شہباز حکومت کی عالمی چمک اور عوام کی جلتی قربانیاں
جنوبی ایشیا میں کشیدگی میں کمی اور آبنائے ہرمز کے بحری راستے کے بحال ہونے کے باوجود، جب عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں گر رہی ہیں، تو پاکستان میں پٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ کیا جا رہا ہے۔ یہی وہ سوال ہے جو ہر پاکستانی کے ذہن میں اٹھ رہا ہے۔ چند دنوں میں دوسری مرتبہ پٹرول کی قیمتوں میں [۲] روپے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا ہے ۔ وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ یہ اضافہ عالمی مارکیٹ کی صورتحال اور آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت کیا گیا ہے، لیکن عوام اس منطق کو قبول کرنے کو تیار نہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کے باوجود مقامی مارکیٹ میں قیمتوں میں اضافہ عوام پر واضح ظلم ہے۔ ماضی میں جب تحریک انصاف کی حکومت تھی اور تیل کی قیمت [۱۵۰] روپے تھی، تو اپوزیشن میں بیٹھی مسلم لیگ (ن) نے ملک گیر احتجاج کیا تھا ۔ آج وہی لوگ حکومت میں ہیں اور پٹرول [۲۶۰] روپے سے تجاوز کر چکا ہے، لیکن اب کوئی احتجاج نظر نہیں آتا۔ یہ دوہرا معیار عوام کی نگاہوں سے پوشیدہ نہیں۔
سولر پینلز پر ٹیکس: شمسی توانائی کو فروغ یا خاتمہ؟
پاکستان نے گزشتہ چند سالوں میں شمسی توانائی کے شعبے میں قابلِ ذکر ترقی کی ہے۔ سولر پینلز کی درآمدات میں اضافے کی وجہ سے ملک نے اربوں ڈالر کے ایندھن کے بلوں میں بچت کی ہے ۔ لیکن بدقسمتی سے، موجودہ حکومت نے سولر پینلز پر ۱۸ فیصد جنرل سیلز ٹیکس عائد کر کے اس پیشرفت کو روک دیا ہے ۔ اس کے علاوہ، نیٹ میٹرنگ سسٹم کو تبدیل کر کے نیٹ بلنگ سسٹم لایا گیا ہے، جس کے تحت سولر یوزرز کو اپنی پیدا کردہ بجلی کے بدلے صرف [۱۱] روپے فی یونٹ ملتے ہیں۔
یہ فیصلہ نہ صرف عوام کے لیے مشکلات کا باعث بنا ہے بلکہ قومی توانائی کے تحفظ کو بھی خطرے میں ڈال رہا ہے۔ [۶.۳] بلین ڈالر کی ممکنہ بچت سے ہاتھ دھونا اور عوام کو مہنگی بجلی استعمال کرنے پر مجبور کرنا کسی بھی دانش مندانہ پالیسی کا حصہ نہیں ہو سکتا۔
لوڈ شیڈنگ کی واپسی: اندھیروں میں ڈوبتا پاکستان
گزشتہ چند روز سے ملک بھر میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ میں خطرناک حد تک اضافہ ہو گیا ہے۔ شہروں میں [۶] سے [۸] گھنٹے اور دیہاتوں میں [۱۲] گھنٹے سے زائد کی لوڈ شیڈنگ کی جا رہی ہے۔ وزارت توانائی کا کہنا ہے کہ ایندھن کی قلت اور سرکلر ڈیٹ کی وجہ سے بجلی کی پیداوار متاثر ہوئی ہے، لیکن عوام اس عذر کو قبول کرنے کو تیار نہیں۔
جبکہ حکومت عالمی سطح پر اپنی سفارتی کامیابیوں کے چرچے کروا رہی ہے، پاکستانی عوام شدید گرمی میں بجلی کے بغیر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ اس صورتحال نے عوام میں شدید غم و غصہ پیدا کر دیا ہے۔ ہسپتالوں، اسکولوں اور کاروباری مراکز کی لوڈ شیڈنگ کے باعث معاشی سرگرمیاں مفلوج ہو گئی ہیں۔
آرمی پبلک اسکول کی برسی: سیاسی بیان بازی اور حقیقت
حال ہی میں آرمی پبلک اسکول کے شہداء کی برسی منائی گئی، جس پر پاکستان کے مختلف سیاسی رہنماؤں نے اپنے اپنے بیانات دیے۔ لیکن افسوس کہ اس موقع کو بھی سیاست کا حصہ بنا کر پیش کیا گیا۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں نے اپنی تقاریر میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے آگے ہیں، جبکہ دیگر سیاسی جماعتوں نے اسے اپوزیشن کو نشانہ بنانے کا موقع سمجھا۔
شہداء کی قربانیوں کو سیاسی مفادات کے لیے استعمال کرنا انتہائی قابلِ افسوس ہے۔ شہباز حکومت کو اس دن کی مناسبت سے کوئی ٹھوس پالیسی یا اقدام پیش کرنا چاہیے تھا جو شہداء کے لواحقین کے لیے باعثِ تسکین ہو، لیکن ایسا کچھ نہیں کیا گیا۔
قرضوں کا بوجھ: آئی ایم ایف کی شرائط اور عوام پر ستم
پاکستان ایک بار پھر آئی ایم ایف کے ساتھ شرائط طے کرنے میں مصروف ہے۔ آئی ایم ایف نے نئے بجٹ سے قبل ٹیکس کا ہدف [۱۵,۶۰۰] بلین روپے سے تجاوز کرنے اور پٹرول پر ۱۸ فیصد جی ایس ٹی لگانے کی شرط رکھی ہے ۔ اس کے علاوہ، سولر یوزرز پر ٹیکس اور پراپرٹی سیکٹر میں نئے ٹیکسز بھی آئی ایم ایف کی شرائط کا حصہ ہیں۔
