پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات میں مزید گہرائی اور معاشی تعاون کی توسیع

پاکستان اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے اعلیٰ سطحی ملاقاتوں اور رابطوں کے ذریعے دو طرفہ تعلقات کو مزید مضبوط کرنے اور معاشی تعاون کو وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی نے ابوظہبی میں یو اے ای کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان سے ملاقات کی اور وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے نیک خواہشات اور دورہ پاکستان کی دعوت پہنچائی۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ برادرانہ تعلقات کو مزید مستحکم اور گہرا کرنے کی ضرورت ہے۔


دوسری جانب، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے یو اے ای کے وزیر مملکت احمد علی السایغ سے ٹیلی فونک گفتگو کی جس میں تجارتی، سرمایہ کاری اور رابطوں کے نئے مواقع تلاش کرنے اور معاشی تعاون کو مزید فروغ دینے پر تبادلہ خیال ہوا۔ یہ روابط جون 2025 میں ابوظہبی میں ہونے والے 12ویں پاک-یو اے ای مشترکہ وزارتی اجلاس کے تسلسل کا حصہ ہیں، جس میں بینکاری، ہوا بازی، توانائی، دفاع، غذائی تحفظ، ماحولیاتی تبدیلی، آئی ٹی، اعلیٰ تعلیم اور افرادی قوت جیسے مختلف شعبوں میں معاہدے طے پائے تھے۔ اس موقع پر ویزہ سہولتوں، سرمایہ کاری اور مصنوعی ذہانت و ڈیجیٹل معیشت کے شعبوں میں بھی یادداشتوں پر دستخط ہوئے۔


یو اے ای پاکستان کا تیسرا بڑا تجارتی شراکت دار ہے، جہاں دو طرفہ تجارت مالی سال 2023-24 میں 10.9 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی۔ مزید برآں، یو اے ای میں مقیم 15 لاکھ سے زائد پاکستانی کارکنان نے گزشتہ سال 6.7 ارب ڈالر کے زرمبادلہ پاکستان بھیجے، جو 2025 میں 7 ارب ڈالر سے بڑھنے کی توقع ہے۔ یو اے ای نے ٹیلی کمیونیکیشن، سیاحت، تیل و گیس، ہاؤسنگ اور رئیل اسٹیٹ کے شعبوں میں بھی پاکستان میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔ یہ حالیہ روابط اس بات کا ثبوت ہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک اور معاشی شراکت داری آنے والے برسوں میں مزید گہری ہوگی۔

Comments

Popular posts from this blog

شدید بارشیں اور طوفان: موسمیاتی تبدیلیوں کا خطرناک اثر

جرمن چانسلر فریڈرک مرز کا خطرناک اعلان: "۸۰ فیصد شامی باشندے تین سال میں ڈیپورٹ

روٹی اور جان کی جنگ: کیا خلیج میں کام کرنا اب موت کا سودا ہے؟