پاکستان اور متحدہ عرب امارات: جامع معاشی شراکت داری معاہدے کی طرف ایک اہم پیش رفت.

پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان جامع معاشی شراکت داری معاہدہ (سی ای پی اے) کے حتمی مراحل میں پہنچنے کی اطلاع نے دونوں ممالک کے درمیان معاشی تعلقات کو نئی جہت دینے کی امید پیدا کی ہے۔ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں متحدہ عرب امارات کے سفیر کی جانب سے دیے گئے بیان کے مطابق، یہ معاہدہ جلد دستخط کے لیے تیار ہے جو تجارتی رکاوٹوں کو ختم کر کے دوطرفہ تجارت کو نمایاں طور پر بڑھائے گا۔ موجودہ تجارتی حجم 8 سے 10 ارب ڈالر ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان حقیقی صلاحیت سے کم ہے۔ متحدہ عرب امارات کی حکومت کا واضح ہدف اسے جلد از جلد دوگنا کرنا ہے، جو پاکستان کے لیے برآمدات بڑھانے اور معاشی استحکام کے لیے ایک اہم موقع فراہم کر سکتا ہے۔ یہ معاہدہ ٹیرف کم کرنے، مارکیٹ تک رسائی آسان بنانے اور سرمایہ کاری کے بہاؤ کو تقویت دینے کے ذریعے دونوں ملکوں کے درمیان معاشی رابطوں کو رسمی اور گہرا بنائے گا۔


سفیر نے انفراسٹرکچر، پورٹس، ایوی ایشن، زراعت، معدنیات اور ریلوے جیسے اہم شعبوں میں متحدہ عرب امارات کی بڑھتی سرمایہ کاری کا ذکر کیا۔ ریلوے منسٹری کے ساتھ جاری مذاکرات اور شمالی علاقوں سے کراچی تک سپلائی چین کنیکٹیویٹی کے نئے معاہدوں، بشمول ڈرائی پورٹ کے امکانات، معاشی تعاون کی نئی راہیں کھول سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ جوائنٹ بزنس کونسل کی بحالی، ویزا پروسیجر کو ڈیجیٹل سسٹم کے ذریعے آسان بنانا اور ہنر مند افرادی قوت کی نقل و حرکت میں بہتری جیسے اقدامات عملی سطح پر تعلقات کو مضبوط کرنے کی جانب اٹھائے گئے قدم ہیں۔ پاکستان کے اندرونی امور کی وزارت اور پنجاب سکلڈ لیبر اتھارٹی کے ساتھ تعاون بھی اس سلسلے میں اہم ہے۔ متحدہ عرب امارات کی ڈیجیٹل اور اے آئی پر مبنی معیشت کی طرف منتقلی، جہاں سرکاری خدمات کا 99 فیصد آن لائن دستیاب ہے، پاکستان کے لیے آئی ٹی، ڈیجیٹل بینکنگ اور انوویشن میں نئے مواقع پیدا کر سکتی ہے۔


تجارتی عدم توازن ایک چیلنج ہے جہاں پاکستان کی برآمدات 2.1 ارب ڈالر جبکہ امپورٹس 8 ارب ڈالر کے قریب ہیں، اور ترسیلات زر 7.8 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہیں۔ لاہور چیمبر کے صدر نے قابل تجدید توانائی، زراعت، فوڈ پروسیسنگ، آئی ٹی، لاجسٹکس، تعمیرات، سیاحت، ہیلتھ کیئر اور مائننگ جیسے شعبوں میں وسیع امکانات کا ذکر کیا اور پاکستانی مصنوعات کے لیے متحدہ عرب امارات میں ڈسپلے سینٹرز قائم کرنے، ٹریڈ ڈیلیگیشنز اور جوائنٹ وینچرز کی تجویز دی۔ یہ معاہدہ اگر موثر طریقے سے نافذ ہوا تو پاکستان کی معیشت کو استحکام، روزگار کے نئے مواقع اور عالمی سطح پر بہتر پوزیشن فراہم کر سکتا ہے، جبکہ متحدہ عرب امارات کے لیے یہ ایک متنوع اور مستحکم تجارتی شراکت دار کو مضبوط بنانے کا ذریعہ بنے گا۔ مجموعی طور پر یہ پیش رفت دونوں ممالک کے لیے باہمی فائدہ مند اور مستقبل کی بنیاد رکھنے والی ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

شدید بارشیں اور طوفان: موسمیاتی تبدیلیوں کا خطرناک اثر

جرمن چانسلر فریڈرک مرز کا خطرناک اعلان: "۸۰ فیصد شامی باشندے تین سال میں ڈیپورٹ

روٹی اور جان کی جنگ: کیا خلیج میں کام کرنا اب موت کا سودا ہے؟