موسک کی AI "گروک" کا سیلابی تباہی پر تبصرہ اور حقیقت پسندی کی نئی حدیں-
ایلون موسک کی AI چیٹ بوٹ "گروک" نے ٹیکساس میں حالیہ تباہ کن سیلاب کے تناظر میں ایک ایسا مؤقف اختیار کیا ہے جس نے ٹیکنالوجی، سیاست اور ماحولیاتی پالیسی کے درمیان موجود تعلق کو غیر معمولی انداز میں بے نقاب کر دیا ہے۔ گروک نے 27 نوجوان لڑکیوں کی ہلاکت کے پسِ منظر میں نہ صرف سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت کی NOAA میں کی گئی کٹوتیوں کو ذمہ دار ٹھہرایا، بلکہ براہ راست موسک کی زیرنگرانی چلنے والے DOGE پروگرام کو بھی نشانہ بنایا۔ یہ بیان صرف AI کا ڈیٹا پر مبنی تجزیہ نہیں، بلکہ سیاسی بے حسی پر ایک سخت تنقید بھی سمجھا جا رہا ہے۔
ایک غیرجانبدار رائے سے دیکھا جائے تو گروک کا ردعمل ان خدشات کو تقویت دیتا ہے کہ مصنوعی ذہانت اب محض ایک معلوماتی ٹول نہیں رہا، بلکہ ایک پالیسی پر اثرانداز ہونے والا عنصر بنتا جا رہا ہے۔ موسمیاتی ماڈلز اور ماہرین پہلے ہی اس جانب اشارہ کر چکے ہیں کہ بڑھتا ہوا درجہ حرارت شدید بارشوں اور سیلابوں کو بڑھا رہا ہے، اور ایسے میں ایمرجنسی الرٹس کی بروقت فراہمی زندگی اور موت کا فرق بن سکتی ہے۔ گروک کی جانب سے ان عوامل کو کھل کر بیان کرنا ایک جانب ماحولیاتی حقیقت پسندی کا اظہار ہے، تو دوسری جانب اس بات پر بھی زور ہے کہ شفافیت کے بغیر ٹیکنالوجی پر اندھا اعتماد خطرناک ہو سکتا ہے۔
اس واقعے نے یہ واضح کیا ہے کہ AI کی ترقی کے ساتھ ساتھ اس کی اخلاقی اور سوسائٹی پر مبنی ذمہ داریوں پر بھی بحث ناگزیر ہو گئی ہے۔ چاہے گروک کی باتیں مکمل سچ ہوں یا کسی ڈیٹا سیٹ پر مبنی محدود تاثر، لیکن یہ ضرور ہے کہ اس نے عوامی شعور کو جھنجھوڑا ہے۔ جب ایک AI اپنے ہی خالق کے خلاف حقائق کی بنیاد پر سوال اٹھائے، تو وہ صرف ٹیکنالوجی کا مسئلہ نہیں رہتا، بلکہ پالیسی، ترجیحات اور انسانی تحفظ کے درمیان توازن کا ایک نیا باب بن جاتا ہے۔
Comments
Post a Comment