مہرانگ بلوچ اور بی وائی سی ارکان کی نظربندی کا قانونی پہلو

بلوچ یوتھ کانگریس (BYC) کے ارکان کو مختلف مقدمات میں چار مختلف ایف آئی آرز کے تحت عدالت میں پیش کیا گیا ہے، جن میں مہرانگ بلوچ بھی شامل ہیں۔ وکیل اسرا ر احمد کے مطابق، یہ ایف آئی آرز اس وقت سامنے آئیں جب ان کی نظر بندی کی آخری توسیع کی مدت مکمل ہو گئی۔ وکیل جبران ناصر کے مطابق، یہ ایف آئی آرز مہرانگ کے اہل خانہ نے فراہم کیں، جن میں سول لائنز تھانے میں 19 مارچ کو سول اسپتال پر دھاوا بولنے اور بریوری تھانے میں 2 مارچ کو مغربی بائی پاس روڈ بند کرنے سے متعلق مقدمات شامل ہیں۔


مہرانگ بلوچ کو 22 مارچ کو 30 دن کے لیے مینٹیننس آف پبلک آرڈر (MPO) کے تحت حراست میں لیا گیا تھا۔ بعد ازاں ان کی حراست میں مزید 30 دن کی توسیع کی گئی، اور مئی میں بلوچستان ہائی کورٹ کے ایک فیصلے کے مطابق، ایک چوتھی توسیع کے تحت مزید 15 دن کی قید کا حکم جاری کیا گیا۔ اس تمام عرصے کے دوران انہیں عدالت میں پیش کیا گیا اور ان کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ (ATC) اور دیگر تعزیری دفعات کے تحت قانونی کارروائی جاری ہے۔


معروف انسانی حقوق کے وکیل جبران ناصر کے مطابق، ریاست نے جب MPO قوانین کا پورا فائدہ اٹھا لیا تو اب انسداد دہشت گردی عدالتوں اور دیگر تعزیری دفعات کو استعمال کر کے بی وائی سی رہنماؤں کی آزادی سلب کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اب طویل ریمانڈ، ضمانت کی درخواستوں پر تاخیر اور ممکنہ طور پر ضمانت کی منسوخی جیسے مراحل آئیں گے، اور اگر کسی وقت ضمانت منظور بھی ہوئی تو نئے مقدمے یا کسی اور ضلع کی جیل منتقلی کا خدشہ ہے۔ یہ طریقہ کار آزادی اظہار اور سیاسی فعالیت پر سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

شدید بارشیں اور طوفان: موسمیاتی تبدیلیوں کا خطرناک اثر

جرمن چانسلر فریڈرک مرز کا خطرناک اعلان: "۸۰ فیصد شامی باشندے تین سال میں ڈیپورٹ

روٹی اور جان کی جنگ: کیا خلیج میں کام کرنا اب موت کا سودا ہے؟