پاکستان کی معیشت کے لیے متحدہ عرب امارات کی مالی معاونت کا نیا باب-
پاکستان نے اقتصادی مشکلات کے اس دور میں متحدہ عرب امارات کے بینکوں کی قیادت میں ایک ارب ڈالر کی فنڈ ریزنگ کی ہے، جو پانچ سالہ مالی سہولت پر مشتمل ہے۔ یہ مالی امداد روایتی اور اسلامی دونوں اقسام میں تقسیم کی گئی ہے، جس میں اکثریت اسلامی مالیاتی اصولوں کے مطابق ہے۔ اس سہولت کو ایشیائی ترقیاتی بینک کی جزوی ضمانت حاصل ہے، جس سے پاکستان کی مالیاتی پوزیشن مستحکم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
حکومت پاکستان نے خطے میں جاری سیاسی کشیدگی کے باوجود، خاص طور پر اسرائیل اور ایران کے تنازع کے تناظر میں، مشرق وسطیٰ کے مالیاتی اداروں سے تعاون حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ اس معاہدے کو پاکستان اور خلیجی بینکوں کے درمیان نئی شراکت داری کے آغاز کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ دبئی اسلامی بینک نے اس سہولت میں بطور واحد اسلامی گلوبل کوآرڈینیٹر کام کیا ہے جبکہ اسٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک نے مرکزی انتظامی کردار ادا کیا۔
آنے والے مالی سال میں پاکستان کی کوشش ہے کہ مشرق وسطیٰ کے تجارتی بینکوں سے چار ارب ڈالر تک فنڈنگ حاصل کی جائے تاکہ ملکی معیشت کو سہارا دیا جا سکے۔ اس کے علاوہ، متحدہ عرب امارات نے پاکستان پر واجب الادا دو ارب ڈالر کی ادائیگی موخر کرنے کی بھی رضا مندی ظاہر کی ہے۔ سعودی عرب نے بھی اپنے تین ارب ڈالر کے ذخائر کو ایک سال کے لیے بڑھا دیا ہے، جو پاکستان کی مالی استحکام کی کوششوں میں مددگار ثابت ہو رہا ہے۔
Comments
Post a Comment