اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں وزیرِاعظم پاکستان کا خطاب

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80ویں اجلاس میں وزیرِاعظم پاکستان شہباز شریف نے اپنے خطاب میں فلسطین کے مسئلے پر فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا اور اسرائیلی اقدامات کو "بے قابو رویہ" قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ غزہ میں جاری فوجی کارروائیاں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں ہیں اور عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر جنگ بندی کو یقینی بنائے۔ وزیرِاعظم نے اس بات کو بھی دہرایا کہ پاکستان فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت اور ایک آزاد ریاست کے قیام کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔


وزیرِاعظم شہباز شریف نے اپنے خطاب میں نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ جنوبی ایشیا میں امن کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ بھارت کے ساتھ حالیہ چار روزہ عسکری جھڑپ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اپنی سلامتی کے دفاع میں جواب دیا اور اس کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی سے جنگ بندی ممکن ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان، طاقت کے باوجود، مذاکرات کی راہ اختیار کرنے پر تیار ہے تاکہ خطے میں دیرپا امن قائم ہو سکے۔


یہ خطاب پاکستان کے موقف کو عالمی برادری کے سامنے واضح کرنے کی ایک کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔ ایک طرف فلسطین کے حق میں آواز بلند کرنا اور اسرائیل کے اقدامات کی مذمت، اور دوسری جانب بھارت کے ساتھ مذاکرات کی پیشکش اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ پاکستان خود کو امن کے داعی کے طور پر پیش کر رہا ہے۔ تاہم، ماہرین کے مطابق یہ چیلنجز اتنے پیچیدہ ہیں کہ صرف بیانات سے ان کا حل ممکن نہیں، اور عملی اقدامات کے بغیر علاقائی و عالمی امن کے خواب کو پورا کرنا مشکل رہے گا۔

Comments

Popular posts from this blog

شدید بارشیں اور طوفان: موسمیاتی تبدیلیوں کا خطرناک اثر

جرمن چانسلر فریڈرک مرز کا خطرناک اعلان: "۸۰ فیصد شامی باشندے تین سال میں ڈیپورٹ

روٹی اور جان کی جنگ: کیا خلیج میں کام کرنا اب موت کا سودا ہے؟