ورلڈ بینک کے صدر اور وزیر اعظم شہباز شریف کی ملاقات: اصلاحات اور تعاون پر تبادلہ خیال

وزیر اعظم شہباز شریف نے نیویارک میں ورلڈ بینک گروپ کے صدر اجے بانگا سے ملاقات کی جس میں پاکستان اور عالمی بینک کے تعلقات پر اطمینان کا اظہار کیا گیا۔ وزیر اعظم نے اس موقع پر عالمی بینک کے طویل عرصے سے جاری تعاون کو سراہا، بالخصوص کووڈ-19 وبا اور 2022 کے تباہ کن سیلاب کے دوران فراہم کی گئی امداد کو پاکستان کے لیے ایک بڑی سہارا قرار دیا۔ ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے مستقبل میں شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔


وزیر اعظم نے اجے بانگا کو حکومت کے جامع اصلاحاتی ایجنڈے سے آگاہ کیا جس میں وسائل کے مؤثر استعمال، توانائی کے شعبے کی اصلاحات، نجکاری کے اقدامات اور ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے لائحہ عمل شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اصلاحات پاکستان کی معیشت کو پائیدار بنیادوں پر استوار کرنے اور ادارہ جاتی ڈھانچے کو مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہو رہی ہیں۔ اس موقع پر ماحولیاتی خطرات سے نمٹنے اور بین الاقوامی تعاون کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔


اجلاس میں وزیر اعظم نے دعویٰ کیا کہ اصلاحات کے نتیجے میں پاکستان کی معیشت میں بتدریج استحکام آیا ہے، سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا ہے اور پائیدار و جامع ترقی کی راہ ہموار ہو رہی ہے۔ اس ملاقات کو پاکستان کے لیے ایک موقع کے طور پر دیکھا جا رہا ہے کہ عالمی بینک کے تعاون سے جاری منصوبوں کو تیز کیا جائے اور مستقبل کی سرمایہ کاری کے نئے راستے تلاش کیے جائیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس طرح کی سفارتی اور معاشی سرگرمیاں نہ صرف پاکستان کی اقتصادی سمت کو بہتر بنا سکتی ہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر اعتماد سازی میں بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔

Comments

Popular posts from this blog

شدید بارشیں اور طوفان: موسمیاتی تبدیلیوں کا خطرناک اثر

جرمن چانسلر فریڈرک مرز کا خطرناک اعلان: "۸۰ فیصد شامی باشندے تین سال میں ڈیپورٹ

روٹی اور جان کی جنگ: کیا خلیج میں کام کرنا اب موت کا سودا ہے؟