ایران جنگ کے مہلک تناظر میں ٹرمپ کا آدھی رات کا سوشل میڈیا طوفان



گزشتہ روز صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک ایسی کارروائی کی جس نے پوری دنیا کو حیرت میں ڈال دیا۔ تقریباً آدھی رات کے قریب شروع ہونے والے اس سلسلے میں انہوں نے محض ۳ گھنٹوں میں ۵۵ سے زائد پوسٹیں شیئر کیں ۔ یہ پوسٹیں صرف معمولی اپ ڈیٹس نہیں تھیں، بلکہ ان میں سازشی نظریات، مصنوعی ذہانت سے بنائی گئی جھوٹی تصاویر، اور اپنے حریفوں پر براہِ راست حملے شامل تھے۔ اس دیوانہ وار سرگرمی کے دوران اوسطاً ہر ۳ منٹ بعد ایک نئی پوسٹ سامنے آئی ۔

درحقیقت، یہ سب کچھ اس وقت پیش آیا جب صدر ٹرمپ ایران کے ساتھ جاری جنگ اور معاشی تعطل سے نمٹ رہے تھے اور چین کے دورے کی تیاریاں کر رہے تھے ۔ سوال یہ ہے کہ جب ملک ایک مشکل بین الاقوامی بحران میں الجھا ہو، اس وقت صدر کا وقت رات کو جاگ کر سوشل میڈیا پر حملے کرنا کیسا ہے؟ اس رویے نے سیاسی مبصرین سے لے کر عام شہریوں تک سب کی توجہ اپنی طرف مبذول کر لی ہے۔


ایران جنگ کے دوران ٹرمپ کی سوشل میڈیا پوسٹوں کا کیا اثر ہے؟

ایران کے ساتھ کشیدگی عروج پر ہے، اور ایسی نازک گھڑی میں امریکی صدر کا سوشل میڈیا پر اس طرح مشغول ہونا عالمی سیاست میں ایک نیا باب ہے۔ ٹرمپ نے جو پوسٹیں شیئر کیں، ان میں ایران کے خلاف جنگی جذبات بھڑکانے والی تصاویر بھی شامل تھیں۔ انہوں نے AI سے بنائی گئی ایک تصویر شیئر کی جس میں ایک امریکی جنگی جہاز ایرانی ڈرون پر لیزر سے حملہ کر رہا تھا، جس کے کیپشن میں لکھا تھا: "لیزر: بِنگ، بِنگ، گون!!!" ۔

اسی طرح ایک اور تصویر میں ایرانی اسپیڈ بوٹس کو تباہ ہوتے دکھایا گیا ۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین کا ماننا ہے کہ ٹرمپ کی یہ پوسٹیں محض ذاتی جذبات کا اظہار نہیں بلکہ "پرفارمیٹو وارفیئر" کا حصہ ہیں، جہاں وہ تشدد کو ہلکا پھلکا اور ‘کول’ بنا کر پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ اپنے حامیوں میں جنونیت پیدا کی جا سکے ۔ اس کے برعکس، ایران نے بھی جوابی کارروائی میں اسی طرح کے مزاحیہ اور طنزیہ مواد سے جواب دیا ہے، جس سے حقیقی جنگ کے خوفناک مناظر پر پردہ پڑ رہا ہے۔


کیا ٹرمپ کی رات گئے پوسٹیں ان کی ذہنی صحت کی عکاس ہیں؟

ٹرمپ کی یہ آدھی رات کی سرگرمی اس وقت سامنے آئی ہے جب ان کی صحت کے بارے میں سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ایک حالیہ پول کے مطابق، ۵۹ فیصد امریکیوں کا خیال ہے کہ وہ ذہنی طور پر ملک کی قیادت کرنے کے قابل نہیں ہیں ۔ اس سے قبل وہ وائٹ ہاؤس میں ایک میٹنگ کے دوران اونگھتے بھی دیکھے گئے تھے، جسے ان کے ترجمان نے "پلک جھپکانا" قرار دیا ۔

سابق ایف بی آئی ڈائریکٹر جیمز کومی نے ٹرمپ کی ان پوسٹوں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا: "وہ ٹھیک نہیں لگتے، ایسا لگتا ہے کہ اس آدمی میں کچھ خرابی ہے" ۔ کومی نے یہ بھی کہا کہ رات کے آدھے پہر یہ جنونی پوسٹیں پاگل پن کی علامت ہیں ۔ اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ نیند کی شدید کمی اور اس طرح کی غیر متوازن سرگرمیاں کسی بھی لیڈر کے فیصلوں پر اثر انداز ہوتی ہیں — اور جب وہ لیڈر ہاتھ میں ایٹمی ہتھیار رکھتا ہو، تو یہ پوری دنیا کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔


ٹرمپ نے اپنے Truth Social اکاؤنٹ پر باراک اوباما کے بارے میں کیا کہا؟

ٹرمپ کی غصے کی زد میں سب سے زیادہ سابق صدر باراک اوباما آئے۔ ان کی شیئر کردہ پوسٹس میں اوباما کو ’غدار‘ اور ’امریکی سیاست میں چار دہائیوں کی سب سے بڑی شیطانی قوت‘ قرار دیا گیا ۔ ان پوسٹس میں یہ الزام لگایا گیا کہ اوباما نے ٹرمپ کے خلاف "بغاوت کی سازش" کی، اور یہ کہ انہوں نے ٹرمپ ٹاور کی وائر ٹیپنگ کا حکم دیا — ایسے الزامات جنہیں بار بار بے بنیاد قرار دے کر مسترد کیا جا چکا ہے ۔

