چینی وفد کی توانائی میں سرمایہ کاری کی دلچسپی اور پاکستان کی حقیقت پسندانہ پالیسی.
پاکستان اور چین کے درمیان صنعتی تعاون کی نئی راہیں اس وقت سامنے آئیں جب آل چائنا فیڈریشن آف انڈسٹری اینڈ کامرس (ACFIC) کے ڈائریکٹر یی جیانگ کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی تجارتی وفد نے وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری سے ملاقات کی۔ ملاقات میں چین کی نجی کاروباری برادری کی جانب سے پاکستان میں صنعتوں کی منتقلی، ٹیکنالوجی کی منتقلی، اور توانائی کے شعبے میں شراکت داری پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ چینی وفد نے خصوصی طور پر الیکٹرک گاڑیوں، چارجنگ اسٹیشنز، شمسی مصنوعات اور لتھیئم اسٹوریج جیسے شعبوں میں دلچسپی ظاہر کی۔
اس ملاقات میں وفد نے مٹیاری ٹرانسمیشن لائن کو ایک کامیاب مثال کے طور پر سراہا اور کہا کہ پاکستان میں سرمایہ کاری مقامی ضروریات کے ساتھ ساتھ خطے کی توانائی ضروریات کو بھی پورا کر سکتی ہے۔ کرپٹو مائننگ جیسے غیر روایتی ماڈلز پر بھی بات چیت ہوئی، جو قومی گرڈ میں لچکدار صلاحیت پیدا کرنے کی ایک ممکنہ صورت ہو سکتی ہے۔ تاہم ان تمام تجاویز کی کامیابی کا دارومدار اس بات پر ہے کہ ان میں مقامی صنعتوں کو کیا مقام دیا جاتا ہے اور کیا وہ پاکستان کے پائیدار ترقیاتی اہداف سے ہم آہنگ ہیں یا نہیں۔
وزیر توانائی نے وفد کا خیر مقدم کرتے ہوئے ٹیکنالوجی تعاون کے لیے حکومت کی آمادگی کا اظہار کیا، مگر ساتھ ہی موجودہ مالی مشکلات کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا کہ حکومت توانائی کی مد میں کسی قسم کی سبسڈی نہیں دے سکتی۔ انہوں نے چینی وفد پر زور دیا کہ وہ ایسے مالی ماڈلز پیش کریں جو خود کفیل ہوں اور جن کی منصوبہ بندی پاکستان کے قومی مفادات سے مطابقت رکھتی ہو۔ اس ملاقات کو پاکستان کی اقتصادی حقیقتوں کے ساتھ غیر ملکی سرمایہ کاری میں توازن پیدا کرنے کی سنجیدہ کوشش کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
Comments
Post a Comment