ربیع الاول کا چاند نظر نہ آنے کا اعلان ایک متوازن فیصلہ۔

مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین مولانا عبد الخبیر آزاد نے حال ہی میں اعلان کیا کہ ربیع الاول کا چاند نظر نہیں آیا، لہٰذا 12 ربیع الاول، یعنی عید میلاد النبی ﷺ، 6 ستمبر بروز جمعہ منائی جائے گی۔ یہ اعلان نہ صرف مذہبی حوالے سے اہمیت رکھتا ہے بلکہ اس سے عوامی سطح پر نظم و ضبط اور ہم آہنگی کا پیغام بھی جاتا ہے۔ چاند کی رویت کے حوالے سے کیے جانے والے فیصلے حساس نوعیت کے ہوتے ہیں، اس لیے محتاط رویہ اختیار کرنا ایک دانشمندانہ عمل قرار دیا جا سکتا ہے۔


سپارکو کی جانب سے جاری کردہ پیش گوئی میں چاند کی پیدائش اور اس کی ممکنہ رویت کے امکانات ظاہر کیے گئے تھے، خصوصاً ساحلی علاقوں میں، جہاں سورج کے غروب ہونے اور چاند کے غروب ہونے کے درمیان مناسب وقت موجود تھا۔ تاہم، رویت ہلال کمیٹی نے سائنسی اندازوں کے ساتھ ساتھ زمینی مشاہدات کو بنیاد بناتے ہوئے فیصلہ کیا، جس میں کراچی، لاہور، کوئٹہ اور پشاور میں زونل اجلاسوں کے ذریعے شہادتیں اکٹھی کرنے کی کوشش کی گئی۔ اس عمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ مذہبی فیصلوں کو صرف روایت نہیں بلکہ سائنسی حقائق اور مشاورت کی روشنی میں لیا جا رہا ہے۔


عید میلاد النبی ﷺ ایک ایسا موقع ہے جو عاشقانِ رسول ﷺ انتہائی عقیدت و احترام سے مناتے ہیں۔ حکومت کی جانب سے اس دن کو سرکاری تعطیل قرار دینا، اس کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ چاند کی رویت کا فیصلہ خواہ کسی بھی تاریخ پر ہو، اصل مقصد اتحاد، ہم آہنگی اور شعائرِ اسلامی کی حرمت کو برقرار رکھنا ہے۔ رویت ہلال کمیٹی کا حالیہ فیصلہ اس بات کی مثال ہے کہ مذہبی عقیدت کے ساتھ سائنسی اداروں کی معلومات اور قومی سطح پر مشاورت کو بھی اہمیت دی جا رہی ہے، جو ایک خوش آئند رجحان ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

شدید بارشیں اور طوفان: موسمیاتی تبدیلیوں کا خطرناک اثر

جرمن چانسلر فریڈرک مرز کا خطرناک اعلان: "۸۰ فیصد شامی باشندے تین سال میں ڈیپورٹ

روٹی اور جان کی جنگ: کیا خلیج میں کام کرنا اب موت کا سودا ہے؟