*پاکستان کا افغان الزامات کا بھرپور مستردی: چمن جھڑپ میں افغان فورسز نے فائرنگ شروع کی*
پس منظر
چمن سرحد پر جمعرات کو ہونے والے جھگڑے کے بعد پاکستان نے افغانستان کے ان الزامات کو سختی سے مسترد کر دیا کہ اسلام آباد نے فائرنگ کا آغاز کیا۔ وزارت اطلاعات و نشریات نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ فائرنگ افغان فورسز کی جانب سے شروع ہوئی اور پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے ذمہ دارانہ انداز میں جواب دیا۔
تفصیلات
وزارت اطلاعات کے مطابق:
- _"افغان جانب سے فائرنگ کا آغاز ہوا، جس پر ہماری سیکیورٹی فورسز نے فوری اور متوازن ردعمل دیا۔"_
- صورتحال کو پاکستانی فورسز کی ذمہ دارانہ کارروائی سے قابو میں لایا گیا۔
- جنگ بندی برقرار ہے اور پاکستان مکالمہ جاری رکھنے کے لئے پرعزم ہے۔
افغان موقف
افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے دعویٰ کیا کہ پاکستانی فورسز نے اسپین بولدک ایریا میں فائرنگ کی جب دونوں ممالک کے وفود استنبول میں مذاکرات کر رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا:
- _"پاکستانی فورسز نے اسپین بولدک پر فائرنگ کی، جس سے مقامی آبادی میں تشویش پیدا ہوئی۔"_
- اسلامی امارت کی فورسز نے مذاکراتی ٹیم کے احترام اور شہریوں کے تحفظ کے لئے ابھی تک کوئی ردعمل نہیں دیا۔
تجزیہ
یہ واقعہ استنبول میں جاری مذاکرات کے درمیان پیش آیا، جہاں دونوں فریق جنگ بندی کو وسعت دینے اور جارحیت سے بچنے پر اتفاق کر چکے تھے۔ پاکستان نے واضح کیا کہ وہ مکالمہ کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کرنے کے لئے پرعزم ہے اور افغان حکام سے اسی تعاون کی توقع رکھتا ہے۔
نتیجہ
چمن سرحدی تنازعہ نے ایک بار پھر دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی کی ضرورت کو اجاگر کیا ہے۔ ذمہ دارانہ رویہ، بروقت مذاکرات اور جنگ بندی کا احترام خطے میں امن و استحکام کے لئے ناگزیر ہیں۔ پاکستان کی جانب سے افغان الزامات کا مستردی اور ذمہ دارانہ کارروائی اسی عزم کا مظہر ہے۔
Comments
Post a Comment