پاکستانی بچیوں کی تعلیم: 22.8 ملین بچے اسکولوں سے باہر، وزیرِ اعظم شہباز شریف کا اظہار تشویش
پاکستانی بچیوں کی تعلیم: 22.8 ملین بچے اسکولوں سے باہر، وزیرِ اعظم شہباز شریف کا اظہار تشویش
پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے انکشاف کیا ہے کہ ملک میں 5 سے 16 سال کے 22.8 ملین بچے اسکولوں سے باہر ہیں، جن میں زیادہ تعداد بچیوں کی ہے۔ یہ اعدادوشمار اسلام آباد میں ہونے والی "مسلم کمیونٹیز میں بچیوں کی تعلیم: چیلنجز اور مواقع" کے عنوان سے بین الاقوامی کانفرنس میں پیش کیے گئے۔
بچیوں کی تعلیم کے فروغ میں چیلنجز
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں بچیوں کی تعلیم کو فروغ دینے کے لیے مختلف چیلنجز کا سامنا ہے۔ انہوں نے اسلام کی تعلیمات اور حضور ﷺ کے فرامین کا حوالہ دیتے ہوئے خواتین کی تعلیم کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔
حکومت کی جانب سے اقدامات
انہوں نے بتایا کہ حکومت نے تعلیم کے شعبے میں کئی اصلاحات متعارف کروائی ہیں اور ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو صوبوں کے ساتھ رابطے میں ہے۔ انہوں نے "دانش اسکولز" جیسے اقدامات کو نمایاں کیا، جو دیہی اور پسماندہ علاقوں کے بچوں کو معیاری تعلیم فراہم کرنے کے لیے قائم کیے گئے ہیں۔
لڑکیوں کی تعلیم کے لیے عالمی کانفرنس
اس کانفرنس میں 47 ممالک کے تقریباً 150 مندوبین شریک ہیں، جن میں ترکی، صومالیہ، کردستان، ملیشیا اور مالدیپ کے وزراء نے بھی خطاب کیا۔ انہوں نے پاکستان کی میزبانی کو سراہا اور مسلم ممالک کے درمیان بچیوں کی تعلیم کے فروغ کے لیے مشترکہ کوششوں پر زور دیا۔
ملالہ یوسفزئی کی شرکت
نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی نے بھی کانفرنس میں شرکت کی اور بچیوں کی تعلیم کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ ملالہ نے کہا کہ بچیوں کی تعلیم صرف ان کے لیے نہیں بلکہ پورے معاشرے کے لیے خوشحالی کا ذریعہ ہے۔
تعلیم میں سرمایہ کاری وقت کی ضرورت
وزیرِ اعظم نے کہا کہ بچیوں کی تعلیم میں سرمایہ کاری، ان کے مستقبل کے خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کی ایک اہم کنجی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ مسلم دنیا کو ایسی حکمت عملی اپنانی چاہیے جو تعلیمی عدم مساوات کو ختم کرے اور بچیوں کو ان کے حقوق دلائے۔
کلیدی الفاظ:
- پاکستانی بچیوں کی تعلیم
- اسکول سے باہر بچے
- مسلم کمیونٹیز میں تعلیم
- دانش اسکولز
- ملالہ یوسفزئی
- خواتین کی تعلیم
- وزیرِ اعظم شہباز شریف
یہ مضمون اس بات پر روشنی ڈالتا ہے کہ پاکستان سمیت مسلم دنیا میں بچیوں کی تعلیم کو فروغ دینے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں اور کس طرح عالمی سطح پر ان مسائل کا حل تلاش کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔
Comments
Post a Comment