ان میں سے کچھ پوسٹس تو جان ایف کینیڈی جونیئر کے نام سے چلنے والے جعلی اکاؤنٹ کی تھیں، حالانکہ وہ ۱۹۹۹ میں انتقال کر چکے ہیں ۔ یہ صرف اوباما ہی نہیں بلکہ انہوں نے ہلری کلنٹن اور جیک اسمتھ کو گرفتار کرنے کی بھی آواز اٹھائی ۔ یہ بات انتہائی تشویشناک ہے کہ ایک موجودہ صدر اپنے پلیٹ فارم کا استعمال کرتے ہوئے سابق صدور کے خلاف بدتمیزی اور قانون شکنی کی ترغیب دے، جبکہ ملک بیرونی جنگ میں الجھا ہو۔


ایران تنازع میں امریکی میڈیا کی کوریج پر ٹرمپ کی کیا رائے ہے؟

صدر ٹرمپ میں ایران جنگ کی کوریج کرنے والے امریکی میڈیا کو بھی نشانہ بنایا۔ انہوں نے ان رپورٹس کو، جن میں کہا گیا کہ ایران عسکری طور پر امریکہ کے مقابلے میں اچھی پوزیشن میں ہے، "عملی غداری" قرار دیا ۔ یہاں تک کہ اطلاعات ہیں کہ ٹرمپ نے اپنے مقرر کردہ اٹارنی جنرل، ٹوڈ بلانچ، کو یہ پیغام پہنچایا کہ وہ جنگ کی منفی کوریج کرنے والے صحافیوں کو سمن جاری کریں ۔

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ میڈیا رپورٹس ایران کو "جھوٹی امید" دے رہی ہیں۔ انہوں نے نیویارک ٹائمز کو بھی اپنا نشانہ بنایا، یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ اخبار جنگ کی کوریج کی وجہ سے گھنٹہ وار صارفین کھو رہا ہے ۔ یہ تناظر دیکھتے ہوئے یہ واضح ہے کہ ٹرمپ نہ صرف میدان جنگ بلکہ میڈیا وار روم میں بھی اپنی تصویر کو کنٹرول کرنے کی مایوسانہ کوشش کر رہے ہیں۔


آخر کار — کیا یہ سوشل میڈیا جنگ امریکہ کو کمزور کر رہی ہے؟

اس پورے معاملے کا جائزہ لینے کے بعد یہی حقیقت سامنے آتی ہے کہ ٹرمپ کی یہ سوشل میڈیا دیوانگی امریکہ کو اندر ہی اندر کمزور کر رہی ہے۔ جہاں ایک طرف ایران کے ساتھ اصلی جنگی مفادات داؤ پر لگے ہیں، وہیں امریکی صدر سازشی نظریات پھیلا کر اور AI سے بنی جعلی تصاویر شیئر کر کے اپنی ہی انتظامیہ کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ سب دراصل متوسط انتخابات سے پہلے اپنی بنیاد کو اکٹھا کرنے کی ایک کوشش ہے، لیکن اس کا قیمت پوری دنیا کو ادا کرنی پڑ رہی ہے۔

اسی تناظر میں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ جب قائدین سوشل میڈیا کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہیں، تو حقیقی سفارت کاری اور دانشمندانہ فیصلے ختم ہو جاتے ہیں۔ ایران کے ساتھ مذاکرات پہلے ہی تعطل کا شکار ہیں، اور اس طرح کی اشتعال انگیز پوسٹیں خطے میں مزید بے چینی پیدا کر رہی ہیں۔


اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQs)

سوال: کیا ٹرمپ کی پوسٹوں میں پھیلائے گئے الزامات کی کوئی حقیقت ہے؟

جواب: نہیں، زیادہ تر پوسٹیں بے بنیاد ہیں۔ سی این این کے فیکٹ چیکر ڈینیئل ڈیل نے ان پوسٹوں کو "حقیقت سے لاتعلق" قرار دیا ہے ۔ ٹرمپ نے کئی ایسی پوسٹیں شیئر کیں جو سیٹائر (طنزیہ) ویب سائٹس سے بنائی گئی تھیں، خاص طور پر ۲۰۲۰ کے انتخابات اور باراک اوباما سے متعلق الزامات۔

سوال: ٹرمپ اور ایران کے درمیان سوشل میڈیا پر کس قسم کی جنگ چل رہی ہے؟

جواب: یہ ایک نفسیاتی جنگ ہے۔ ٹرمپ قوت کا مظاہرہ کرنے کے لیے AI تصاویر استعمال کرتے ہیں، جبکہ ایران طنزیہ مواد اور متحدہ محاذ کے ذریعے جواب دیتا ہے ۔ دونوں فریق اپنی اپنی مقامی آبادی کے لیے ایک جعلی کہانی گھڑ رہے ہیں۔

سوال: کیا ٹرمپ کی صحت اس طرح کی پوسٹوں کی وجہ متاثر ہو رہی ہے؟

جواب: ماہرین کا ماننا ہے کہ نیند کی شدید کمی (ٹرمپ کو صرف ۵.۵ گھنٹے کی نیند آئی) اس طرح کے دیوانہ وار رویے کو جنم دیتی ہے ۔ جیمز کومی جیسے سابق عہدیداروں نے کھل کر ان کی ذہنی حالت پر تشویش کا اظہار کیا ہے 

Comments

Popular posts from this blog

شدید بارشیں اور طوفان: موسمیاتی تبدیلیوں کا خطرناک اثر

جرمن چانسلر فریڈرک مرز کا خطرناک اعلان: "۸۰ فیصد شامی باشندے تین سال میں ڈیپورٹ

روٹی اور جان کی جنگ: کیا خلیج میں کام کرنا اب موت کا سودا ہے؟