روشنی کی کرن: شیخ محمد بن راشد کی نئی مہم لاکھوں افراد کو نابینائی سے بچائے گی


وہ آنکھیں جو دنیا کی خوبصورتی دیکھنے سے محروم تھیں، اب روشنی کی ایک کرن ان کی راہ تک رہی ہے۔ نئی انسان دوست مہم برائے خاتمہ نابینائی کا آغاز کر کے متحدہ عرب امارات نے دنیا کو ایک نیا پیغام دیا ہے۔ شیخ محمد بن راشد المکتوم نے نہ صرف اپنے عزم کا اظہار کیا بلکہ انہوں نے کہا کہ "ہر وہ آنکھ جسے ہم روشنی دیتے ہیں، وہ ایک نئی زندگی ہے"۔

یہ منصوبہ محمد بن راشد العالمیہ اقدامات کا حصہ ہے۔ اس کا مقصد اگلے تین سالوں میں ستر لاکھ افراد تک پہنچنا ہے۔ یہ مہم صرف علاج تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک عالمی جنگ ہے ایک ایسی بیماری کے خلاف جسے "دریائی نابینائی" کہا جاتا ہے۔


دریائی نابینائی کیا ہے اور یہ کتنی خطرناک ہے؟

دریائی نابینائی ایک پرانی بیماری ہے جو کالی مکھیوں کے کاٹنے سے پھیلتی ہے۔ یہ مکھیاں تیز رفتاری سے بہنے والی ندیوں میں پنپتی ہیں، اسی لیے اسے "دریائی" نابینائی کہا جاتا ہے۔

یہ مرض جلد پر شدید خارش، رنگت میں تبدیلی اور آنکھوں کی پرت کو نقصان پہنچاتا ہے۔ اگر بروقت علاج نہ کیا جائے تو یہ مستقل نابینائی کا سبب بن جاتا ہے۔ ذیلی صحارا افریقہ اور یمن میں یہ وبا کی شکل اختیار کر چکی ہے، جہاں لاکھوں افراد تک صحت کی سہولیات نہیں پہنچ پاتیں۔


نور دبئی فاؤنڈیشن: روشنی کا سفیر

اس تاریخی منصوبے کو عملی جامہ پہنانے والی تنظیم "نور دبئی" ہے، جسے دو ہزار آٹھ میں قائم کیا گیا تھا۔ یہ ادارہ قابلِ علاج نابینائی کے خاتمے کے لیے کام کر رہا ہے۔

نور دبئی نے دو ہزار چوبیس کے آخر تک ایشیا اور افریقہ میں تین کروڑ تیس لاکھ سے زائد افراد کی زندگیاں بہتر کی ہیں۔ اس مخصوص منصوبے کے تحت، نور دبئی گھانا میں اجتماعی ادویات کی فراہمی، کمیونٹی سروے اور مقامی صحت کارکنوں کی تربیت کرے گی۔

گھانا میں پائلٹ پروجیکٹ اور مستقبل کی حکمت عملی

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس منصوبے کا آغاز فروری دو ہزار چھبیس میں ورلڈ گورنمنٹ سمٹ کے دوران گھانا کے لیے ایک معاہدے کے ساتھ ہوا تھا۔ اس کا مقصد دو ہزار تیس تک گھانا کو اس بیماری سے پاک کرنا ہے۔ اس کے نتیجے میں تین کروڑ پچاس لاکھ سے زیادہ لوگ مضبوط صحت کے نظام کی بدولت بالواسطہ طور پر مستفید ہوں گے۔

یہ وہی ہدف ہے جو عالمی ادارہ صحت نے دو ہزار اکتیس سے دو ہزار تیس کے روڈ میپ میں نظر انداز کی جانے والی اشنکٹبندیی بیماریوں کے خاتمے کے لیے مقرر کیا تھا۔


ایک جذباتی اپیل اور انسان دوستی کا پیغام

شیخ محمد بن راشد نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اپنے جذباتی پیغام سے پوری دنیا کو متاثر کیا۔ انہوں نے کہا:

"انسانوں کو بااختیار بنانا اس اندھیرے کے خلاف جنگ کے ذریعے جو وہ جیتے ہیں، سب سے بڑا انسان دوست کام ہے... اور ہر وہ آنکھ جسے ہم روشنی دیتے ہیں، وہ اس دنیا کی خوبصورتی دیکھنے والی آنکھ ہے، ایک نئی امید ہے، اور ایک نئی زندگی ہے۔"


کیا یہ مہم کامیاب ہوگی؟

عملی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو یہ منصوبہ انتہائی اہم ہے۔ محمد بن راشد العالمیہ اقدامات نے اس سے قبل کھانے کی قلت کے خلاف "گیارہ اعشاریہ پانچ" جیسی کامیاب مہم چلائی ہے۔ اسی ادارے نے دو ہزار چوبیس میں صحت کے شعبے پر دو کروڑ دس لاکھ درہم سے زائد خرچ کیے، جس سے پچاس لاکھ افراد مستفید ہوئے۔

بہرحال، چیلنج یہ ہے کہ یہ بیماری انتہائی پسماندہ اور دورافتاده علاقوں میں پھیلی ہوئی ہے جہاں بنیادی ڈھانچے کا فقدان ہے۔ اس مہم کی کامیابی کا دارومدار مقامی حکومتوں کے تعاون اور عوامی سطح پر شعور اجاگر کرنے پر ہے۔


اکثر پوچھے جانے والے سوالات

سوال: دریائی نابینائی کا علاج کیا ہے؟

جواب: اس بیماری کا علاج آئیورمیکٹین نامی دوا سے ممکن ہے۔ اسے سال میں ایک یا دو بار لیا جاتا ہے تاکہ جسم میں موجود کیڑوں کی تعداد کم ہو اور بیماری بڑھنے نہ پائے۔ مہم کے تحت یہ دوا مفت فراہم کی جائے گی۔

سوال: کیا یہ صرف گھانا تک محدود ہے؟

جواب: اس مرحلے پر توجہ گھانا پر مرکوز ہے جہاں یہ وبا عام ہے، لیکن نور دبئی کے دیگر ممالک (ایتھوپیا، چاڈ، نائجر) میں بھی پروگرام ہیں۔ بالآخر اس کا مقصد پورے خطے میں بیماری کا خاتمہ ہے۔

سوال: محمد بن راشد العالمیہ اقدامات کا بجٹ کتنا ہے؟

جواب: دو ہزار پندرہ سے اب تک اس ادارے نے تیرہ اعشاریہ آٹھ ارب درہم خرچ کیے ہیں، جس سے ایک سو اٹھارہ ممالک میں سات ارب اٹھاسی کروڑ افراد فائدہ اٹھا چکے ہیں۔

سوال: میں اس مہم میں کس طرح تعاون کر سکتا ہوں؟

جواب: عام طور پر متحدہ عرب امارات میں رمضان یا انسان دوست مقاصد کے لیے عطیات مخصوص پلیٹ فارم کے ذریعے دیے جا سکتے ہیں۔ آفیشل ویب سائٹ یا نور دبئی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

شدید بارشیں اور طوفان: موسمیاتی تبدیلیوں کا خطرناک اثر

جرمن چانسلر فریڈرک مرز کا خطرناک اعلان: "۸۰ فیصد شامی باشندے تین سال میں ڈیپورٹ

روٹی اور جان کی جنگ: کیا خلیج میں کام کرنا اب موت کا سودا ہے؟