فیفا کلب ورلڈ کپ میں نسل پرستی کے الزام سے کھیل کا تقدس متاثر-
ریئل میڈرڈ کے کھلاڑی انتونیو رڈیگر نے فیفا کلب ورلڈ کپ 2025 کے ایک میچ کے دوران پاچوکا کے کپتان گوستاوو کبریٰ پر نسل پرستی کا سنگین الزام عائد کیا، جس نے عالمی سطح پر ایک بار پھر اس حساس مسئلے پر بحث کو جنم دیا۔ میچ کے آخری لمحات میں جھگڑے کے دوران رڈیگر نے الزام لگایا کہ کبریٰ نے ان کے خلاف نسلی زبان استعمال کی، جس پر ریفری نے فیفا کا اینٹی ریسزم پروٹوکول فعال کر دیا—a قدم جو بین الاقوامی کھیلوں میں برداشت کی صفر سطح کو ظاہر کرتا ہے۔
اس معاملے پر دونوں ٹیموں کی جانب سے مختلف ردعمل سامنے آئے ہیں۔ رئیل میڈرڈ کے کوچ ژابی الونسو نے رڈیگر کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اگر یہ واقعہ درست ثابت ہوا تو فیفا کو سخت اقدامات کرنے ہوں گے۔ دوسری جانب، گوستاوو کبریٰ نے نسل پرستی کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ محض ایک جذباتی جھڑپ تھی جس میں بدزبانی ضرور ہوئی، مگر اس میں نسلی تعصب کا کوئی عنصر شامل نہیں تھا۔ ان کے کوچ جائیمے لوزانو نے بھی کہا کہ وہ اس معاملے کی مکمل تفصیلات سے لاعلم ہیں لیکن انصاف کی حمایت کرتے ہیں۔
یہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کھیل کے میدان میں احترام اور مساوات کی اقدار کو ہر حال میں ترجیح دی جانی چاہیے۔ نسل پرستی جیسے واقعات نہ صرف کھیل کی روح کو مجروح کرتے ہیں بلکہ کھلاڑیوں کی ذہنی صحت پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔ فیفا کا فوری ردعمل قابلِ ستائش ہے، لیکن ضروری ہے کہ ایسی شکایات کی مکمل اور غیرجانبدارانہ تحقیق ہو تاکہ کھیل کا تقدس اور کھلاڑیوں کا اعتماد بحال رہ سکے۔
Comments
Post a Comment