ڈیجیٹل تعاون کا نیا باب پاکستان اور یو اے ای کے تعلقات میں ٹیکنالوجی کی نئی جہت.
دنیا تیزی سے ڈیجیٹل معیشت کی طرف بڑھ رہی ہے، اور ایسے میں پاکستان اور متحدہ عرب امارات کا تکنیکی تعاون وقت کی ایک اہم ضرورت بن چکا ہے۔ GITEX 2025 کے موقع پر ہونے والی ملاقاتوں نے دونوں ممالک کے درمیان اعتماد اور شراکت داری کو ایک نئی سمت دی ہے۔ وفاقی وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی کام شازا فاطمہ خواجہ اور یو اے ای کی وزارتِ صنعت و جدید ٹیکنالوجی کے انڈر سیکرٹری عمر سووائینہ السووائیدی کے درمیان گفتگو میں مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل گورننس، اور ڈیٹا انوویشن جیسے اہم موضوعات پر اتفاق رائے پیدا ہوا۔ یہ اقدامات پاکستان کے لیے نہ صرف تکنیکی خود مختاری کی طرف ایک قدم ہیں بلکہ خطے میں ڈیجیٹل قیادت کے امکانات کو بھی بڑھا سکتے ہیں۔
پاکستان کی کوشش ہے کہ وہ اپنے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو عالمی معیار کے مطابق ڈھالے اور اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم کو مزید فعال بنائے۔ ابو ظہبی انویسٹمنٹ آفس کے چیف کمپیٹیٹیو نیس آفیسر میسیمو فالسیونی کے ساتھ ملاقات میں اس بات پر زور دیا گیا کہ سرمایہ کاری اور انوویشن کے نئے مواقع تلاش کیے جائیں تاکہ نوجوانوں کو عالمی منڈیوں تک رسائی حاصل ہو۔ اس شراکت داری کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ پاکستان اپنے ٹیلنٹ اور آئی ٹی ایکسپورٹ کے ذریعے یو اے ای جیسے ملکوں کے ساتھ زیادہ متوازن تجارتی تعلقات استوار کر سکے۔
اسی دوران سائبر سیکیورٹی کے میدان میں AHAD کے سی ای او منیب انجم کے ساتھ ہونے والی ملاقات نے ڈیجیٹل اعتماد کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ موجودہ دور میں جہاں ڈیٹا سب سے قیمتی اثاثہ بن چکا ہے، وہاں اس کی حفاظت قومی سلامتی کے مترادف ہے۔ اگر پاکستان اور یو اے ای اس میدان میں مضبوط اشتراک قائم کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں، تو نہ صرف دونوں ممالک کی ڈیجیٹل معیشتیں محفوظ رہیں گی بلکہ عالمی سطح پر ان کا اعتماد بھی بڑھے گا۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ یہ شراکت مستقبل کے ایک ایسے ڈیجیٹل دور کی بنیاد رکھ رہی ہے جہاں تعاون، انوویشن اور اعتماد ترقی کا اصل محور ہوں گے۔
Comments
Post a Comment