پاکستانی فِن ٹیک کمپنی "ابھی" اور الاماراتی الفردان ایکسچینج کا اشتراک: تارکینِ وطن کے لیے مالی آسانی کی نئی راہ

کراچی: پاکستان سے تعلق رکھنے والی فِن ٹیک کمپنی "ابھی" نے متحدہ عرب امارات کی معروف کمپنی "الفردان ایکسچینج" کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے ایک نئی سروس متعارف کرائی ہے جو تارکینِ وطن کو تنخواہ سے پہلے اپنی کمائی کا نصف حصہ حاصل کرنے کی سہولت فراہم کرتی ہے۔ یہ اقدام نہ صرف مالی لچک میں اضافہ کرے گا بلکہ لاکھوں غیر ملکی مزدوروں کو فوری نقد رسائی کی سہولت بھی دے گا۔ اس سروس کے ذریعے الفا پے ایپ اور الفردان ایکسچینج کی 90 سے زائد شاخوں کے ذریعے صارفین کو اپنی کمائی تک ڈیجیٹل رسائی حاصل ہوگی۔


یہ اشتراک خلیجی خطے میں مالی شمولیت کے فروغ کی جانب ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے۔ "ابھی" کی ٹیکنالوجی کو "الفردان" کے وسیع تر ترسیلاتی نیٹ ورک کے ساتھ جوڑنے سے کم آمدنی والے طبقے کے لیے قرض یا غیر رسمی ذرائع پر انحصار کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ کمپنی کے مطابق، اس اقدام سے تارکینِ وطن کو اپنی تنخواہ وقت سے پہلے حاصل کرنے کا اختیار دے کر انہیں اپنے خاندانوں کی بہتر مالی معاونت کرنے کا موقع فراہم کیا جا رہا ہے۔


تجزیہ کاروں کے مطابق، اس شراکت داری کے مثبت اثرات نہ صرف متحدہ عرب امارات میں کام کرنے والے تقریباً 18 لاکھ پاکستانی کارکنوں پر مرتب ہوں گے بلکہ پاکستان کی معیشت پر بھی ان کا بالواسطہ اثر پڑے گا۔ بروقت ترسیلاتِ زر ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ کر سکتی ہیں جبکہ مزدور طبقہ قرض کے جال میں پھنسنے سے بچ سکتا ہے۔ اگرچہ اس اقدام کے طویل مدتی اثرات وقت کے ساتھ واضح ہوں گے، تاہم اسے مالی خودمختاری اور ٹیکنالوجی کے امتزاج کی ایک نمایاں پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

شدید بارشیں اور طوفان: موسمیاتی تبدیلیوں کا خطرناک اثر

جرمن چانسلر فریڈرک مرز کا خطرناک اعلان: "۸۰ فیصد شامی باشندے تین سال میں ڈیپورٹ

روٹی اور جان کی جنگ: کیا خلیج میں کام کرنا اب موت کا سودا ہے؟