قانون کی بالادستی یا سیاسی انتقام؟ 9 مئی کے فیصلوں پر ایک غیر جانب دار نظر.

 

اسلام آباد میں 9 مئی 2023 کے پرتشدد واقعات میں ملوث افراد کو مختلف سزائیں سنانا ایک اہم پیش رفت ہے، جسے ریاستی ادارے قانون کی بالادستی اور ریاستی وقار کے تحفظ کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔ ان واقعات کو محض سیاسی احتجاج قرار دینے کے بجائے ریاستی اور عسکری تنصیبات پر منظم حملے قرار دیا گیا، جن کے پیچھے ایک منصوبہ بندی شامل تھی۔ اسی تناظر میں، عسکری اور انسداد دہشت گردی کی عدالتوں نے شواہد کی روشنی میں متعدد افراد کو سزا سنائی۔


فوجی قیادت، خاص طور پر آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، نے بارہا اس موقف کو دہرایا کہ ملوث افراد کو مکمل قانونی کارروائی کا سامنا کرنا ہو گا، چاہے وہ منصوبہ ساز ہوں یا سہولت کار۔ کور کمانڈرز کانفرنس اور ڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب سے بھی یہی پیغام دیا گیا کہ یہ معاملہ صرف ادارہ جاتی نہیں، بلکہ قومی اہمیت کا حامل ہے۔ ان عدالتی فیصلوں سے یہ پیغام دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ ریاست اپنے وقار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گی۔


تاہم اس پوری صورت حال میں ایک پہلو یہ بھی ہے کہ کیا تمام فیصلے غیر جانب دار اور شفاف انداز میں کیے گئے؟ کچھ حلقوں کی جانب سے ان عدالتوں کی نوعیت اور شفافیت پر سوالات بھی اٹھائے گئے ہیں، خاص طور پر فوجی عدالتوں کے کردار پر۔ اگرچہ ریاست کی جانب سے دہشت گردی اور انتشار کے خلاف سخت اقدامات کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ ہر قانونی عمل عوام کے اعتماد اور انصاف کی فراہمی کا مظہر ہو، نہ کہ صرف ایک فریق کو نشانہ بنانے کا تاثر دے۔

Comments

Popular posts from this blog

شدید بارشیں اور طوفان: موسمیاتی تبدیلیوں کا خطرناک اثر

جرمن چانسلر فریڈرک مرز کا خطرناک اعلان: "۸۰ فیصد شامی باشندے تین سال میں ڈیپورٹ

روٹی اور جان کی جنگ: کیا خلیج میں کام کرنا اب موت کا سودا ہے؟