راشد منہاس شہید: ایک ناقابلِ فراموش قربانی، جو آج بھی جذبۂ حب الوطنی کی علامت ہے۔



راشد منہاس شہید (نشانِ حیدر) کی 54ویں برسی پر پاکستان کی اعلیٰ عسکری قیادت نے اُنہیں خراجِ عقیدت پیش کیا۔ چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، چیئرمین جوائنٹ چیفس جنرل ساحر شمشاد مرزا، نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف، اور ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے ان کی عظیم قربانی کو سلام پیش کیا۔ یہ اجتماع نہ صرف ایک شہید کو یاد کرنے کا موقع تھا بلکہ ایک قومی پیغام بھی کہ ہماری مسلح افواج اپنے ہیروز کو کبھی نہیں بھولتیں۔


راشد منہاس شہید نے 1971 میں چند لمحوں میں ایک ایسا فیصلہ کیا جس نے نہ صرف تاریخ کا دھارا بدلا بلکہ قومی شعور میں حب الوطنی کی ایک روشن مثال قائم کی۔ اپنی جان دے کر ملک کے راز دشمن کے ہاتھ لگنے سے بچائے۔ ان کا یہ عمل ہمیں یاد دلاتا ہے کہ قربانی صرف میدانِ جنگ میں نہیں، سوچ اور اصولوں کے تحفظ میں بھی دی جاتی ہے۔ ان کی وفاداری اور فرض شناسی آج بھی نوجوانوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔


اس برسی پر قوم کو ایک بار پھر یہ سوچنے کا موقع ملا کہ آزادی کا تحفظ الفاظ سے نہیں، عمل اور قربانی سے ممکن ہوتا ہے۔ راشد منہاس کا نام ہمیشہ پاکستان کی تاریخ میں وفاداری، جرات، اور قربانی کی علامت کے طور پر زندہ رہے گا۔ ان کی یاد ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ جب بھی مادرِ وطن پکارے، وفا کا تقاضا جان کی قیمت پر بھی پورا کیا جانا چاہیے۔

Comments

Popular posts from this blog

شدید بارشیں اور طوفان: موسمیاتی تبدیلیوں کا خطرناک اثر

جرمن چانسلر فریڈرک مرز کا خطرناک اعلان: "۸۰ فیصد شامی باشندے تین سال میں ڈیپورٹ

روٹی اور جان کی جنگ: کیا خلیج میں کام کرنا اب موت کا سودا ہے؟