پاکستان اور ایتھوپیا کی مشترکہ ماحولیاتی مہم: شجرکاری سے عالمی یکجہتی تک.

پاکستان کا ایتھوپیا کے "گرین لیگیسی پروگرام" میں شرکت کرنا ایک اہم علامت ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے مسائل کے حل کے لیے عالمی سطح پر تعاون ناگزیر ہو چکا ہے۔ سات سو ملین درختوں کی ایک دن میں شجرکاری کا ہدف نہ صرف ماحول دوست سوچ کی عکاسی کرتا ہے بلکہ ماحولیاتی بحران سے نمٹنے کے لیے اجتماعی ذمہ داری کو بھی اجاگر کرتا ہے۔ اس مہم میں پاکستان کی شمولیت اس بات کا اظہار ہے کہ ترقی پذیر ممالک بھی ماحولیاتی قیادت کا کردار ادا کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔


تقریب میں وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک کی موجودگی اور ان کے پُراثر خیالات قابلِ توجہ تھے، جنہوں نے ماحولیاتی نقصان کو "نسلوں سے چوری" قرار دیا۔ ان کے مطابق اگر فوری اور اجتماعی اقدام نہ کیا گیا، تو آنے والی نسلیں وہ قدرتی خوبصورتی کھو دیں گی جو ہمیں ورثے میں ملی ہے۔ انہوں نے اگست میں ملک گیر شجرکاری مہم کا اعلان کیا، جس کے تحت عوام کو مفت پودے فراہم کیے جائیں گے تاکہ ماحولیاتی تحفظ کو عوامی سطح پر فروغ دیا جا سکے۔


ایتھوپیا اور پاکستان کے درمیان مشترکہ شجرکاری مہم نہ صرف ایک علامتی اقدام ہے بلکہ دونوں ممالک کے درمیان ماحولیاتی اور سفارتی تعلقات کی گہرائی کا مظہر بھی ہے۔ اس موقع پر "گرین ڈائیلاگ" اور آئندہ افریقہ کلائمٹ سمٹ میں پاکستان کی شرکت جیسے اعلانات ظاہر کرتے ہیں کہ یہ تعاون وقتی نہیں، بلکہ ایک دیرپا ماحولیاتی شراکت داری کی بنیاد رکھ رہا ہے، جو عالمی سطح پر پائیدار ترقی کے اہداف کو حاصل کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

شدید بارشیں اور طوفان: موسمیاتی تبدیلیوں کا خطرناک اثر

جرمن چانسلر فریڈرک مرز کا خطرناک اعلان: "۸۰ فیصد شامی باشندے تین سال میں ڈیپورٹ

روٹی اور جان کی جنگ: کیا خلیج میں کام کرنا اب موت کا سودا ہے؟