پاک امریکہ انسدادِ دہشتگردی تعاون: نئے امکانات کی طرف ایک پیش رفت۔
گزشتہ دنوں اسلام آباد میں ہونے والے پاک-امریکہ انسدادِ دہشتگردی ڈائیلاگ میں دونوں ممالک نے دہشتگردی کے خلاف تعاون کو مزید مؤثر اور مربوط بنانے پر زور دیا۔ امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے بلوچ علیحدگی پسند تنظیموں، بشمول بلوچ لبریشن آرمی (BLA) اور اس کی ذیلی تنظیم، کو دہشتگرد قرار دینا، پاکستان کے دیرینہ مطالبات میں سے ایک کی تکمیل ہے۔ یہ فیصلہ نہ صرف پاکستان کی قربانیوں کو تسلیم کرتا ہے بلکہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی فضا کو بھی مضبوط کرتا ہے۔
دونوں اطراف سے جاری بیانات میں دہشتگردی کے نئے چیلنجز، جیسے داعش خراسان (IS-K) اور تحریکِ طالبان پاکستان (TTP)، سے نمٹنے کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی اور ادارہ جاتی ترقی پر زور دیا گیا۔ امریکی نمائندوں نے پاکستان کی قربانیوں کا اعتراف کرتے ہوئے جافر ایکسپریس اور خضدار حملوں میں جان کی بازی ہارنے والوں کے لیے افسوس کا اظہار بھی کیا۔ اس موقع پر جدید ٹیکنالوجی کے غلط استعمال اور خطے میں پائیدار امن کے لیے باہمی اقدامات پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔
یہ حالیہ پیش رفت ایک ایسے وقت پر ہوئی ہے جب امریکہ اور پاکستان کے تعلقات میں نئی گرمجوشی دیکھی جا رہی ہے۔ آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی امریکہ میں ملاقاتوں، اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کی امریکی حکام سے بات چیت نے تعلقات میں نیا رخ متعین کیا ہے۔ اگرچہ ماضی میں دونوں ممالک کے درمیان غلط فہمیاں رہیں، لیکن موجودہ تعاون اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ دونوں فریق خطے کے امن اور سلامتی کے لیے ایک ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔
Comments
Post a Comment