صوبائی حقوق پر مداخلت برداشت نہیں کی جائے گی: بلاول بھٹو کا دو ٹوک مؤقف-
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے وفاقی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام آباد تعلیم اور آبادی بہبود جیسے صوبائی اختیارات اپنے پاس رکھنے کی کوشش کر رہا ہے، جو آئین اور صوبائی خودمختاری کے منافی ہے۔ کراچی میں سندھ انسٹیٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن (SIUT) کی نئی یونٹ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے خبردار کیا کہ اگر سندھ کے حقوق کو کمزور کرنے کی کوشش کی گئی تو سخت ردعمل سامنے آئے گا۔ بلاول کا کہنا تھا کہ 18ویں ترمیم کے بعد صوبوں میں صحت سمیت کئی شعبوں میں نمایاں بہتری آئی اور یہ اختیارات واپس لینے کا کوئی جواز نہیں۔
### **سندھ میں صحت کے شعبے میں نمایاں پیش رفت**
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ سندھ حکومت نے بین الاقوامی معیار کے مطابق SIUT اور دیگر اسپتالوں کا جال بچھایا ہے، جس کے ثمرات عوام تک براہِ راست پہنچ رہے ہیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ پنجاب سے پیپلز پارٹی کے ایک امیدوار نے خود رابطہ کر کے گزارش کی کہ سندھ کی طرح مفت صحت کی سہولیات ان کے علاقے میں بھی فراہم کی جائیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی کہ خیبر پختونخوا میں ہیلتھ کارڈ پروگرام کے نام پر سرکاری فنڈز نجی اسپتالوں کی طرف منتقل ہو رہے ہیں، جو صحت کے نظام کو کمزور کر سکتا ہے۔
### **18ویں ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ پر پیچھے نہیں ہٹیں گے**
پی پی پی چیئرمین نے وفاق اور خیبر پختونخوا حکومت کو چیلنج کیا کہ وہ گزشتہ 15 سال کی اپنی آبادی منصوبہ بندی کی کارکردگی سامنے لائیں، جبکہ سندھ اپنی کارکردگی پیش کرنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے اعادہ کیا کہ 18ویں ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ کو رول بیک کرنے کی کسی بھی کوشش کی مخالفت کی جائے گی، کیونکہ یہ اقدامات صوبوں کو بااختیار بنانے کی بنیاد ہیں۔ ان کے مطابق 1973 کے آئین کے بعد اگر کوئی ترمیم حقیقی معنوں میں طاقت رکھتی ہے تو وہ 18ویں ترمیم ہی ہے، اور اسے چھیڑنا ’’آگ سے کھیلنے‘‘ کے مترادف ہوگا۔
Comments
Post a Comment