شاہ محمود قریشی بری، یاسمین راشد و دیگر کو سزائیں۔
لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے مئی 9 کے واقعات سے متعلق دو اہم مقدمات کا فیصلہ سنا دیا ہے۔ ان مقدمات میں شادمان تھانے پر حملے اور پولیس کی گاڑیوں کو جلانے کے الزامات شامل تھے۔ سابق وزیر خارجہ اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینئر رہنما شاہ محمود قریشی کو دونوں مقدمات میں بری کر دیا گیا ہے، جب کہ دیگر ملزمان کو سخت سزائیں سنائی گئی ہیں۔ عدالت نے یہ فیصلہ کوٹ لکھپت جیل میں سنایا، جہاں ان مقدمات کی سماعت مکمل ہوئی۔
انسداد دہشت گردی عدالت کے جج منظر علی گِل نے فیصلے میں ڈاکٹر یاسمین راشد، میاں محمود الرشید، سینیٹر اعجاز چوہدری اور عمر سرفراز چیمہ کو دس دس سال قید کی سزا سنائی، جب کہ علیا حمزہ اور صنم جاوید کو پانچ پانچ سال قید کا حکم دیا گیا۔ شادمان تھانے کے جلاؤ گھیراؤ کیس میں 19 ملزمان کے خلاف مقدمے کی سماعت مکمل ہوئی تھی، جن میں سے کچھ کو اشتہاری قرار دیا گیا ہے اور ایک ملزم دوران حراست جاں بحق ہو چکا ہے۔
ان مقدمات میں دہشت گردی اور دیگر دفعات کے تحت کارروائی کی گئی۔ عدالت کی جانب سے دی گئی سزاؤں نے قانونی نظام کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے، تاہم سیاسی حلقوں اور عوامی سطح پر ان فیصلوں پر مختلف آرا سامنے آ رہی ہیں۔ بریت اور سزا کے فیصلے انصاف کے تقاضوں کے مطابق کیے گئے ہیں یا نہیں، اس پر بحث جاری ہے، اور اپیل کا حق بھی باقی ہے۔ فیصلے کے بعد پی ٹی آئی کے رہنماؤں کی سیاسی حیثیت پر بھی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
Comments
Post a Comment