یہ شرائط اگر نافذ ہو جائیں تو پاکستانی عوام کی مشکلات مزید بڑھ جائیں گی۔ آئی ایم ایف نے حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے ٹیکس کا ہدف بڑھائے اور سبسڈیز کو ختم کرے ۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا حکومت عوام کو اس کے لیے تیار کر رہی ہے؟ کیا عوام کو بتایا جا رہا ہے کہ وہ کن مشکلات سے دوچار ہوں گے؟ اس حوالے سے کوئی واضح حکومتی موقف نظر نہیں آتا۔
Pakistan is seeking early approval of its next IMF tranche ahead of a new review as officials hope uninterrupted support will help turn recent stability into a broader recovery. An IMF team is expected next month in Pakistan to unlock $1.2 billion.https://t.co/4ltHf531Jg
— The Thursday Times (@thursday_times) April 18, 2026
Pakistan is seeking early approval of its next IMF tranche ahead of a new review as officials hope uninterrupted support will help turn recent stability into a broader recovery. An IMF team is expected next month in Pakistan to unlock $1.2 billion.https://t.co/4ltHf531Jg
— The Thursday Times (@thursday_times) April 18, 2026شہباز شریف کا "ڈرافٹ" اسکینڈل: کیا سفارت کاری بیرونی اداروں کے زیر اثر ہے؟
حال ہی میں ایک سوشل میڈیا پوسٹ پر تنازعہ کھڑا ہو گیا، جہاں وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے ایران کے معاملے پر کی گئی ایک پوسٹ میں "ڈرافٹ – پاکستانز پی ایم میسیج آن ایکس" لکھا تھا ۔ اس غلطی نے یہ سوال کھڑا کر دیا کہ کیا پاکستان کی سفارتی پالیسیاں بیرونی اداروں کے زیر اثر ہیں؟ کیا وزیراعظم خود اپنے بیانات تیار نہیں کرتے؟
سوشل میڈیا پر اس واقعے کو خوب تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ ایک صارف نے طنزاً کہا کہ "ایسا لگتا ہے جیسے وائٹ ہاؤس کی ہدایات کو شہباز شریف نے پوسٹ کرنا بھول گئے" ۔ اس واقعے نے نہ صرف وزیراعظم کو شرمندگی کا سامنا کرایا ہے بلکہ پاکستان کی سفارتی حیثیت کو بھی مجروح کیا ہے۔
اس قسم کے واقعات سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کتنی غیر محفوظ ہو چکی ہے۔ جب وزیراعظم کے بیانات بھی ڈرافٹ کی صورت میں پیش کیے جائیں، تو عوام کیوں یقین کریں کہ ان کے مفادات کا تحفظ کیا جا رہا ہے؟
اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQs)
سوال: پاکستان میں پٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کی اصل وجہ کیا ہے؟
جواب: پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کی دو بڑی وجوہات ہیں۔ اولاً، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، اور دوم، آئی ایم ایف کی شرائط جن کے تحت پٹرول پر ٹیکسز میں اضافہ کرنا ضروری ہے۔ تاہم، عوام کا ماننا ہے کہ عالمی قیمتوں میں کمی کے باوجود مقامی قیمتوں میں اضافہ جائز نہیں ۔
سوال: سولر پینلز پر ٹیکس لگانے کا عوام پر کیا اثر پڑے گا؟
جواب: سولر پینلز پر ۱۸ فیصد ٹیکس لگانے سے سولر سسٹم لگانا زیادہ مہنگا ہو جائے گا، جس سے عام آدمی کے لیے شمسی توانائی تک رسائی مشکل ہو جائے گی۔ اس کے علاوہ، نیٹ میٹرنگ کو ختم کرنے سے لوگ اپنی پیدا کردہ اضافی بجلی بیچنے سے محروم ہو جائیں گے ۔
سوال: شہباز حکومت کی عالمی پذیرائی کے باوجود عوام کی مشکلات میں اضافہ کیوں ہو رہا ہے؟
جواب: شہباز حکومت کی عالمی پذیرائی کا تعلق سفارتی سرگرمیوں اور بین الاقوامی تعلقات سے ہے، جبکہ عوام کی مشکلات کا تعلق مقامی معیشت، مہنگائی، اور آئی ایم ایف کی شرائط سے ہے۔ یہ دونوں پہلو ایک دوسرے سے الگ ہیں، لیکن ان کے درمیان تضاد عوام کے لیے تکلیف دہ ہے ۔
سوال: کیا آئی ایم ایف کی شرائط پاکستان کے لیے ضروری ہیں؟
جواب: آئی ایم ایف کی شرائط اس لیے ضروری سمجھی جاتی ہیں کیونکہ پاکستان کو بیرونی قرضوں کی ادائیگی اور زرمبادلہ کے ذخائر کو بڑھانے کے لیے ان پر عمل کرنا ہوتا ہے۔ تاہم، ان شرائط کے نفاذ سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جیسے مہنگائی میں اضافہ اور سبسڈیز کا خاتمہ ۔
سوال: "ڈرافٹ" اسکینڈل کے بعد پاکستان کی سفارتی حیثیت پر کیا اثر پڑے گا؟
جواب: "ڈرافٹ" اسکینڈل نے پاکستان کی سفارتی حیثیت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ اس واقعے نے یہ پیغام دیا ہے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی بیرونی اداروں کے زیر اثر ہو سکتی ہے، جس سے دوست ممالک میں پاکستان کی ساکھ متاثر ہو سکتی ہے ۔

Comments
Post a Comment