ایران و اسرائیل کی تازہ کشیدگی: جنگی بیانیے کے درمیان امن کی گمشدہ راہیں-
مشرق وسطیٰ ایک بار پھر خطرناک صورت حال سے دوچار ہے۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری تازہ جھڑپوں نے عالمی سطح پر تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ اسرائیل کی جانب سے ایران کی جوہری تنصیبات، فوجی کمانڈروں اور سائنسدانوں کو نشانہ بنانے کے بعد ایران نے بھرپور جوابی کارروائی کی ہے۔ درجنوں میزائل داغے گئے، جن میں سے کئی کو اسرائیل نے روکنے کا دعویٰ کیا، لیکن دونوں جانب شہری جانوں کا ضیاع ایک افسوسناک حقیقت بن چکا ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق تہران میں ایک رہائشی عمارت پر حملے میں 60 کے قریب افراد ہلاک ہوئے، جن میں بچے بھی شامل تھے۔ اسرائیلی دفاعی وزیر نے دھمکی دی کہ اگر حملے جاری رہے تو "تہران جل جائے گا"، جبکہ اسرائیل نے 150 سے زائد اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ ایران نے بھی خبردار کیا ہے کہ اگر اس کے میزائلوں کو روکنے میں دیگر ممالک شریک ہوئے، تو وہ بھی حملے کی زد میں آ سکتے ہیں۔ یہ الفاظ اور اقدامات اس بات کا اشارہ دے رہے ہیں کہ صورتحال جلد قابو سے باہر ہو سکتی ہے۔
اس تنازعے کا سب سے بڑا نقصان عام شہریوں کو اٹھانا پڑ رہا ہے، جو خوف، بمباری اور غیر یقینی حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔ اگرچہ امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت کے امکانات ابھی مکمل ختم نہیں ہوئے، لیکن کشیدگی کی شدت ایسے کسی بھی عمل کو کمزور کر رہی ہے۔ اس وقت دنیا کو ضرورت ہے کہ وہ طاقت اور جنگ کے بیانیے سے ہٹ کر سفارتکاری، تحمل اور امن کی راہ اپنانے کے لیے کوشش کرے — کیونکہ اس راستے میں ہی خطے کی بقا ہے۔
Comments
Post a Comment