علاقائی کشیدگی اور 'غیر ملکی ہاتھ': حقیقت، خدشات اور سفارتکاری کی راہ.
وزیرِاعظم شہباز شریف نے شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس میں ایک بار پھر دہشت گردی میں "غیر ملکی ہاتھوں" کے مبینہ کردار کا ذکر کیا، جسے بھارت کے لیے اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے 90,000 جانوں اور 152 ارب ڈالر کے معاشی نقصانات کی بھاری قیمت ادا کی ہے۔ بلاشبہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں عظیم قربانیاں دی ہیں، لیکن ایسے الزامات عالمی فورمز پر اس وقت مؤثر ہوتے ہیں جب ان کے ساتھ ٹھوس، شفاف شواہد بھی پیش کیے جائیں تاکہ بین الاقوامی برادری انہیں سنجیدگی سے لے۔
اس موقع پر وزیرِاعظم کا امن کی خواہش اور مذاکرات کی حمایت کا پیغام ایک مثبت اشارہ ہے۔ موجودہ صورتِ حال میں جب بھارت اور پاکستان کے تعلقات نہایت نازک موڑ پر ہیں، ایسی بیانات خطے میں کشیدگی کو کم کرنے کا ذریعہ بن سکتے ہیں، بشرطیکہ دونوں اطراف خلوصِ نیت سے بات چیت کو ترجیح دیں۔ پانی جیسے بنیادی مسائل پر معاہدوں کی معطلی یا الزام تراشیوں کا سلسلہ، دیرپا امن کی راہ میں بڑی رکاوٹ بن سکتا ہے۔
جنوبی ایشیا میں پائیدار استحکام کے لیے ضروری ہے کہ تمام فریقین ماضی کے تنازعات کو سفارتکاری کے ذریعے حل کرنے پر آمادہ ہوں۔ نہ صرف دہشت گردی کے نیٹ ورکس کو بے نقاب کرنا اہم ہے، بلکہ ان کے خلاف مشترکہ کارروائی کا لائحہ عمل بھی مرتب ہونا چاہیے۔ اگر پاکستان اور بھارت اپنے اختلافات کو بات چیت کے ذریعے سلجھانے پر سنجیدہ ہو جائیں تو یہ خطہ عالمی سطح پر ترقی اور امن کی نئی راہوں پر گامزن ہو سکتا ہے۔
Comments
Post a Comment