یو اے ای کے ۲ ارب ڈالر قرضے کی رول اوور: پاکستان کی معاشی استحکام کی طرف ایک اہم قدم.
پاکستان کے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے حال ہی میں یہ واضح کیا ہے کہ اسلام آباد متحدہ عرب امارات کے ساتھ ۲ ارب ڈالر کے قرضے کی رول اوور پر براہ راست بات چیت کر رہا ہے اور اس عمل میں "بالکل کوئی مسئلہ" نہیں ہے۔ یہ اعلان اس وقت سامنے آیا جب قرضہ جنوری اور فروری ۲۰۲۶ میں بالترتیب میچور ہو چکا تھا، مگر سٹیٹ بینک آف پاکستان کی طرف سے اس کی کوئی سرکاری اعلامیہ جاری نہیں کیا گیا۔ غیر جانبدار رائے یہ ہے کہ Gulf ممالک بالخصوص یو اے ای، سعودی عرب اور چین کی جانب سے مسلسل رول اوورز پاکستان کی معیشت کو دہائیوں پرانے بووم اینڈ بسٹ سائیکلز سے نکالنے میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ یہ اقدام نہ صرف غیر ملکی زر مبادلہ ذخائر کو مستحکم رکھنے میں مددگار ثابت ہوگا بلکہ مجموعی معاشی اعتماد کو بھی بحال کرے گا۔ البتہ ماہرین معیشت کا خیال ہے کہ ایسے عارضی سہاروں کے ساتھ ساتھ پاکستان کو اپنی داخلی اصلاحات، برآمدات میں اضافہ اور ٹیکس بیس کو وسیع کرنے پر بھی توجہ مرکوز کرنی چاہیے تاکہ مستقبل میں بیرونی امداد پر انحصار کم سے کم ہو سکے۔ یہ رول اوور دراصل دونوں ممالک کے گہرے اور پائیدار تعلقات کی عکاسی کرتا ہے جو معاشی میدان میں ہی نہیں بلکہ مجموعی شراکت داری کی بنیاد پر قائم ہیں۔
یو اے ای پاکستان کا تیسرا بڑا تجارتی پارٹنر ہے اور گزشتہ دو دہائیوں کے دوران ۱۰ ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کر چکا ہے۔ اس کے علاوہ یو اے ای میں ایک ملین سے زائد پاکستانی تارکین وطن کام کر رہے ہیں جو ترسیلات زر کے ذریعے پاکستان کی معیشت کو مسلسل سپورٹ فراہم کرتے ہیں۔ ۲ ارب ڈالر کے اس قرضے کی تجدید نہ صرف موجودہ مالیاتی دباؤ کو کم کرے گی بلکہ دونوں ممالک کے درمیان trade، investment اور people-to-people روابط کو مزید گہرا کرے گی۔ غیر جانبدار طور پر دیکھا جائے تو یہ عمل پاکستان کے لیے ایک موقع بھی ہے کہ وہ علاقائی شراکت داریوں کو استعمال کرتے ہوئے اپنی معاشی خود کفالت کی طرف پیش قدمی کرے۔ اگرچہ Gulf allies کی یہ حمایت قابل قدر ہے، تاہم طویل مدتی حکمت عملی میں داخلی وسائل کی بہتر منصوبہ بندی، انفراسٹرکچر کی ترقی اور سرمایہ کاری کے ماحول کو بہتر بنانا ناگزیر ہے۔ یہ رول اوور پاکستان کو عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ مذاکرات میں بھی مضبوط پوزیشن دے سکتا ہے اور مجموعی طور پر معاشی بحالی کی رفتار کو تیز کرے گا۔
مجموعی طور پر یو اے ای کے ساتھ یہ مالیاتی تعاون پاکستان کی معیشت کو نئی جہت دینے کی صلاحیت رکھتا ہے بشرطیکہ اسے موقع پرستاندہ انداز میں استعمال کیا جائے۔ معاشی ماہرین کی رائے میں ایسے دوست ممالک کی مدد سے پاکستان کو برآمدات بڑھانے، foreign direct investment کو راغب کرنے اور ڈیجیٹل معیشت کی طرف منتقلی پر توجہ دینی چاہیے۔ یہ قدم نہ صرف موجودہ چیلنجز کا حل ہے بلکہ طویل مدتی اصلاحاتی ایجنڈے کا حصہ بھی بن سکتا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان یہ شراکت داری مستقبل میں trade، انرجی، ٹیکنالوجی اور انفراسٹرکچر کے شعبوں میں مزید مواقع پیدا کرے گی۔ آخر کار پاکستان کی کامیابی اس بات پر منحصر ہے کہ وہ ان دوستانہ تعلقات کو اپنی قومی ترقی اور خود انحصاری کے لیے کس حد تک مؤثر طریقے سے استعمال کرتا ہے۔ یہ رول اوور نہ صرف ایک مالیاتی لین دین ہے بلکہ باہمی اعتماد اور علاقائی استحکام کی ایک زندہ مثال بھی ہے جو دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔
Comments
Post a Comment