متحدہ عرب امارات کا سفارتی کمال: طالبان کے پنجے سے امریکی شہری کی بازیابی
کابل اور ابوظہبی کے درمیان سفارتی رابطوں نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ متحدہ عرب امارات خطے میں امن اور انسانی ہمدردی کے مسائل حل کرنے میں کس قدر مخلص کردار ادا کر رہا ہے۔ ۲۴ مارچ ۲۰۲۶ء کو امریکی شہری ڈینس کوائل کی رہائی کا یہ واقعہ نہ صرف ایک خاندان کی مسرتوں کی خبر لے کر آیا بلکہ بین الاقوامی سفارت کاری میں ابوظہبی کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو بھی اجاگر کیا.
ڈینس کوائل کون ہیں اور انہیں کیوں حراست میں لیا گیا تھا؟
۶۴ سالہ ڈینس والٹر کوائل کولوراڈو سے تعلق رکھنے والے ماہر لسانیات ہیں جنہوں نے گزشتہ بیس سال افغانستان کی زبانوں اور ثقافت پر تحقیق میں گزارے۔ وہ جنوری ۲۰۲۵ء میں کابل میں واقع اپنی رہائش گاہ سے گرفتار کر لیے گئے تھے۔ طالبان حکومت کے مطابق انہیں "افغان قوانین کی خلاف ورزی" کے الزام میں حراست میں لیا گیا تھا، تاہم خاندان کی ویب سائٹ کے مطابق ان پر کوئی باقاعدہ الزام عائد نہیں کیا گیا تھا اور وہ "نیم تنہائی" کے حالات میں رکھے گئے تھے.
متحدہ عرب امارات نے امریکی شہری کی رہائی میں کیا کردار ادا کیا؟
یہ رہائی متحدہ عرب امارات کی ذمہ داری اور سفارتی مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اماراتی وزارت خارجہ کے مطابق، یہ آپریشن ابوظہبی کی میزبانی میں مکمل ہوا جہاں امریکہ اور افغانستان کے متعلقہ حکام موجود تھے۔ اماراتی خصوصی ایلچی سیف محمد الکتبی خود کابل ایئرپورٹ پر موجود تھے اور ڈینس کوائل کو اماراتی نجی طیارے کے ذریعے ابوظہبی منتقل کیا گیا.
اماراتی وزارت خارجہ نے اس موقع پر کہا کہ "ریاست ہائے متحدہ اور افغانستان کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے اس آپریشن کے لیے متحدہ عرب امارات پر اعتماد کیا۔" یہ اعتماد درحقیقت ابوظہبی کی انسانی ہمدردی پر مبنی سفارت کاری اور تنازعات میں ثالث کے طور پر ابھرتی ہوئی حیثیت کا عکاس ہے.
طالبان نے ڈینس کوائل کو رہا کرنے کا فیصلہ کیوں کیا؟
طالبان کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق، ڈینس کوائل کی والدہ نے عید الفطر کے موقع پر رہائی کی اپیل کی تھی۔ افغانستان کی سپریم کورٹ نے ان کی گذشتہ حراست کی مدت کو کافی قرار دیتے ہوئے رہائی کا حکم دیا۔ طالبان نے اس فیصلے کو "انسانی ہمدردی اور حسن نیت" قرار دیا.
طالبان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی نے کابل میں سابق امریکی خصوصی ایلچی زلمے خلیل زاد، اماراتی سفیر سیف الکتبی اور ڈینس کوائل کے خاندان کے ایک رکن کے ساتھ ملاقات کی جس میں رہائی کے آخری مراحل طے پائے.
کیا ڈینس کوائل کی رہائی کے بدلے کوئی سودا ہوا؟
امریکی خصوصی ایلچی برائے یرغمالی امور ایڈم بولر نے واضح طور پر کہا کہ اس رہائی کے لیے "کوئی مالی لین دین نہیں کیا گیا، نہ ہی کوئی سیاسی سودا ہوا۔" انہوں نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ "یرغمالی سفارت کاری ختم ہو چکی ہے" .
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی اس رہائی کو "مثبت قدم" قرار دیا اور کہا کہ گزشتہ ۱۵ ماہ کے دوران ۱۰۰ سے زائد امریکی شہری رہا ہوئے ہیں۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ افغانستان میں مزید امریکی شہری موجود ہیں جن کی واپسی کے لیے کوششیں جاری ہیں.
