لاہور کے حفیظ سینٹر میں آگ کا واقعہ: خوش قسمتی یا مؤثر انتظامیہ؟

حفیظ سینٹر لاہور میں شارٹ سرکٹ کے باعث لگنے والی آگ کو بروقت قابو پانے کی مثال کہا جا سکتا ہے کہ اگر ریسکیو 1122 کی ٹیم تاخیر کرتی، تو اس کا انجام ایک بڑے سانحے کی صورت میں نکلتا۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی جانب سے بروقت اقدامات کی تعریف اور مکمل سیفٹی آڈٹ کا حکم اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ حکومت اب صرف ردعمل پر نہیں بلکہ پیشگی تحفظاتی اقدامات پر بھی توجہ دے رہی ہے۔


ریسکیو اہلکاروں کی بروقت کارروائی نے صرف آگ کو قابو میں ہی نہیں لیا بلکہ تاجروں کو کروڑوں روپے کے نقصان سے بھی بچایا۔ عینی شاہدین کے مطابق آگ اچانک بھڑکی، مگر ریسکیو ٹیم کی حاضر دماغی نے حالات کو بگڑنے سے پہلے ہی قابو میں لے لیا۔ تاجروں نے حکومت اور ریسکیو ادارے کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اگر تاخیر ہوتی تو پورا بازار خاکستر ہو سکتا تھا۔


یہ واقعہ ایک بار پھر کمرشل عمارات میں حفاظتی اقدامات کی کمی کو اجاگر کرتا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ شارٹ سرکٹ جیسے معمولی تکنیکی مسائل بھی تباہ کن نتائج پیدا کر سکتے ہیں اگر ابتدائی احتیاطی تدابیر نہ لی جائیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ سیفٹی آڈٹ کو رسمی کارروائی کی بجائے ایک مستقل اور سخت پالیسی کا حصہ بنایا جائے تاکہ آئندہ اس نوعیت کے واقعات سے مکمل بچاؤ ممکن ہو

Comments

Popular posts from this blog

شدید بارشیں اور طوفان: موسمیاتی تبدیلیوں کا خطرناک اثر

جرمن چانسلر فریڈرک مرز کا خطرناک اعلان: "۸۰ فیصد شامی باشندے تین سال میں ڈیپورٹ

روٹی اور جان کی جنگ: کیا خلیج میں کام کرنا اب موت کا سودا ہے؟