غیرت کے نام پر قتل، قانون اور روایت کے درمیان کشمکش.
بلوچستان میں غیرت کے نام پر قتل کے ایک افسوسناک واقعے میں قبائلی رہنما سردار شیر باز ستک زئی کو مرکزی ملزم قرار دے کر جسمانی ریمانڈ میں توسیع دے دی گئی ہے۔ کوئٹہ کی انسدادِ دہشتگردی عدالت نے پولیس کی درخواست پر ان کا مزید دس روزہ ریمانڈ منظور کیا ہے۔ یہ واقعہ اُس وقت منظر عام پر آیا جب ایک ویڈیو وائرل ہوئی، جس میں ایک جوڑے کو صحرائی علاقے میں لے جا کر قتل کیا گیا۔ وزیرِاعلیٰ بلوچستان اور دیگر سیاسی شخصیات نے فوری کارروائی کی ہدایت دی، جس کے بعد گرفتاری عمل میں لائی گئی۔
اس واقعے کے بعد مقتولہ کی والدہ کا بیان سامنے آیا جس میں انہوں نے اسے "رسم و روایت" کے مطابق ایک جُرگہ کا فیصلہ قرار دیا اور سردار ستک زئی کو بری الذمہ قرار دیا۔ تاہم، پاکستان علما کونسل نے اس بیان کو اسلام اور آئین دونوں کے منافی قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ کونسل نے واضح طور پر کہا کہ کسی والدین کو اپنے بچوں کے قتل کا حق حاصل نہیں، اور نہ ہی روایتی جُرگہ قانون کی جگہ لے سکتا ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ ریاست اس کیس میں تاخیر یا مصلحت سے کام نہ لے۔
غیرت کے نام پر قتل ایک ایسا سنگین سماجی مسئلہ بن چکا ہے جو نہ صرف خواتین بلکہ ریاست کے قانونی ڈھانچے کو بھی چیلنج کرتا ہے۔ انسانی حقوق کے اداروں کے مطابق 2024 میں سینکڑوں افراد ان نام نہاد "غیرت" کے واقعات کا شکار ہوئے۔ ایسے میں یہ ضروری ہے کہ قانون کی عملداری کو ہر سطح پر یقینی بنایا جائے، تاکہ کوئی فرد، چاہے وہ قبائلی رہنما ہو یا والدین، قانون سے بالاتر نہ ہو۔ اس واقعے کی شفاف تفتیش اور مکمل قانونی کارروائی مستقبل کے لیے مثال بن سکتی ہے۔
Comments
Post a Comment