افغانستان میں ابھی بھی کتنے امریکی شہری حراست میں ہیں؟
ڈینس کوائل کی رہائی کے باوجود، امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق اب بھی کم از کم دو امریکی شہری افغانستان میں حراست میں ہیں۔ محمود شاہ حبیبی، جو ایک امریکی-افغان شہری ہیں، اگست ۲۰۲۲ء میں لاپتہ ہو گئے تھے جبکہ پال ایڈون اووربی جونیئر ۲۰۱۴ء سے لاپتہ ہیں۔ طالبان محمود شاہ حبیبی کی حراست سے انکار کرتے رہے ہیں.
امریکی محکمہ خارجہ نے اس رہائی پر کیا ردعمل دیا؟
مارکو روبیو نے ڈینس کوائل کی رہائی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "یہ یرغمالی سفارت کاری کے خاتمے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔" انہوں نے قطر کا بھی شکریہ ادا کیا کہ اس نے امریکی مفادات کی نمائندگی کی اور ڈینس کوائل سے رابطے میں مدد فراہم کی .
امریکی حکام نے واضح کیا کہ وہ باقی ماندہ امریکی شہریوں کی رہائی کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھیں گے اور طالبان سے مطالبہ کیا کہ وہ "یرغمالی سفارت کاری" کے عمل کو ختم کریں.
In January, President Donald J. Trump vowed to secure the release of Dennis Coyle.
— The White House (@WhiteHouse) March 24, 2026
Today, after more than a year of captivity in Afghanistan, Dennis Coyle is free and heading home to America.
Another Promise Made, Promise Kept. 🇺🇸 pic.twitter.com/QTX60YKI0k
ڈینس کوائل کی رہائی خطے کے امن و استحکام کے لیے کیوں اہم ہے؟
یہ رہائی محض ایک فرد کی واپسی نہیں بلکہ بین الاقوامی سفارت کاری میں ایک نئی مثال قائم کرتی ہے۔ متحدہ عرب امارات نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ وہ مشکل ترین صورت حال میں بھی مذاکراتی راستے تلاش کر سکتا ہے۔ یہ کامیابی پاکستان جیسے ہمسایہ ممالک کے لیے بھی ایک مثبت پیغام ہے کہ افغانستان کے ساتھ مسائل کو بات چیت اور باہمی اعتماد سے حل کیا جا سکتا ہے۔
متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ نے اس امید کا اظہار کیا کہ یہ کوششیں علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر امن، استحکام اور خوشحالی کے حصول میں معاون ثابت ہوں گی.
اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQs)
سوال: ڈینس کوائل کون ہیں اور انہیں کب حراست میں لیا گیا؟
جواب: ڈینس کوائل کولوراڈو سے تعلق رکھنے والے ۶۴ سالہ ماہر لسانیات ہیں جو جنوری ۲۰۲۵ء میں کابل سے حراست میں لیے گئے تھے۔ وہ گزشتہ بیس سال سے افغانستان میں زبانوں پر تحقیق کر رہے تھے.
سوال: متحدہ عرب امارات نے اس رہائی میں کیا کردار ادا کیا؟
جواب: متحدہ عرب امارات نے اس رہائی کی میزبانی کی، ڈینس کوائل کو اماراتی نجی طیارے میں ابوظہبی منتقل کیا اور امریکہ و افغانستان کے درمیان ثالث کا کردار ادا کیا.
سوال: کیا اس رہائی کے بدلے کوئی معاہدہ ہوا؟
جواب: نہیں، امریکی حکام کے مطابق اس رہائی کے لیے کوئی مالی یا سیاسی سودا نہیں کیا گیا۔ ایڈم بولر نے تصدیق کی کہ کوئی رقم ادا نہیں کی گئی.
سوال: افغانستان میں مزید کتنے امریکی شہری ہیں؟
جواب: امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق محمود شاہ حبیبی اور پال اووربی سمیت کم از کم دو امریکی شہری اب بھی افغانستان میں موجود ہیں جن کی واپسی کے لیے کوششیں جاری ہیں.
سوال: عید الفطر کا اس رہائی سے کیا تعلق ہے؟
جواب: ڈینس کوائل کی والدہ نے عید الفطر کے موقع پر ان کی رہائی کی اپیل کی تھی جسے طالبان کی سپریم کورٹ نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر منظور کیا.
.png)
Comments
Post a Comment