بھارت، فرانس اور امارات کی مشترکہ فضائی مشقیں: خطے میں تعاون کی ایک نئی مثال
بھارت، فرانس اور متحدہ عرب امارات کی مشترکہ فضائی مشقوں نے بحیرۂ عرب اور وسیع تر بحرِ ہند کے خطے میں دفاعی تعاون کے ایک نئے مرحلے کو جنم دیا ہے۔ اس مشق میں بھارت کے سُوخوی-30 ایم کے آئی اور جیگوار لڑاکا طیارے، ساتھ ہی فضائی ایندھن فراہم کرنے والے IL-78 اور AEW&C طیارے شامل ہیں۔ ان مشقوں کا بنیادی مقصد تینوں ممالک کے درمیان ہم آہنگی کو مضبوط کرنا اور بدلتی ہوئی علاقائی صورتحال میں مشترکہ ردِعمل کی صلاحیت کو بہتر بنانا ہے۔
فرانس اور امارات اس مشق میں رافیل اور میراج طیاروں کے ساتھ حصہ لے رہے ہیں، جب کہ سرگرمیاں بھارتی فضائی اڈوں جمنگر اور نالیہ سے کنٹرول کی جا رہی ہیں۔ یہ مشقیں پاکستان کی فضائی حدود سے کافی فاصلے پر ہو رہی ہیں، مگر اُن کی جغرافیائی قربت نے خطے میں نئی بحثوں کو جنم دیا ہے۔ بھارت کے مطابق ایسے تعاون سے نہ صرف تکنیکی مہارت بڑھتی ہے بلکہ پیچیدہ حالات میں فوری اور مؤثر کارروائی کی صلاحیت بھی مضبوط ہوتی ہے۔
گزشتہ برس "ڈیزرٹ نائٹ" کے نام سے ہونے والی مشق کے بعد یہ نئی سرگرمی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ تینوں ممالک دفاع، ٹیکنالوجی اور علاقائی سلامتی کے میدان میں مشترکہ لائحہ عمل تیار کرنے کے خواہاں ہیں۔ ساتھ ہی 2023 کی تین ملکی بحری مشقوں کے تناظر میں یہ فضائی تعاون اس وسیع تر حکمتِ عملی کا تسلسل ہے، جس کا مقصد روایتی اور غیر روایتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایک مربوط نظام تشکیل دینا ہے۔
Comments
Post a Comment