پاکستان کی فلسطینی ریاست کی حمایت—عالمی ضمیر کی آزمائش.
پاکستان نے ایک بار پھر اقوام متحدہ کے اعلیٰ سطحی بین الاقوامی اجلاس میں فلسطینیوں کے آزاد، خودمختار اور متصل ریاست کے حق کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔ نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اپنی تقریر میں اسرائیلی اقدامات کو انسانی حقوق اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اقوام متحدہ کی قرارداد 2735 پر فوری اور غیر مشروط عمل درآمد ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ غزہ اس وقت انسانی ضمیر، بین الاقوامی قانون اور اصولوں کی پامالی کی علامت بن چکا ہے۔
اسحاق ڈار نے عالمی برادری کو یاد دلایا کہ فلسطینی عوام گزشتہ 75 برس سے مسلسل ظلم، جبر اور بے وطنی کا شکار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال صرف سیاسی ناکامی نہیں بلکہ اخلاقی زوال کی عکاس ہے، اور عالمی امن کے لیے ایک مستقل خطرہ بھی ہے۔ انہوں نے سعودی عرب، قطر، مصر اور امریکہ کی سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے فوری جنگ بندی، انسانی امداد کی بحالی، اور اقوام متحدہ کے ادارے UNRWA کی مالی معاونت کی ضرورت پر زور دیا۔ اس کے ساتھ ساتھ، اسرائیلی جنگی جرائم پر بین الاقوامی احتساب اور فلسطینی علاقوں میں جبری بے دخلی کی شدید مذمت بھی کی گئی۔
پاکستان کی جانب سے اس عالمی مسئلے پر دوٹوک موقف نہ صرف فلسطینی عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی ہے بلکہ یہ ایک ایسی اخلاقی و اصولی پوزیشن بھی ہے جو اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں کی اصل روح کے مطابق ہے۔ اس کانفرنس کے ذریعے عالمی برادری پر یہ واضح پیغام دیا گیا کہ فلسطین کے مسئلے پر تاخیر مزید خونریزی اور بے چینی کو جنم دے گی۔ پائیدار امن کا واحد راستہ ایک قابل عمل دو ریاستی حل، فلسطینی خودمختاری اور اقوام متحدہ میں مکمل رکنیت کے حصول سے ہی ممکن ہے۔
Comments
Post a Comment