دبئی میں INTA کا علاقائی دفتر دانشورانہ املاک کے تحفظ کی نئی جہت"
چارلس شبّان، ریجنل پریزیڈنٹ برائے مشرقِ وسطیٰ و شمالی افریقہ (INTA)، نے دبئی میں تنظیم کے نئے دفتر کے قیام کو ایک تاریخی سنگِ میل قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق یہ دفتر خطے میں دانشورانہ املاک کے تحفظ کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ عالمی تجارت میں علاقائی شمولیت کو مضبوط بنائے گا۔ دبئی انٹرنیشنل فنانشل سینٹر میں قائم یہ دفتر INTA کے 837 ارکان اور 263 اداروں کے ساتھ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کا ذریعہ بنے گا۔
INTA کے دبئی دفتر کا قیام ایک ایسے وقت میں عمل میں آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے ممالک اقتصادی تنوع، ڈیجیٹل گورننس، اور تخلیقی معیشت کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ دبئی کا جدید انفراسٹرکچر، مربوط قانون سازی، اور جغرافیائی محلِ وقوع اسے عالمی تجارتی مراکز سے جوڑنے میں منفرد بناتا ہے۔ چارلس شبّان کے مطابق، یہ دفتر جعل سازی کے خلاف اقدامات کو تیز کرنے اور رکن ممالک کو قومی IP پالیسیوں کے قیام میں مدد فراہم کرے گا۔
ماہرین کے نزدیک، اس اقدام کے اثرات طویل مدتی ہوں گے، کیونکہ خطے کی مجموعی GDP تقریباً 5.2 ٹریلین ڈالر ہے اور صارفین کی منڈی 2032 تک 1.4 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔ ایسے میں دانشورانہ املاک کا تحفظ سرمایہ کاری اور اختراع دونوں کے فروغ کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ INTA کا دبئی دفتر نہ صرف علاقائی تعاون کو فروغ دے گا بلکہ 2029 میں دبئی میں منعقد ہونے والی INTA کی سالانہ کانفرنس کی تیاریوں میں بھی کلیدی کردار ادا کرے گا، جو بین الاقوامی سطح پر علم و تجربے کے تبادلے کا ایک مؤثر پلیٹ فارم ثابت ہو سکتی ہے۔
Comments
Post a Comment