سات دنوں میں یہ نظام چالو کر سکتے ہیں کہ کم از کم پانچ جہاز روزانہ کھاد لے کر گزریں ۔

لیکن مسئلہ یہ ہے کہ نہ ایران، نہ امریکہ اور نہ ہی خلیجی ممالک اس منصوبے پر مکمل طور پر متفق ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ اقوام متحدہ بار بار کہہ رہا ہے کہ کمی "سیاسی مرضی" ہے، وسائل یا ٹیکنالوجی کی نہیں ۔


عالمی اثرات: صرف خوراک نہیں، پانی اور پناہ گزینی بھی

یہ بحران صرف کھیتوں تک محدود نہیں۔ ایرانی حملوں نے خلیج میں ڈی سیلینیشن پلانٹس کو بھی نشانہ بنایا ہے، جس پر ۱۰ کروڑ افراد پینے کے پانی کے لیے منحصر ہیں ۔ ساتھ ہی، خلیج میں مقیم ۲.۴ کروڑ تارکین وطن (جن میں زیادہ تر پاکستانی، بھارتی اور بنگلہ دیشی ہیں) کی ترسیلات زر میں بھی خاطر خواہ کمی آئے گی، جس سے ان کے پیچھے رہ جانے والے خاندانوں کی معاشی حالت مزید خراب ہو جائے گی ۔


ایک انتظار جو قتل عام میں بدل سکتا ہے

آبنائے ہرمز کی صورتحال اس بات کی ایک کلاسک مثال ہے کہ کس طرح جغرافیائی سیاست غریبوں کی جان لے سکتی ہے۔ جہاں ایک طرف طاقتور ممالک اپنے مفادات کی جنگ لڑ رہے ہیں، وہیں دنیا کے کمزور طبقے خاموشی سے بھوک کے منہ میں گر رہے ہیں۔ اگر آنے والے چند ہفتوں میں کوئی معاہدہ نہ ہوا تو ہم تاریخ کے بدترین خوراک کے بحران کا سامنا کریں گے۔


FAQs

سوال: آبنائے ہرمز پر پابندی سے خوراک کی قلت کیوں ہو رہی ہے؟

جواب: اس لیے کہ دنیا کی ایک تہائی کھادوں کی ترسیل اسی راستے سے ہوتی ہے۔ پابندی کی وجہ سے کھادیں کسانوں تک نہیں پہنچ رہیں، جس سے اگلی فصلوں کی پیداوار تباہ ہو جائے گی اور خوراک کے بحران کا خطرہ ہے ۔

سوال: اقوام متحدہ کی کھادوں کی ترسیل کا منصوبہ کیا ہے؟

جواب: اقوام متحدہ ایک ایسا محفوظ راستہ بنانا چاہتا ہے جہاں روزانہ کم از کم پانچ جہاز کھادیں لے کر گزریں۔ اس منصوبے کو صرف سات دنوں میں شروع کیا جا سکتا ہے، لیکن اس کے لیے ایران اور امریکہ کی رضامندی ضروری ہے ۔

سوال: کیا خلیجی جنگ کا تعلق بھارتی کسانوں سے بھی ہے؟

جواب: جی ہاں، بھارت خلیج سے کھادیں اور ایل این جی درآمد کرتا ہے۔ اگر یہ ترسیل رکی تو کھادوں کی قیمتیں بڑھیں گی، جس سے کھریف کی فصل (جون میں بوائی) متاثر ہو سکتی ہے، خاص طور پر گنے اور چاول کی کاشت پر اثر پڑے گا ۔

سوال: یورینیم کی قیمتوں میں اضافے سے کون سے ممالک سب سے زیادہ متاثر ہوں گے؟

جواب: افریقہ (سوڈان، کینیا، تنزانیہ)، جنوبی ایشیا (بنگلہ دیش، پاکستان، سری لنکا) اور برازیل سب سے زیادہ خطرے میں ہیں۔ یہ ممالک خلیج سے درآمدات پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں ۔

سوال: کیا کوئی متبادل راستے ہیں؟

جواب: متبادل راستوں میں بحر احمر یا کیپ آف گڈ ہوپ (جنوبی افریقہ) شامل ہیں، لیکن یہ بہت طویل اور مہنگے ہیں۔ اس کے علاوہ ترکی اور ایران کے راستے زمینی راستے بھی ممکن ہیں، لیکن یہ اتنے بڑے پیمانے پر کھادوں کی ترسیل کے لیے موزوں نہیں ۔

Comments

Popular posts from this blog

شدید بارشیں اور طوفان: موسمیاتی تبدیلیوں کا خطرناک اثر

جرمن چانسلر فریڈرک مرز کا خطرناک اعلان: "۸۰ فیصد شامی باشندے تین سال میں ڈیپورٹ

روٹی اور جان کی جنگ: کیا خلیج میں کام کرنا اب موت کا سودا ہے؟