کیا تاجر برادری کا ملک گیر احتجاج اصلاحات کی راہ میں رکاوٹ ہے یا جائز خدشات کی عکاسی؟
تاجر برادری کی جانب سے ہفتے کے روز ملک گیر ہڑتال نے کئی بڑے شہروں میں کاروباری سرگرمیوں کو مفلوج کر دیا۔ کراچی، لاہور، حیدرآباد، کوئٹہ اور پشاور جیسے شہروں میں بازار مکمل بند رہے، جب کہ اسلام آباد میں معمول کے مطابق کاروبار جاری رہا۔ ہڑتال کا بنیادی سبب ایف بی آر کو دیے گئے نئے اختیارات کے خلاف احتجاج ہے، جنہیں تاجر برادری اپنی آزادی پر قدغن اور کاروباری معاملات میں مداخلت تصور کرتی ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ حکومتی پالیسیوں میں ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے کی کوشش ایک دیرینہ مطالبہ رہی ہے، جسے بین الاقوامی مالیاتی ادارے بھی ترجیح دیتے ہیں۔ تاہم، تاجر برادری کا مؤقف ہے کہ اصلاحات مشاورت اور اعتماد سازی کے بغیر مسلط کی جا رہی ہیں، جس سے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار دباؤ کا شکار ہو رہے ہیں۔ کاروباری تنظیموں جیسے کراچی چیمبر اور لاہور چیمبر نے بھی اس احتجاج کی حمایت کی ہے، جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ مسئلہ محض چھوٹے تاجروں تک محدود نہیں۔
اس صورتِ حال میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا حکومت اور کاروباری طبقے کے درمیان کوئی مشترکہ حل ممکن ہے؟ ہڑتال نے ایک جانب معیشت کو وقتی نقصان پہنچایا ہے، تو دوسری جانب پالیسی سازوں کو یہ پیغام بھی دیا ہے کہ یک طرفہ اقدامات مزید بے چینی کو جنم دے سکتے ہیں۔ ضروری ہے کہ فریقین ایک میز پر بیٹھ کر ایسا فریم ورک ترتیب دیں جو نہ صرف ٹیکس نیٹ کو وسعت دے، بلکہ تاجر برادری کو بھی اعتماد میں لے کر آگے بڑھے۔
Comments
Post a Comment