ایران کی زد میں، جنگ اور امن کے درمیان پھنسی غزہ: کیا پاکستان ثالثی کر سکتا ہے؟
جب دنیا کی نظریں ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی پر مرکوز ہیں، غزہ ایک عجیب سے سیاسی خلاء میں جنگ اور امن کے درمیان پھنسا ہوا ہے۔ جہاں ایک طرف عالمی طاقتیں تہران پر بمباری روکنے کے لیے سفارتی میزیں سجا رہی ہیں، وہیں غزہ کے ملبے تلے دبے معصوم بچے اپنی آخری سانسیں لے رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان، جو آج کل ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کے لیے پیش پیش ہے، غزہ کے لیے بھی یہی کردار ادا کر سکتا ہے؟
کیا پاکستان ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کر سکتا ہے؟
پاکستان نے حالیہ مہینوں میں خود کو مشرق وسطیٰ میں ایک کلیدی ثالث کے طور پر پیش کیا ہے۔ پاکستان نے ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کی پیشکش کی ہے اور اسلام آباد کو مذاکرات کے لیے ممکنہ مقام کے طور پر تجویز کیا ہے ۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی پاکستانی آرمی چیف آصف منیر کے ساتھ تعریف آمیز ملاقاتیں کی ہیں، جس سے پاکستان کی سفارتی اہمیت بڑھی ہے ۔ لیکن یہ ثالثی زیادہ تر ایران-امریکہ تنازعے تک محدود ہے، جبکہ غزہ اس سے بڑی حد تک الگ تھلگ ہے۔
پاکستان کا غزہ کے بارے میں موقف کیا ہے؟
پاکستان نے کبھی بھی اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا اور ہمیشہ فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت کی حمایت کی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستانی عوام میں غزہ کے لیے جذباتی ہمدردی انتہائی شدید ہے۔ لیکن جب بات سفارتکاری کی آتی ہے تو پاکستان کا کردار زیادہ تر بیاناتی حمایت تک محدود رہا ہے۔ قائداعظم کے وژن کے مطابق، پاکستان نے ہمیشہ فلسطین کے مسئلے کو کشمیر کے مسئلے سے جوڑ کر دیکھا ہے ، لیکن عملی اقدامات کی شدید کمی ہے۔
غزہ کے بحران پر عالمی ردعمل کیسا ہے؟
جہاں ایران پر حملوں کے خلاف عالمی سطح پر مذمت کے بیانات جاری ہیں، وہیں غزہ کے بحران پر دنیا خاموشی اختیار کیے بیٹھی ہے۔ اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں غزہ میں شہید ہونے والوں کی تعداد ۴۰ ہزار سے تجاوز کر چکی ہے، لیکن اقوام متحدہ اور دیگر عالمی ادارے موثر کردار ادا کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ امریکہ اور اسرائیل کی توجہ ایران پر مرکوز ہے، اور ایسا لگتا ہے کہ غزہ کو بھلا دیا گیا ہے۔
More than 38,000 women and girls killed.Nearly 11,000 women and girls in Gaza now living with lifelong disabilities.Many still missing. Even with a ceasefire, killings continue.Women and girls in #Gaza must be protected.— UN Women (@UN_Women) April 17, 2026
پاکستان خطے میں ثالثی کیوں کر رہا ہے؟
پاکستان کی ثالثی دراصل اس کی معاشی مجبوریوں اور جغرافیائی سیاسی ضروریات کا نتیجہ ہے۔ پاکستان کو آبنائے ہرمز سے تیل کی درآمدات پر انحصار ہے، اور ایران میں جنگ کی صورت میں پاکستان کی معیشت تباہ ہو سکتی ہے ۔ مزید برآں، پاکستان کا ۵۰ لاکھ سے زائد شہری خلیجی ممالک میں مقیم ہیں اور ان کی ترسیلات زر پاکستانی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں ۔ اس لیے پاکستان خطے میں استحکام چاہتا ہے، لیکن یہ خواہش غزہ کی بجائے ایران کے ساتھ اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے زیادہ ہے۔
کیا پاکستان غزہ میں امن قائم کر سکتا ہے؟
یہ بڑا سوال ہے۔ کیا پاکستان غزہ میں امن قائم کر سکتا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے پاس فی الحال وہ سفارتی دباؤ نہیں ہے جو اسرائیل کو غزہ میں جنگ بندی پر مجبور کر سکے۔ پاکستان کا اسرائیل کے ساتھ کوئی سفارتی تعلق نہیں، اور نہ ہی اس کے پاس ایسی معاشی یا فوجی طاقت ہے کہ وہ ٹیل ابیب پر کوئی اثر ڈال سکے ۔ ماہرین کے مطابق، پاکستان کی ثالثی زیادہ تر ایک "سیاسی قاصد" کے کردار تک محدود ہے، نہ کہ حقیقی امن کا ضامن ۔
ایران-اسرائیل تنازعے کا غزہ پر کیا اثر ہے؟
یہ تنازعہ غزہ کے لیے دو دھاری تلوار ثابت ہوا ہے۔ ایک طرف، عالمی توجہ ایران کی طرف مبذول ہونے سے اسرائیل پر غزہ میں بمباری روکنے کا دباؤ کم ہو گیا ہے۔ دوسری طرف، اگر ایران کے ساتھ جنگ بندی ہوتی ہے تو اسرائیل اپنی تمام تر طاقت غزہ پر مرکوز کر سکتا ہے ۔ غزہ کے عوام اس صورتحال میں سب سے زیادہ کمزور ہیں، کیونکہ وہ نہ تو ایران کی طرح دفاعی صلاحیت رکھتے ہیں اور نہ ہی ان کے پاس کوئی طاقت ور حامی ہے۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQs)
سوال: کیا پاکستان نے غزہ کے لیے کوئی عملی اقدام کیا ہے؟
جواب: پاکستان نے غزہ کے لیے انسانی امداد بھیجی ہے اور اقوام متحدہ میں غزہ پر فوری جنگ بندی کے قراردادوں کی حمایت کی ہے، لیکن اس سے آگے کوئی ٹھوس سفارتی پیش رفت نہیں ہوئی ۔
سوال: پاکستان اور ایران کے تعلقات کی نوعیت کیا ہے؟
جواب: پاکستان اور ایران کے تعلقات تاریخی، مذہبی (اہل تشیع) اور سرحدی اشتراک پر مبنی ہیں۔ پاکستان میں ۴۰ ملین سے زائد اہل تشیع آباد ہیں، جو ثقافتی طور پر ایران سے جڑے ہیں ۔
سوال: غزہ میں موجودہ جنگ بندی کی صورت حال کیا ہے؟
جواب: اسرائیل اور حماس کے درمیان کوئی پائیدار جنگ بندی موجود نہیں ہے۔ وقفے وقفے سے مذاکرات ہوتے رہتے ہیں لیکن یرغمالیوں کے تبادلے اور مستقل جنگ بندی پر کوئی معاہدہ نہیں ہو سکا۔
سوال: کیا پاکستان کی ثالثی ایران-امریکہ تنازعے میں کامیاب ہو سکتی ہے؟
جواب: ایران نے پاکستان کی ثالثی کو سراہا ہے لیکن امریکی شرائط کو "ذلت آمیز" قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق، اس ثالثی کی کامیابی کے امکانات بہت کم ہیں ۔

Comments
Post a Comment