پاکستان۔امریکہ تعلقات میں مبینہ موڑ: واشنگٹن میں اعلیٰ سطحی ملاقات کی بازگشت
25 ستمبر 2025 کو واشنگٹن ڈی سی میں وائٹ ہاؤس میں وزیرِاعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کو بعض امریکی حلقے پاکستان۔امریکہ تعلقات کے تناظر میں ایک اہم علامتی پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔ دی واشنگٹن ٹائمز کے مطابق 2025 کو دوطرفہ تعلقات میں ایک ممکنہ موڑ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جہاں واشنگٹن کی جنوبی ایشیا پالیسی میں پاکستان کی اہمیت نسبتاً بڑھتی دکھائی دیتی ہے۔ اس تجزیے میں مئی 2025 کے پاک۔بھارت کشیدگی کے بعد کے حالات کو امریکی سوچ میں تبدیلی سے جوڑا گیا ہے، جس نے علاقائی سلامتی کے مباحثے کو نئی سمت دی۔
اخبار کے مطابق مئی کے واقعات کے دوران پاکستان کے فوجی ردعمل اور بعد ازاں جنگ بندی نے واشنگٹن میں توجہ حاصل کی۔ اس پس منظر میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کے امریکی دفاعی اور سیاسی قیادت سے رابطوں، اور صدر ٹرمپ کی جانب سے انسدادِ دہشت گردی میں پاکستان کے کردار کی تعریف کو باہمی اعتماد سازی کی کوششوں کے طور پر پیش کیا گیا۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ محدود مگر مسلسل سکیورٹی تعاون نے دونوں ممالک کے تعلقات کو محض وقتی مفادات سے آگے لے جانے کی بنیاد فراہم کی، اگرچہ اس عمل کی پائیداری کا انحصار خطے میں استحکام پر رہے گا۔
دوسری جانب، بھارت کے ساتھ امریکہ کے دیرینہ تعلقات، کواڈ جیسے پلیٹ فارمز، اور خطے میں چین کے کردار نے واشنگٹن کی پالیسی کو پیچیدہ بنائے رکھا ہے۔ دی واشنگٹن ٹائمز کے مطابق پاکستان کو ایران، مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں رابطہ کاری کے ممکنہ پل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، تاہم یہ تاثر ابھی ارتقائی مرحلے میں ہے۔ مجموعی طور پر، واشنگٹن میں ہونے والی حالیہ ملاقات اور اس سے جڑی سفارتی سرگرمیاں ایک ایسے دور کی نشاندہی کرتی ہیں جہاں پاکستان۔امریکہ تعلقات نئے امکانات اور آزمائشوں کے ساتھ آگے بڑھتے دکھائی دیتے ہیں۔
Comments
Post a Comment